’فلوٹیلا زندہ باد‘ کے نعرے: گریٹا تھنبرگ سمیت درجنوں کارکن اسرائیل سے رہا

Share

انسانی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والی سویڈن کی شہری گریٹا تھنبرگ اسرائیل سے رہائی کے بعد پیر کو درجنوں دیگر کارکنوں کے ہمراہ یونان پہنچیں۔

انہیں اسرائیل نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے کی کوشش کے دوران گرفتار کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا تھا۔

22 سالہ گریٹا تھنبرگ اُن سینکڑوں افراد میں شامل تھیں جو ایک فلوٹیلا ،جہازوں کے قافلے، پر سوار ہو کر اسرائیلی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یورپ واپسی پر بہت سے کارکنوں نے اسرائیلی حکام کے ہاتھوں بدسلوکی کی شکایت کی۔

تھنبرگ اور دیگر 160 افراد ایتھنز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اُترے، جہاں درجنوں کارکنوں نے اُن کا پُرجوش استقبال کیا۔

انہوں نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو اسرائیل کی ’غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرے کو سمندر کے راستے توڑنے کی سب سے بڑی کوشش‘ قرار دیا۔

تھنبرگ نے کہا کہ ’یہ شرم کی بات ہے کہ اس مشن کی ضرورت پیش آئی۔ دنیا کو اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی روکنے کے لیے فوری طور پر اقدام کرنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم اپنی حکومتوں (کی طرف سے اس جارحیت کو روکنے کے‘ کم از کم اقدام بھی نہیں دیکھ رہے۔‘

ہوائی اڈے کے ہال میں کارکنوں نے ایک بڑا فلسطینی پرچم لہرایا اور نعرے لگائے: ’فلسطین کو آزادی دو‘ اور ’فلوٹیلا زندہ باد‘۔

اراکینِ پارلیمنٹ پر تشدد کی شکایت

فلوٹیلا میں شامل ایک فرانسیسی-فلسطینی رکنِ یورپی پارلیمنٹ، رِیما حسن، نے دعویٰ کیا کہ انہیں اسرائیلی پولیس نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا  ’مجھے وین میں ڈالتے وقت دو پولیس اہلکاروں نے مارا۔‘

حسن کے مطابق، اُنہیں اور دیگر گرفتار کارکنوں کو ایک جیل میں 15 افراد تک کے گروپ میں ایک ہی سیل میں رکھا گیا۔

فلوٹیلا کی سٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین آچار نے کہا کہ ’ہمیں جانوروں اور دہشت گردوں کی طرح برتاؤ کا سامنا کرنا پڑا۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نیند سے محروم رکھا گیا، پہلے 48 گھنٹوں میں نہ کھانے کو کچھ تھا، نہ پانی۔‘

اسرائیل نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یونانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ خصوصی پرواز کے ذریعے 27 یونانی اور 15 یورپی ممالک کے 134 دیگر شہری ایتھنز واپس پہنچے۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ اس نے مجموعی طور پر 171 کارکنوں کو یونان اور سلوواکیہ بھیج دیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلوواکیہ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی کہ اس کا شہری اپنے ملک لوٹا ہے، جب کہ نیدرلینڈز، کینیڈا اور امریکہ کے نو دیگر افراد بھی واپس گئے۔

یہ فلوٹیلا ستمبر کے اوائل میں سپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوا اور گزشتہ ہفتے مصر کے ساحل کے قریب اسرائیلی بحریہ نے اسے روک لیا۔

اسرائیل نے اس فلوٹیلا کو فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا ذیلی گروہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحری جہاز ایک ممنوعہ علاقے میں داخل ہوئے اور ان پر معمولی مقدار میں ہی انسانی امداد موجود تھی۔

اسرائیلی پولیس کے مطابق، فلوٹیلا میں سوار 470 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق 138 کارکن اب بھی اسرائیل میں زیرِ حراست ہیں۔

برازیلی وفد کی ترجمان، لارا سوزا، کے مطابق 13 برازیلی کارکن اب بھی قید ہیں، جن میں سے تین نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

برازیل کے صدر لولا ڈا سلوا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر مطالبہ کیا کہ ’اس غیر معقول صورتِ حال کو فوراً ختم کیا جائے‘ اور برازیلیوں کو رہا کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے فلوٹیلا کو روک کر ’بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی‘ اور اس کے شرکاء کو حراست میں رکھ کر ’ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

امن منصوبے پر حماس، اسرائیلی مذاکرات کا پہلا دور مکمل، غرہ پر حملے بدستور جاری

منگل اکتوبر 7 , 2025
Share اسرائیل اور حماس کے وفود نے پیر کو مصر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ روکنے کے منصوبے کے تحت پہلے دن بالواسطہ مذاکرات کیے، جن میں متنازع مسائل، خصوصاً غزہ سے اسرائیلی فوجوں کا انخلا اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ […]

You May Like