اسلام آباد ضلعی کچہری کے باہر خودکش دھماکہ، کم از کم 12 اموات: وزیر داخلہ

Share

پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں منگل کو ضلعی کچہری کے باہر خودکش دھماکے کم از کم 12 افراد جان سے گئے جب کہ 22 زخمی ہوئے۔

 دھماکہ کچہری کے مرکزی دروازے کے عین باہر ہوا اور وہاں کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی اور انہیں نقصان پہنچا۔

جس وقت یہ دھماکہ ہوا کچہری میں معمول کے مطابق بڑی تعداد میں وکلا اور سائلین موجود تھے۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال پمز منتقل کیا گیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل ناصر زیدی کے ہمراہ کچہری پہنچے اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ خودکش بمبار کچہری کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا لیکن کامیاب نہ ہوسکنے پر اس نے پولیس گاڑی کے قریب دھماکہ کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کی شناخت کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ معلومات میڈیا سے شیئر کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے تمام گاڑیوں پر ای ٹیگ لازمی قرار دیا جائے گا اور اس کے لیے مالکان کو دو ہفتوں کا وقت دیا جائے۔

حال ہی میں ملک کے کئی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم اسلام آباد کافی عرصے سے ایسے حملوں سے محفوظ تھا۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ایک بیان میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ دہشت گرد عناصر پاکستان کے امن و استحکام کے دشمن ہیں۔‘

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’وطنِ عزیز سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جانا ضروری ہے۔‘

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی حملے کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے۔

انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔

انہوں نے اس حملے کا الزام ’انڈین دہشت گرد پراکسیوں‘ پر عائد کیا۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ ’دہشت گردی کی عفریت کے مکمل خاتمے اور فتنہ الہندوستان و فتنہ الخوارج کے آخری دہشت گرد کی سرکوبی تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے‘

یہ خودکش حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب اسلام آباد میں دو بڑی کانفرنسیں اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیم ٹھہری ہوئی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں کوئی یہ سمجھے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان سرحدی علاقے میں اور بلوچستان کے دور دراز علاقے میں لڑرہی ہے تو آج اسلام آباد ضلع کچہری میں خود کش حملہ wake up call ہے۔

’یہ سارے پاکستان کی جنگ ہے جس میں پاک فوج روز قربانیاں دے رہی ھے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلا رہی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس ماحول میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات سے زیادہ امید رکھنا عبث ہو گا۔ کابل حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ہے جس کا پاکستان بھرپور جواب دینے کی الحمدللہ قوت رکھتا ہے۔‘

ایک روز قبل پیر کو جنوبی وزیرستان کے مرکز وانا میں فوج کے زیرانتظام کیڈٹ کالج پر خودکش بمباروں نے حملہ کیا تھا تاہم حکومت کے مطابق اس حملے کو ناکام بناتے ہوئے دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم وہاں کارروائی ابھی جاری ہے۔

خیبرپختونخوا اور سندھ کے وزرا اعلی کی جانب سے بھی اس حملے پر تشویش اور دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

27ویں ترمیم پر جسٹس اطہر من اللہ کے تحفظات بھی سامنے آ گئے

منگل نومبر 11 , 2025
Share مجوزہ ستائیسویں آئینی ترمیم نے پاکستان میں عدلیہ کے آئینی کردار، خودمختاری اور ساخت کے حوالے سے تبدیلیوں پر سینیئر وکلا کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔  عدالت عظمٰی کے کئی ججوں نے چیف جسٹس کو سوموار کو خطوط لکھتے ہوئے […]

You May Like