فیس بک کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ

Share

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک میں متعدد بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں تاکہ اپنی مرکزی ایپ کو دوبارہ فعال اور مقبول بنایا جا سکے۔

اگرچہ فیس بک ابھی بھی کافی مقبول ہے لیکن لوگوں کی روزمرہ اور سماجی گفتگو میں جو اہم مقام اسے پہلے حاصل تھا، وہ اب کافی حد تک کم ہو گیا ہے۔ اب یہ جگہ زیادہ تر انسٹاگرام جیسی دوسری میٹا ایپس نے لے لی ہے۔

میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کھل کر کہہ چکے ہیں کہ وہ فیس بک کو دوبارہ ’سماجی طور پر اثر انگیز‘ بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ وہ پہلے ہوا کرتی تھی۔

اب فیس بک نے جو بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں وہ واضح طور پر انسٹاگرام سے متاثر نظر آتی ہیں اور ان کا مقصد صارفین کو دوبارہ ایپ کی جانب متوجہ کرنا ہے۔

ان تبدیلیوں میں نیوز فیڈ کا نیا انداز شامل ہے جو پوسٹس کو دیکھنے اور ڈھونڈنے کو زیادہ آسان بنائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسے فیچرز بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو سیدھے انسٹاگرام سے لیے گئے ہیں مثلاً کسی تصویر پر ٹیپ کر کے اسے فل سکرین میں دیکھنا، یا تصویر کو لائیک کرنے کے لیے ڈبل ٹیپ کرنا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خود ایپ کی شکل و صورت بھی بدلی جا رہی ہے تاکہ صارفین نیچے موجود ٹیب بار میں ریلز، مارکیٹ پلیس اور دیگر مقبول فیچرز آسانی سے تلاش کر سکیں، یہ بھی انسٹاگرام جیسا انداز ہے۔

فیس بک پر پوسٹ کرنا بھی آسان بنا دیا جائے گا۔ انسٹاگرام کی طرح صارفین چند ٹیپس میں پوسٹ یا سٹوری شامل کر سکیں گے، میوزک لگا سکیں گے یا دوستوں کو ٹیگ کر سکیں گے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا: ’بہتری کے یہ نئے اقدامات صرف شروعات ہیں۔ ہمارا مقصد فیس بک کو کم الجھا ہوا اور زیادہ آسان بنانا ہے تاکہ آپ ان لوگوں اور دلچسپیوں پر توجہ دے سکیں جو آپ کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔‘

کمپنی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ آئندہ سال فیس بک میں مزید نئے فیچرز اور تبدیلیاں متعارف کرائی جائیں گی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

افغان سرزمین بیرونی عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی: امیر متقی

جمعہ دسمبر 12 , 2025
Share افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے جمعرات کو کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے اور جو کوئی بھی خلاف ورزی کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔  کابل میں ایک تقریب سے خطاب میں وزیر خارجہ امیر خان متقی […]

You May Like