افغانستان کا ایران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت سے انکار

Share

طالبان حکومت نے باضابطہ دعوت موصول ہونے کے باوجود ایران میں افغانستان سے متعلق ہونے والے علاقائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد تکل نے ہفتے کو ’پژواک افغان نیوز‘ کو بتایا ’اسلامی امارت کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والے علاقائی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا، تاہم افغانستان اس اجلاس میں شریک نہیں ہو گا۔‘

انہوں نے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پہلے ہی مختلف علاقائی تنظیموں، فورمز اور دوطرفہ میکانزمز کے ذریعے ہمسایہ اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور فعال روابط رکھتا ہے، جن کے نتیجے میں علاقائی افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ میں نمایاں عملی پیش رفت حاصل کی گئی ہے۔‘

ضیا احمد تکل کے مطابق افغان وزارت خارجہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں تعاون اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے نئے فورمز کی بجائے موجودہ علاقائی نظام اور ڈھانچوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ ایران آئندہ ہفتے افغانستان سے متعلق ایک علاقائی اجلاس کی میزبانی کرے گا جس میں افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک کے خصوصی نمائندے شریک ہوں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق اس اجلاس میں پاکستان، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، چین اور روس کے خصوصی نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ اسلامی امارت خطے میں باہمی اعتماد، رابطوں اور تعاون کی حامی ہے، لیکن ان مقاصد کے لیے پہلے سے موجود علاقائی پلیٹ فارمز کو ہی مؤثر اور موزوں سمجھتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان حکومت کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعے کو عالمی برادری پر زور دیا تھا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو ’اپنے بین الاقوامی فرائض اور وعدے پورے کرنے‘ اور ’اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد عناصر پر قابو پانے‘ کے لیے آمادہ کرے۔

اشک آباد میں منعقدہ ایک بین الاقوامی فورم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا ’ہم امن کے اس سفر میں ثابت قدم ہیں، لیکن بدقسمتی سے دہشت گردی کی عفریت ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے اور اس بار افسوس ناک طور پر افغان سرزمین سے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے مابین رواں برس اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد سے تناؤ کی کیفیت ہے۔ 

پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسند سرحد پار حملے کرتے ہیں، لیکن کابل اس کی تردید کرتا ہے اور اس کا موقف ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

سرحدی کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے دوحہ اور اس کے بعد استنبول میں مذاکرات کے بعد اگرچہ قطر اور ترکی کی ثالثی سے جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سرحدیں بند ہونے کی وجہ سے دوطرفہ تجارت رکی ہوئی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کرپٹو ایکسچینجز کی بدولت منی لانڈنگ کی نگرانی ممکن ہو گی: بلال بن ثاقب

اتوار دسمبر 14 , 2025
Share  وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹو اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اتوار کو کہا ہے کہ کرپٹو ایکسچینجز کو این او سی کے اجرا سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی نگرانی ممکن ہوگی۔ پاکستان نے جمعے کو کرپٹو […]

You May Like