سڈنی حملے میں باپ بیٹا ملوث، اموات کی تعداد 16 ہو گئی: آسٹریلین پولیس

Share

پولیس نے پیر کو بتایا کہ سڈنی کے مشہور بونڈائی بیچ پر یہودی مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 15 افراد کو قتل کرنے والے مبینہ حملہ آور باپ اور بیٹا تھے۔

اس واقعے کو آسٹریلیا میں تقریباً 30 برس میں ہونے والی بدترین مسلح کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق 50 سالہ حملہ آور موقع پر ہی مارا گیا جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 16 ہو گئی جبکہ ان کا 24 سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

حکام نے اتوار کے روز ہونے والے اس حملے کو ایک اینٹی سیمیٹک (یہودی مخالف) حملہ قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے 40 افراد اب بھی ہسپتال میں داخل ہیں جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جن کی حالت تشویشناک مگر مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ جان سے جانے والے افراد کی عمریں 10 سے 87 برس کے درمیان تھیں۔

عینی شاہدین کے مطابق شدید گرمی کی شام کے وقت، جب بونڈائی بیچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، یہ حملہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ساحل، سڑکوں اور قریبی گلیوں میں جان بچانے کے لیے بھاگ نکلے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ساحل کے قریب ایک چھوٹے پارک میں منعقدہ یہودی تہوار ہنوکا کی تقریب میں تقریباً ایک ہزار افراد شریک تھے۔

حملے کے دوران ایک مسلم شہری کی جانب سے مسلح شخص کو قابو کر کے اسلحہ چھیننے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی جسے جانیں بچانے والا ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چینل سیون کے مطابق اس شخص کی شناخت 43 سالہ احمد الاحمد کے طور پر ہوئی ہے جو پیشے کے اعتبار سے فروٹ شاپ کے مالک ہیں۔ ان کے ایک رشتہ دار کے مطابق احمد کو دو گولیاں لگیں اور ان کی سرجری کی گئی ہے۔

ان کے لیے قائم کیے گئے فنڈ ریزنگ پیج پر پیر کی صبح تک دو لاکھ آسٹریلوی ڈالر (تقریباً ایک لاکھ 33 ہزار امریکی ڈالر) سے زائد رقم جمع ہو چکی تھی۔

پولیس نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی تاہم جائے وقوعہ کی ویڈیوز میں حملہ آوروں کو بظاہر بولٹ ایکشن رائفل اور شاٹ گن سے فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیزی نے پیر کی صبح بونڈائی بیچ کا دورہ کیا اور جائے وقوعہ پر پھول رکھے۔

وزیراعظم نے اس حملے کو ’قوم کے لیے ایک تاریک لمحہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ’خالص برائی، یہود دشمنی اور دہشت گردی‘ کا عمل تھا۔

انہوں نے کہا: ’یہودی برادری آج دکھ میں ہے۔ آج تمام آسٹریلوی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم یہود دشمنی کو جڑ سے ختم کریں گے۔‘

البانیزی نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کرسمس استقبالیے کے دوران بونڈائی بیچ حملے کو ایک واضح یہود دشمن حملہ قرار دیتے ہوئے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پسنی: اکرم صاحب خان کی برسی پر یادگاری تقریب، ادبی و صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین

پیر دسمبر 15 , 2025
Shareپسنی: اکرم صاحب خان کی برسی پر یادگاری تقریب، ادبی و صحافتی خدمات کو خراجِ تحسین پسنی ( روزنامہ ایگل حب بلوچستان حب / رپورٹ قمبر حسین ) پسنی پریس کلب کے بانی، نامور طنز و مزاح نگار، فنکار اور شاعر مرحوم اکرم صاحب خان کی برسی کے موقع پر […]

You May Like