جموں و کشمیر انڈیا کا حصہ ہے، نہ کبھی ہو گا: پاکستان

Share

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منگل کو ’لیڈرشپ فار پیس‘ کے موضوع پر کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مشن کے قونصلر اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے جو انڈیا کا حصہ تھا، ہے، نہ کبھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ  ’یہ مؤقف صرف پاکستان کا نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا بھی ہے، خود انڈیا اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا اور اس نے کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کا حق دینے کا وعدہ کیا تھا، جو تقریباً آٹھ دہائیوں بعد بھی پورا نہیں ہوا۔‘

گل قیصر سروانی کے مطابق اس کے برعکس انڈیا اپنے زیر انتظام کشمیر میں بھاری فوجی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے جہاں بنیادی آزادیوں کو دبایا جا رہا ہے، آزاد آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو بین الاقوامی قانون اور قابض طاقت کی حیثیت سے انڈیا کی قانونی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دہشت گردی سے متعلق انڈین الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے بے بنیاد الزامات توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں، جو سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، اور شمالی امریکہ سمیت مختلف خطوں میں ریاستی سرپرستی میں قتل کی مہم کو نہیں چھپا سکتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اس بات کے قابل اعتبار شواہد موجود ہیں کہ انڈیا مختلف دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے شامل ہیں، جو پاکستان میں حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

گل قیصر سروانی نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور پہلگام واقعے کی مذمت کے ساتھ ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کی، جسے انڈیا نے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا کا طرزعمل ایک ایسے ریاستی کردار کی عکاسی کرتا ہے جو خود کو جج، جیوری اور جلاد سمجھتا ہے اور یہ کسی بھی طور پر حق دفاع نہیں بلکہ ایک خودمختار ریاست کے خلاف کھلی جارحیت تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انڈیا کی جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور انڈین فوجی و فضائی اثاثوں کو نقصان پہنچایا، جن میں جارحیت میں شامل متعدد طیاروں کو مار گرانا بھی شامل ہے۔

سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے اس معاہدے سے متعلق بیانات حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں، کیونکہ اس معاہدے میں یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے 2025 میں عدالتِ ثالثی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے نے معاہدے کی مسلسل حیثیت اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو برقرار رکھا ہے۔

انڈیا میں جمہوریت کے دعوؤں پر تنقید کرتے ہوئے گل قیصر سروانی نے کہا کہ جب کسی ملک میں شہری آزادیوں کا خاتمہ، اختلافِ رائے کا گلا گھونٹنا اور اقلیتوں کے خلاف منظم جبر ہو تو ایسے دعوؤں پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے آئینی اور قانونی عمل پر انڈین تنقید کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو پاکستان کو جمہوریت یا قانون کی حکمرانی کے اسباق دینے کا حق نہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ امن کے لیے قیادت کا تقاضا ہے کہ انڈیا انکار کی پالیسی ترک کرے، جموں و کشمیر پر ’قبضہ‘ ختم کرے، ریاستی سرپرستی میں ’دہشت گردی‘ کا سلسلہ روکے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے اور مکالمے و اچھے ہمسائیگی کے راستے کا انتخاب کرے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غزہ میں فوج بھیجنے کا دباؤ: فیلڈ مارشل کو سب سے کڑے امتحان کا سامنا

بدھ دسمبر 17 , 2025
Share پاکستان کے حالیہ عشروں کے سب سے طاقتور فوجی سربراہ کو اپنے حال ہی میں حاصل کردہ غیر معمولی اختیارات کے سب سے بڑے امتحان کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ اسلام آباد پر زور دے رہا ہے کہ وہ غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل فورس میں فوجی دستے فراہم […]

You May Like