ارشد شریف قتل کیس: جے آئی ٹی کینیا جا کر شواہد حاصل کرے گی

Share

آئینی عدالت میں ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تفصیلی رپورٹ جمع کرواتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کو صرف کینیا جا کر شواہد اکٹھے کرنے ہیں۔

پاکستانی صحافی ارشد شریف کے قتل پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا تھا اور عدالت کے حکم پر جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی۔ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد یہ مقدمہ وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہوا جس نے وفاق سے تحقیقات میں اب تک کی پیش رفت طلب کی تھی۔

بدھ کو کیس کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ وفاقی آئینی عدالت میں جمع کرائی گئی پیش رفت رپورٹ میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات شامل ہیں، اس کے علاوہ جے آئی ٹی کی تحقیقات اور آئندہ اقدامات کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں تاہم رپورٹ کے مکمل مندرجات ابھی منظر عام پر نہیں آئے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی موقع کا جائزہ لینے کے بعد اپنی تحقیقات کو حتمی شکل دے گی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت سردیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی۔

کیس کا پس منظر

2022 میں پاکستانی اینکر اور صحافی ارشد شریف کا 23 اکتوبر کو کینیا میں قتل ہوا۔ کینیا کی پولیس نے ابتدائی طور پر اعتراف کیا تھا کہ غلط شناخت کی بنیاد پر ارشد شریف کی گاڑی پولیس کی فائرنگ کی زد میں آئی۔ ملوث پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا تھا، تاہم بعد میں انہیں دوبارہ نوکری پر بحال کر دیا گیا۔

ارشد شریف کی اہلیہ، جویریہ صدیق نے کینیا میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا، جس میں پانچ افراد کو اقدام قتل کے الزام میں نامزد کیا گیا۔ وکیل کے مطابق، جس گاڑی کا پولیس پیچھا کر رہی تھی، ارشد شریف اس میں موجود نہیں تھے اور اس کے باوجود گاڑی پر فائرنگ کرنا پولیس کا مجرمانہ فعل تھا۔

آٹھ جولائی 2024 کو کینیا کی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس میں اہلیہ کی درخواست پر ملوث دو پولیس افسران کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارشد شریف کون تھے؟

ارشد شریف پاکستانی نامور صحافی اور اینکر تھے۔ اگست 2022 میں متعدد مقدمات کے بعد وہ پاکستان چھوڑ گئے، ابتدائی طور پر متحدہ عرب امارات میں مقیم رہے اور بعد میں کینیا چلے گئے۔

اسی سال اکتوبر میں انہیں کینیا میں قتل کر دیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ پولیس نے غلط شناخت کی بنیاد پر انہیں گولی مار کر قتل کیا جبکہ بعد میں میڈیا رپورٹس نے بتایا کہ قتل کے وقت ان کی گاڑی میں سوار شخص نے پیراملٹری جنرل سروس یونٹ کے افسران پر فائرنگ کی تھی، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا۔

کینیا پولیس نے بعد میں پریس کانفرنس کے ذریعے صورتحال واضح کرنے کی کوشش کی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پی ٹی آئی کی کارکنان پر دوبارہ واٹر کینن کے استعمال کی مذمت

بدھ دسمبر 17 , 2025
Share حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان سے ملاقات میں ناکامی کے بعد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا دینے والے پارٹی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے بدھ کو علی الصبح پولیس نے ایک مرتبہ پھر واٹر کینن کا استعمال کیا۔ پی […]

You May Like