کسی کے نقصان کی سوچ نہیں، پاکستانی علما کے بیان کا خیر مقدم: افغان وزیر داخلہ

Share

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک کسی دوسرے ملک کو نقصان پہنچانے کی سوچ نہیں رکھتا اور انہوں نے حال ہی میں پاکستان علما کی جانب سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری سے متعلق حالیہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

سراج الدین حقانی نے اتوار کو کابل میں ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں حال ہی منعقد ہونے والی ایک نشست افغانستان کے حق میں خیر سگالی کے خیالات کا اظہار کیا گیا جو ایک خوش آئند اقدام ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے حالیہ حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں تاہم کابل اس کی تردید کرتا ہے۔

سراج الدین حقانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کو ملک ’تمام فریقوں کو یقین دلاتا ہے کہ افغان عوام کسی ملک یا قوم کے خلاف کسی قسم کے نقصان یا غلط سوچ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

’ہم سے کسی کو کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ افغانستان اب تعمیرِ نو کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی اس راستے میں ہمارے ساتھی بنیں۔‘

گذشتہ ہفتے مجلس اتحاد امت پاکستان کے زیرِ انتظام تمام مکاتبِ فکر اور دینی تنظیموں مشاورتی اجلاس کراچی میں ہوا تھا جس کے بعد جاری اعلامیے میں پاکستان سے جڑے ہوئے دیگر اہم امور کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا ذکر بھی کیا گیا۔

اعلامیےمیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ صورت حال دونوں ملکوں کے مفاد میں نہیں ہے اور ’اس سے صرف اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘

افغانستان کی حکومت سے اعلامیے کے ذریعے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ’اپنی سر زمین کو ان مفسد گروہوں اور طبقات کی آماجگاہ نہ بنائے جو وہاں دستیاب سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں۔ قوموں اور ملکوں کے مسائل باہمی مکالمے سے حل ہوتے رہے ہیں اور اب بھی اس کا قابل عمل اور قابل قبول دیر پا حل یہی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل رواں ماہ ہی افغانستان کے 34 صوبوں سے کو کابل میں جمع ہونے والے سینکڑوں علما نے ایک قرارداد میں کہا تھا  کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

اکتوبر میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد کشیدگی بدستور قائم ہے اور اس کے اثرات باہمی تجارت پر بھی نظر آ رہے ہیں۔

پاکستان نے طورخم سرحد تجارت کے لیے بند کر رکھی ہے اور افغان حکام کے مطابق پاکستان میں ان کے تقریبا آٹھ ہزار کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے قریب پہنچ چکے: ٹرمپ

پیر دسمبر 29 , 2025
Share امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ اور یوکرینی صدر وولودی میر زیلنسکی یوکرین کی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، بلکہ شاید بہت ہی قریب ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ متنازع دونبیس خطے کا […]

You May Like