بی بی سی کا اسلامی امارت میں اختلاف کا دعویٰ بے بنیاد: ذبیح اللہ مجاہد

Share

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی ایک رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے جس میں افغان طالبان کی قیادت میں ’دراڑ‘ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ میں کہا ہے کہ ’اسلامی امارت کی صفوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ تمام امور اسلامی شریعت کے مطابق انجام دیے جاتے ہیں اور اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔‘

بی بی سی نے جمعرات کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ آڈیو کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس میں ’افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کو سنا جا سکتا ہے جو حکومت کے اندر ایک دوسرے کے مخالفین کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس تقریر میں افغان طالبان کے سربراہ کہتے ہیں کہ اندرونی اختلافات ان کی حکومت گرا سکتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بی بی سی کے مطابق ’یہ تقریر جنوری 2025 میں قندھار کے ایک مدرسے میں طالبان اراکین کی موجودگی میں کی گئی تھی جس نے کئی ماہ سے افغان طالبان کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اختلافات کی افواہوں کو ایندھن فراہم کیا تھا۔‘

تاہم افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں بی بی سی کی اس رپورٹ کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’قیادت کی جانب سے اتحاد اور یکجہتی کی اہمیت پر دیے گئے بیانات، یا بعض معمولی امور جن میں رائے کا فرق ہو سکتا ہے، انہیں ہرگز اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسلامی امارت کے اندر مضبوط اتحاد، اطاعت اور ہم آہنگی موجود ہے، اور کسی بھی قسم کے انتشار یا اختلاف کا کوئی اندیشہ نہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران تنازع: امریکہ نے قطر میں ایئر بیس پر سکیورٹی الرٹ کم کر دیا

جمعرات جنوری 15 , 2026
Share ایران کے ساتھ ممکنہ تنازعے کے پیش نظر قطر میں امریکی فضائی اڈے العدید کی سکیورٹی وارننگ لیول جمعرات کو کم کر دیا گیا ہے اور بدھ کو جاری الرٹ کے تحت عارضی طور پر منتقل کیے گئے طیارے دوبارہ اڈے پر واپس آنا شروع ہو گئے ہیں۔ برطانوی […]

You May Like