ٹرمپ کی ترک، مصری صدور کو غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت

Share

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

یہ بورڈ غزہ میں عارضی حکمرانی کی نگرانی کرے گا جہاں گذشتہ اکتوبر سے فائر بندی قائم ہے۔

وائٹ ہاؤس نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ اس نے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے ایک ایگزیکٹو پینل تشکیل دیا ہے، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، عالمی بینک کے صدر اجے بنگا، برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان شامل ہیں۔

یہ پینل حکمرانی اور علاقائی سفارت کاری سے لے کر تعمیر نو کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے حصول تک مختلف شعبوں کی نگرانی کرے گا۔

ادھر انقرہ میں ہفتے کو ترک صدارتی محل نے بتایا کہ انہیں ٹرمپ کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں اردوغان کو پینل میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

مصری وزیر خارجہ نے بھی ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرمپ کی صدر السیسی کو دی گئی دعوت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ہفتے کو کہا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ٹرمپ کی جانب سے انہیں نامزد کیا جانا ان کے لیے ’باعث فخر‘ ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’میں صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بورڈ آف پیس کے قیام میں قیادت کا کردار ادا کیا اور مجھے اس کے ایگزیکٹو بورڈ میں شامل ہونے کا اعزاز بخشا۔‘

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق وسیع تر ’بورڈ آف پیس‘ اس عبوری دور میں سٹریٹجک نگرانی فراہم کرے گا، بین الاقوامی وسائل کو مربوط کرے گا اور غزہ کو تنازع سے ترقی کی طرف منتقل کرنے کے عمل میں جواب دہی یقینی بنائے گا۔

روئٹرز کے مطابق امریکہ کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ وہ غزہ میں ایک بین الاقوامی فورس تعینات کرے اور ایک اعلیٰ نمائندہ مقرر کرے جو غزہ میں حکمرانی، سکیورٹی اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی قائم کرے۔

یہ اعلان زمینی صورت حال میں جاری اختلافات کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں حماس نے اب تک ہتھیار ڈالنے سے انکار کر رکھا ہے اور آخری اسرائیلی قیدی کی باقیات بھی واپس نہیں کیں، جو ابتدائی مرحلے کی ایک اہم شرط ہے۔

اگرچہ اکتوبر میں ہونے والی فائر بندی سے بڑے پیمانے پر جھڑپوں میں کمی ہوئی ہے لیکن وقفے وقفے سے جھڑپوں اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث دیرپا امن کا مستقبل غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کو فون، امن کے لیے امید کا اظہار

ہفتہ جنوری 17 , 2026
Share نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں امن اور استحکام کے لیے امید کا اظہار اور باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے […]

You May Like