ایرانی صدر کا امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے کا عندیہ

Share

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو روکنے کے لیے معاہدے کی امید ظاہر کرنے کے بعد امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران حکومتی ردعمل کے بعد امریکی ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی دھمکی دی اور مشرق وسطیٰ میں ایک بحری بیڑا بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

ادھر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ ایک معاہدے کے امکانات پر پرامید ہیں جبکہ تہران نے بھی زور دیا کہ وہ سفارتکاری چاہتا ہے اور کسی بھی جارحیت کے جواب میں غیر محدود ردعمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔

مذاکرات کا آغاز

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق صدر پزیشکیان نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ جوہری معاملات پر بات چیت کریں گے تاہم اس حوالے سے کسی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ خبر سرکاری اخبار ایران اور اصلاح پسند روزنامہ شرق نے بھی شائع کی۔

ایران نے کہا کہ وہ مذاکرات کے طریقہ کار اور فریم ورک پر کام کر رہا ہے جو آنے والے دنوں میں تیار ہو جائے گا، اور دونوں طرف کے پیغامات خطے کے دیگر ممالک کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا: ’چند نکات پر بات ہو چکی ہے اور ہم ہر مرحلے کی تفصیلات کا جائزہ لے کر حتمی شکل دے رہے ہیں، جسے ہم آنے والے دنوں میں مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے بھی مذاکرات کی نوعیت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ٹرمپ اور جوہری پروگرام

دوسری جانب ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ ایران کے لیے اس کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کا وقت ختم ہو رہا ہے کیوں کہ مغرب کا ماننا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

علاقائی فریقین نے بھی کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کی کوششیں کی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پچھلے ہفتے ترکی میں تھے اور مصر، سعودی عرب اور ترکی کے ہم منصبوں سے مزید رابطے کیے۔

عراقچی نے سی این این کو اس حوالے سے بتایا: ’صدر ٹرمپ نے کہا کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں، اور ہم اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت اچھا معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یقیناً اس کے بدلے میں ہم پابندیوں کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں، اس لیے یہ معاہدہ ممکن ہے۔ ناممکن چیزوں کی بات نہ کریں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

رفح کراسنگ جزوی بحال لیکن اس سرحدی گزرگاہ کی کیا اہمیت ہے؟

پیر فروری 2 , 2026
Share بحیرہ روم کے ساحل پر محصور فلسطینی پٹی غزہ کو مصر سے جوڑنے والی واحد سرحدی گزرگاہ رفح کو تقریباً ایک سال بعد پیر کو محدود تعداد میں مسافروں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ کراسنگ مئی 2024 میں اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد بند کر […]

You May Like