برطانیہ کے افغانستان سمیت چار ملکوں کے لیے تعلیمی ویزے بند

Share

برطانوی حکومت نے منگل کو افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے شہریوں کو تعلیمی ویزوں کا اجرا بند کرنے اور افغان شہریوں کے لیے ورک ویزے بھی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ 

برطانیہ کے ہوم آفس نے کہا کہ یہ سب تارکین وطن کے حوالے سے اپنے وسیع پیمانے پر اقدامات کے حصے کے طور پر کیا جائے گا۔ 

ہوم آفس نے کہا کہ ان ممالک کے طلبہ کی جانب سے پناہ کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے اور 2021 سے اب تک مجموعی طور پر تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار سیاسی پناہ کے متلاشی افراد قانونی راستے استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے ایک بیان میں کہا کہ ’برطانیہ جنگ اور ظلم و ستم سے فرار ہونے والے لوگوں کو ہمیشہ پناہ فراہم کرے گا، لیکن ہمارے ویزا سسٹم کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں ان شہریوں کے ویزے سے انکار کرنے کا بے مثال فیصلہ لے رہی ہوں، جو ہماری سخاوت کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوم آفس نے کہا کہ 2021 اور 2025 کے درمیان افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان کے طلبہ کی پناہ کی درخواستوں کی تعداد میں 470 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

تارکین وطن برطانوی سیاست میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے جب کہ سخت دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے نے اپنے مائیگریشن مخالف موقف کے ساتھ رائے عامہ کے جائزوں میں اضافہ کیا ہے۔

یکے بعد دیگرے حکومتوں نے فرانس سے سمندر عبور کرنے والی چھوٹی کشتیوں کو روکنے کے لیے جدوجہد کی ہے، جو بڑی تعداد میں غیر دستاویزی تارکین وطن کو لاتی ہیں، لیکن حکام کو دوسرے راستوں سے داخل ہونے والے پناہ کے متلاشیوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے بھی دباؤ کا سامنا ہے۔

ہوم آفس نے کہا کہ حکومت نے ’2025 کے دوران طلبہ کی پناہ کی درخواستوں میں 20 فیصد کمی کی ہے، مزید کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ سٹڈی ویزے پر آنے والے اب بھی سسٹم میں تمام درخواستوں کا 13 فیصد ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایران میں اس وقت انچارج کون ہے، نیا سپریم لیڈر کون ہوسکتا ہے؟

بدھ مارچ 4 , 2026
Share چار دن قبل ایران پر شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت ایران کے 50 کے قریب سویلین اور فوجی رہنما مارے جا چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرک […]

You May Like