انڈیا، کینیڈا جوہری معاہدہ عالمی امن و سکیورٹی کو غیر مستحکم کر سکتا ہے: پاکستان

Share

پاکستان نے جمعرات کو انڈیا اور کینیڈا کے درمیان یورینیم کی فراہمی اور جوہری ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں تعاون کے معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص استثنیٰ سے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی فریم ورک کی ساکھ مجروح ہو گی اور علاقائی و عالمی امن اور سکیورٹی کو مزید غیر مستحکم کرنے کا خطرہ پیدا ہو گا۔

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے رواں ہفتے انڈیا کا دورہ کیا جس میں دونوں ملکوں نے یورینیم کی فراہمی کے طویل المدتی معاہدے پر دستخط کئے۔

اس معاہدے کے تحت کینیڈا طویل مدت تک انڈیا کے ایٹمی بجلی گھروں کے لیے یورینیم فراہم کرے گا۔ دونوں فریقوں نے چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر) اور جدید جوہری ٹیکنالوجی پر تعاون پر بھی اتفاق کیا۔

جمعرات کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرانی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ انتظام سول جوہری تعاون کے شعبے میں کسی مخصوص ملک کو دی گئی ایک اور رعایت کی غمازی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1974 میں انڈیا کا ایٹمی تجربہ، جو کینیڈا کی جانب سے پرامن مقاصد کے لیے فراہم کردہ ری ایکٹر میں پیدا ہونے والے پلوٹونیم کو استعمال کرتے ہوئے کیا گیا تھا، براہ راست جوہری سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے قیام کا باعث بنا تھا۔

’ایک ایسی ریاست جس کے اقدامات نے عالمی برآمدی کنٹرولز کے قیام کو ناگزیر بنا دیا تھا، اب اسے مخصوص معاہدوں کے تحت ترجیحی رسائی دی جا رہی ہے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ ’انڈیا نے نہ تو اپنی تمام سول جوہری تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے حفاظتی انتظامات کے تحت رکھا ہے اور نہ ہی اس بندوبست کے تحت ایسا کرنے کی کوئی لازمی ذمہ داری قبول کی ہے۔

’کئی تنصیبات بین الاقوامی معائنے سے باہر ہیں۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے کے ساتھ عدم پھیلاؤ کی کون سی ٹھوس یقین دہانیاں، اگر کوئی ہیں تو، منسلک کی گئی ہیں؟‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تزویراتی نتائج بھی اسی قدر تشویش ناک ہیں۔ بیرون ملک سے یورینیم کی یقینی فراہمی انڈیا کے مقامی ذخائر کو فوجی استعمال کی آزاد کر دیتی ہے، جس سے اس کے فسل مواد کے ذخائر میں توسیع ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو گا اور جنوبی ایشیا میں سٹریٹیجک توازن میں موجودہ عدم مساوات مزید گہرا ہوگا۔ اس تناظر میں، یہ اقدام بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام کے تئیں کینیڈا کے عزم اور اس فریم ورک کے تحت اس کی متعلقہ ذمہ داریوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ سول جوہری تعاون کو ایک غیر امتیازی اور معیار پر مبنی طریقہ کار کے تابع ہونا چاہیے جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا حصہ نہ بننے والی ریاستوں پر یکساں طور پر لاگو ہو۔ 


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

متاثرین گل پلازہ کا عارضی بازار: ’کاروبار کے گر سکھانے والے والد آج نہیں ہیں‘

جمعرات مارچ 5 , 2026
Share کراچی کا گل پلازہ محض ایک بازار نہیں تھا بلکہ گھروں کو نکھارنے کا مرکز سمجھا جاتا تھا، جو اب جل کر راکھ ہو چکا ہے اور یہاں کام کرنے والے کئی دکان داروں کا کاروبار ختم ہو چکا۔  لیکن زندگی رکنے کا نام نہیں۔ گل پلازہ متاثرین بھاری […]

You May Like