|
امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔ اسرائیل کا لبنان میں جنگ بندی سے انکار، 10 منٹ میں 100 سے زائد حملے۔ امریکی اور ایرانی وفود کی مذاکرات کے لیے جمعے کو اسلام آباد آمد متوقع۔ لائیو اپ ڈیٹس |
اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں 300 سے زیادہ اموات: لبنانی وزارت صحت
لبنان کی وزارت صحت نے جمعرات کو کہا کہ ایک روز قبل ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں 300 سے زیادہ افراد جان سے گئے اور کم از کم 1150 زخمی ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں، وزارت نے کہا کہ ’بدھ کو اسرائیلی دشمن کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 303 شہید اور 1,150 زخمی ہوئے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ 2 مارچ کو اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے اموات کی مجموعی تعداد 1,889 ہو گئی ہے، جبکہ 6092 زخمی ہیں۔
وزارت نے خبردار کیا کہ اموات کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ تلاش کی کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی ہسپتالوں میں منتقل کی گئی لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی ہو سکتے ہیں۔
لبنان کی موجودہ صورت حال کا حل جنگ بندی اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہیں: لبنانی صدر
لبنان کے صدر جنرل جوزف عون نے جمعرات کو کہا ہے کہ ان کا ملک جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اس کا واحد حل اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کا حصول ہے، جس کے بعد ان کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں۔
ایک وفد سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ بین الاقوامی رابطے کر رہے ہیں اور ان کی اس تجویز کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں پذیرائی مل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اندرونی جھگڑوں کی اجازت نہین دیں گے اور ہر ایک کو ریاست اور اس کی جائز قوتوں پر یقین ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے بغیر کوئی نجات نہیں ہے۔
لبنانی صدر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور فوج تمام تر مشکل حالات اور ان کے پاس دستیاب معمولی صلاحیتوں کے باوجود سکیورٹی اور استحکام کو نافذ کرنے کے لیے اپنے فرائض پوری طرح سے انجام دے رہے ہیں۔
’شہریوں کو سکیورٹی کے استحکام کو برقرار رکھنے اور سکیورٹی فورسز اور میونسپلٹیوں کے ساتھ قریبی تعاون میں شراکت دار بھی ہونا چاہیے۔‘
اسرائیل لبنان کے ساتھ جلد از جلد امن مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے: نتن یاہو
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے اپنی کابینہ کو حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان ’امن تعلقات‘ قائم کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔
ان کے دفتر نے ایک بیان میں لکھا، ’اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے لیے لبنان کی بار بار کی درخواستوں کی روشنی میں، میں نے کل کابینہ کو ہدایت کی کہ وہ جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرے۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیبافی نے ان حملوں کے خلاف سخت ردعمل کی دھمکی دی، جبکہ لبنانی وزیر اعظم نے جمعرات کو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شرید سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی حملے بند کروانے کے لیے تعاون مانگا۔
پریس ریلیز میں مزید کہا گیا کہ ’مذاکرات میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن تعلقات قائم کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اسرائیل لبنان کے وزیر اعظم کی طرف سے بیروت کو غیر مسلح کرنے کے آج کے مطالبے کو سراہتا ہے۔‘
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یشیئل لیٹر مذاکرات میں ملک کی نمائندگی کریں گے۔
یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب اسرائیل نے 2 مارچ کو حزب اللہ کے ساتھ اپنی جنگ کے آغاز کے بعد سے لبنان پر حملوں کی اپنی سب سے بڑی لہر شروع کی تھی جس میں 200 سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
لبنان کی کابینہ نے جمعرات کو حزب اللہ کو ایک انتباہ میں، سیکورٹی فورسز کو بیروت میں ہتھیاروں کو خصوصی طور پر ریاستی اداروں تک محدود رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم نواف سلام نے کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ ’فوج اور سکیورٹی فورسز سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر بیروت گورنریٹ پر مکمل ریاستی اختیار کو مضبوط کرنا شروع کریں اور صرف جائز حکام کے ہاتھوں میں ہتھیاروں کی اجارہ داری قائم کریں۔‘
لبنانی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد مارچ کے آغاز میں حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی لیکن اس فیصلے سے ایران کے حمایت یافتہ گروپ کو فوجی کارروائیوں سے باز نہیں آیا ہے۔
بیروت نے بھی 2025 میں اس گروپ کو غیر مسلح کرنے کا عہد کیا تھا، جو لبنان کی 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد اپنے ہتھیار رکھنے والا واحد گروپ تھا۔
دسمبر میں، لبنانی اور اسرائیلی سویلین نمائندوں نے کئی دہائیوں میں پہلی بار براہ راست بات چیت کی، جو جنگ بندی کی نگرانی کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔
اس سے پہلے اسرائیل اور لبنان، جن کے کوئی باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، نے فوجی افسران کو کردار میں رکھنے پر اصرار کیا تھا۔ (اے ایف پی)
پاکستانی وزیر خارجہ کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ
پاکستان کے نائب وزیر عظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحٰق ڈار نے جمعرات کو سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیر اعظم نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں میں پاکستان کی سعودی عرب کی مسلسل حمایت کی تعریف کی۔
دونوں رہنماؤں نے دیرپا امن کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتی مصروفیات کی اہمیت پر زور دیا اور قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے لبنان کی پاکستان سے تعاون کی درخواست
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو لبنانی ہم منصب نواف سلام سے ٹیلیفون پر بات کی اور ان کے ملک کے خلاف اسرائیل کی جاری جارحیت کی شدید مذمت کی اور ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی جذبے کے تحت ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی امن کی کوششوں پر شکریہ ادا کرتے ہوئے، لبنان کے وزیر اعظم نے لبنان اور اس کے عوام کو نشانہ بنانے والے حملوں کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور بحرین کے بادشاہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ
اسلام آباد میں ایوان وزیراعظم سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
گفتگو کے دوران شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کی کامیاب کوششوں پر وزیراعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پیش رفت سے خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔
وزیراعظم نے پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت پر شاہ بحرین کا شکریہ ادا کیا اور گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران حملوں کے تناظر میں بحرینی قیادت کی جانب سے دکھائے گئے مثالی تحمل کو سراہا۔
انہوں نے حالیہ کشیدگی کے دوران بحرین میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
لبنان کے مسئلے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر ’سخت ردعمل‘ ہو گا: ایرانی سپیکر
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے کہا ہے کہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا ’لازمی حصہ‘ ہے۔
ایرانی اسپیکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ (پاکستان کے) وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح طور پر لبان کے مسئلے پر زور دیا اور اب اس سے واپسی یا تردید کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر ‘سخت ردعمل’ کا انتباہ دیا۔
فرانسیسی صدر کا شہباز شریف سے رابطہ، لبنان پر جارحیت پر تشویش
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعرات کی سہ پہر وزیر اعظم شہباز شریف سے فون پر رابطہ کیا اور پاکستان کی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر مبارکباد پیش کی۔
دفتر کارجہ کے ایک بیان کے مطابق صدر میکرون نے اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے وزیراعظم کو نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت پر صدر میکرون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے لبنان میں جاری جارحیت پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا اور تشدد اور قتل و غارت گری کے خاتمے کی فوری ضرورت پر زور دیا، تاکہ پورے خطے میں دوبارہ امن قائم کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان اور یورپی یونین میں رابطہ، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے جمعرات کو یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کاجا کالس سے ٹیلیفون پر بات کی۔
دونوں فریقوں نے لبنان میں جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مشرق وسطیٰ میں عارضی جنگ بندی کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا۔
یورپی یونین کے نمائندے نے امن اور استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں میں پاکستان کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ میں رابطہ
سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے مطابق جمعرات کو وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے شہزادہ فیصل بن فرحان کو ٹیلیفون کال کی جس میں خطے کی موجودہ صورت حال اور کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ رہنما کو قتل کرنے کا دعویٰ
اسرائیل نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کے رات گئے بیروت پر کیے گئے حملے میں حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم مارے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حزب اللہ نے تاحال اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے تصدیق کی صورت میں نعیم قاسم کی موت حزب اللہ اور تہران کے لیے بڑا دھچکہ ہو گی کیوں کہ لبنانی تنظیم مشرق وسطیٰ میں ایران کے اہم اتحادیوں میں سے ایک ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے شروع کرنے کے دو دن بعد، دو مارچ کو اسرائیل پر حملہ کر کے حزب اللہ خطے میں شروع ہونے والی جنگ میں شامل ہو گئی تھی۔
ایرانی وفد امریکہ سے مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے: ایرانی سفیر
پاکستان کے لیے ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ عوام میں شکوک و شبہات کے باوجود وفد پاکستانی وزیر اعظم کی دعوت پر آج اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر بیان میں کہا کہ ’ایرانی عوامی رائے میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کی وجہ سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔
’لیکن اس کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد آج رات سنجیدہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جو ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکات پر مبنی ہوں گے۔‘
بعد ازاں ’ایکس‘ پر مذکورہ پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔
پاکستان کی لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت
پاکستان نے جمعرات کو لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے امن کی عالمی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیلی اقدامات خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہ کہ ’پاکستان عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔
’پاکستان اس مشکل وقت میں لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و استحکام کی حمایت کرتا ہے۔‘
حقیقی معاہدے تک فوجی دستے تعینات رہیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات کہا ہے کہ ایران کے قریب تعینات امریکی فوجی دستے اس وقت تک علاقے میں موجود رہیں گے جب تک ایک ’حقیقی معاہدہ‘ طے نہیں پا جاتا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی ایک عارضی جنگ بندی کا آغاز ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’تمام امریکی جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار، اضافی گولہ بارود، ہتھیاروں اور دیگر ضروری سازوسامان کے ساتھ ایران میں اور اس کے اطراف میں اپنی جگہ پر موجود رہیں گے، جب تک کہ طے پانے والے حقیقی معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو جاتا۔‘
’اگر کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہوا، جو کہ بہت کم امکان ہے، تو پھر لڑائی شروع ہو جائے گی اور وہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی، بہتر اور طاقتور ہوگی جیسی کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔‘
لبنان جنگ بندی کا حصہ کبھی تھا ہی نہیں: امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے لبنان کو جنگ بندی حصہ کبھی قرار نہیں دیا۔
جے ڈی وینس نے ہنگری میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں، اگر ایران ان مذاکرات کو ایک ایسے تنازع میں ٹوٹنے دینا چاہتا ہے جس میں اسے لبنان کے معاملے پر شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا— جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جسے امریکہ نے کبھی بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا— تو یہ آخرکار ان کا اپنا فیصلہ ہے۔
’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بے وقوفانہ فیصلہ ہوگا، لیکن یہ ان کی مرضی ہے۔‘
لبنان پر اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد اموات
لبنان کی سول ڈیفینس سروس نے کہا ہے کہ بدھ کو اسرائیلی حملوں میں 250 سے زائد افراد جان سے گئے اور ایک ہزار سے زخمی ہوئے۔
اے ایف پی کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بغیر کسی وارننگ کے ہونے والے اسرائیلی حملوں نے خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اموات کے پیمانے کو ’خوفناک‘ قرار دیا ہے۔
ادھر ایران اور امریکہ کے درمیان کمزور جنگ بندی جمعرات کو دوسرے دن میں داخل ہو گئی ہے جب کہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر شدید بمباری کے بعد تہران نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دو ہفتے کی جنگ بندی اور مذاکرات پر اتفاق رائے میں دراڑیں بدھ کو اس وقت تیزی سے سامنے آئیں جب اسرائیل نے پڑوسی ملک لبنان پر اپنے شدید ترین حملے کیے، جن میں گنجان آباد وسطی بیروت بھی شامل ہے۔ یہ حملے مارچ کے شروع میں ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے جنگ میں شامل ہونے کے بعد سے سب سے بڑے تھے۔
اسرائیل کہا کہ حزب اللہ کے خلاف اس کی جنگ منگل کو رات گئے طے پانے والی امریکہ اور ایران جنگ بندی کا حصہ نہیں تھی۔ اس دلیل کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی دہرایا جو پاکستان میں تہران کے ساتھ مذاکرات کی قیادت کرنے والے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا، ’اگر ایران لبنان کے معاملے پر ان مذاکرات کو ناکام ہونے دینا چاہتا ہے جس کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، اور جسے امریکہ نے ایک بار بھی جنگ بندی کا حصہ نہیں کہا، تو یہ بالآخر ان کی مرضی ہے۔‘
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف جنگ بندی کو دھمکی دیتے ہوئے دکھائی دیے۔ انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’مذاکرات کی قابل عمل بنیاد‘ کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جا چکی ہے، جس سے مزید بات چیت ’غیر معقول‘ ہو گئی ہے۔
قالیباف نے جنگ بندی کے منصوبے کی مبینہ امریکی خلاف ورزیوں کی تین وجوہات گنوائیں جن میں لبنان میں مسلسل حملے، ایک ڈرون کا ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونا، اور ایران کے یورینیم کی افزودگی کے حق سے انکار شامل ہیں۔

