|
امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو روز قبل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ مذاکرات ہوئے۔ لائیو اپ ڈیٹس |
اسلام آباد مذاکرات محض ایک ایونٹ نہیں ’جاری رہنے والا عمل‘ ہیں: ایرانی سفیر
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے آج اسلام آباد مذاکرات کو ایک اہم سفارتی عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جو باہمی اعتماد اور سیاسی عزم کے ذریعے تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ایک مضبوط سفارتی بنیاد فراہم کی ہے، جس سے مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک پاکستان نے ان مذاکرات کے انعقاد میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی سفیر نے بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خیر سگالی اور مثبت سفارتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے بھرپور انتظامات کیے، جس کے باعث مہمانوں کو ایک پُرامن، منظم اور محفوظ ماحول میسر آیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم نے وقار، خود اعتمادی اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات کے ذریعے اپنے قومی مفادات اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔
سفیر ایران نے امید ظاہر کی کہ اگر تمام فریقین باہمی اعتماد اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو یہ سفارتی عمل خطے میں استحکام اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر مشاورت
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے آج ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے جس میں اہم سفارتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب کو اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کے لیے جنگ بندی کے وعدوں پر عمل درآمد کرنا نہایت ضروری ہے۔
نائب وزیراعظم نے مذاکرات کے عمل میں پاکستان کے سہولت کار کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنا تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
سعودی عرب میں عراقی سفر وزارت خارجہ طلب، حملوں کی مذمت: سعودی نیوز ایجنسی
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے عراق سے ہونے والے حملوں پر احتجاج کے لیے عراقی سفیر کو باضابطہ شکایت پیش کرنے کے لیے طلب کیا۔
سعودی پریس ایجنسی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وزارت نے ’مملکت اور خلیجی ریاستوں کے خلاف عراقی سرزمین سے شروع ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔‘
پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں اہم علاقائی و عالمی معاملات پر بات چیت کی گئی۔
اس گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور فریقین کے درمیان روابط کو آسان بنانے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنا انتہائی ضروری ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے: ایران
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران کی سیکورٹی فورسز کو جہاز رانی کے اہم ترین راستے، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کے حکم کے بعد سامنے آیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اس راستے سے گزرنے والی تمام ٹریفک مسلح افواج کی مکمل نگرانی میں ہے۔
ایران نے دشمن ممالک کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا ’غلط اقدام‘ کی صورت میں وہ اس علاقے کے ’مہلک بھنور (Deadly Vortex)‘ میں پھنس جائیں گے۔
بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والی شست (Crosshairs) پر دکھایا گیا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 3000 سے زیادہ اموات: ایرانی تنظیم
ملک کی عدلیہ کے ماتحت کام کرنے والی ایرانی ادویات کی تنظیم کے سربراہ نے اتوار کو بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 3375 افراد جان سے گئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کی رپورٹ کے مطابق، عباس مسجدی نے کہا، ’حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران، 3375 شہدا کی لاشوں کی شناخت قانونی طب کی تنظیم نے سائنسی اور خصوصی طریقوں سے کی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اموات میں 2875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں۔
وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں غیر سرکاری کے علاوہ گاڑیوں کا داخلہ تاحال بند: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس نے اتوار کی شام کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں سرکاری گاڑیوں کے علاوہ دوسری ٹریفک کا داخلہ بند رہے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ کشمیر چوک سے سرینہ چوک اور سری نگر ہائی وے کی طرف آمدورفت بند رہے گی، جبکہ بھارہ کہو سے آنے والے شہری کشمیر چوک سے کلب روڈ کے ذریعے اسلام آباد آ سکیں گے اور مری روڈ سے کلب روڈ استعمال کرتے ہوئے کشمیر چوک سے بھارہ کہو جاسکتے ہیں۔
پولیس بیان میں مزید بتایا گیا کہ سیونتھ ایونیو پُل سے سرینا چوک تک سری نگر ہائی وے بند رہے گی، جبکہ زیرو پوائنٹ سے سیونتھ ایونیو فلائی اوور تک دونوں سائیڈ روڈ ٹریفک کے لئے کھلی ہے اور شہری سیونتھ ایونیو انٹر سیکشن سے جی سیکس اور سیون یا چاند تارہ چوک کی طرف جاسکتے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے شہریوں سے گزارش کی کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق اپنا سفر کریں۔
مذاکرات اچھے رہے، آبنائے ہرمز بند کرنے کا کام فوراً شروع ہوگا: صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے جوہری ہتھیاروں پر سخت مؤقف کے جواب میں اتوار کو آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں یہ تسلیم کیا کہ پاکستان میں طویل مذاکرات ’اچھی طرح‘ ہوئے اور ’زیادہ تر نکات پر اتفاق ہ گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر ’سخت‘ رہا۔
پوسٹ میں ٹرمپ نے مزید لکھا کہ ’فوری طور پر، امریکی بحریہ، دنیا کی بہترین بحریہ، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے تمام جہازوں کو بلاک کرنے کا عمل شروع کر دے گی۔‘
امریکی صدر کی ٹروتھ سوشل پر پوسٹوں کا اردو میں ترجہ درج ذیل ہے:
ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کیا تھا، اور انہوں نے جانتے بوجھتے ایسا کرنے میں ناکامی دکھائی۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے بہت سے لوگوں اور ممالک کو بے چینی، افراتفری اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پانی میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، حالانکہ ان کی تمام بحریہ اور زیادہ تر ’مائن ڈراپرز‘ (بارودی سرنگیں گرانے والے جہاز) مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے انہوں نے ایسا کیا ہو، لیکن کون سا جہاز کا مالک یہ خطرہ مول لینا چاہے گا؟ ایران کی ساکھ اور ان کے ’رہنماؤں‘ کے بچا کھچا وقار کو بہت بڑی بے عزتی اور مستقل نقصان پہنچا ہے، لیکن ہم اب ان تمام باتوں سے آگے نکل چکے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا، بہتر ہوگا کہ وہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھولنے کا عمل تیز رفتاری سے شروع کریں! ان کی جانب سے قانون کی ہر کتاب کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
مجھے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر نے اس ملاقات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی ہے جو اسلام آباد میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی مہربان اور انتہائی قابل قیادت میں ہوئی تھی۔ وہ بہت ہی غیر معمولی انسان ہیں، اور انڈیا کے ساتھ ایک ہولناک جنگ، جس میں 30 سے 50 ملین (3 سے 5 کروڑ) جانیں ضائع ہو سکتی تھیں، کو رکوانے پر میرا مسلسل شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مجھے یہ سن کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ جس انسانیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ناقابل فہم ہے۔
ایران کے ساتھ ملاقات صبح سویرے شروع ہوئی اور پوری رات جاری رہی، تقریباً 20 گھنٹے۔ میں بڑی تفصیل میں جا سکتا ہوں اور ان بہت سی چیزوں کے بارے میں بات کر سکتا ہوں جو حاصل کی گئی ہیں، لیکن صرف ایک چیز اہمیت رکھتی ہے۔ ایران اپنے جوہری عزائم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے! کئی لحاظ سے، جن نکات پر اتفاق ہوا وہ ہمارے فوجی آپریشنز کو منطقی انجام تک جاری رکھنے سے بہتر ہیں، لیکن وہ تمام نکات اس بات کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ایٹمی طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور ناقابل پیش گوئی لوگوں کے ہاتھ میں رہنے دی جائے۔ میرے تینوں نمائندے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، حیران کن طور پر ایران کے نمائندوں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری کے بہت دوست اور معزز بن گئے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سب سے اہم واحد مسئلے پر بالکل غیر لچکدار تھے اور، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے، شروع ہی سے، اور کئی سال پہلے بھی، ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا!
چنانچہ، صورتحال یہ ہے کہ ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن واحد ’نکتہ جو واقعی اہمیت رکھتا تھا، یعنی ’جوہری (ہتھیار)‘، اس پر اتفاق نہیں ہوا۔ فوری طور پر نافذ العمل، ریاست ہائے متحدہ کی بحریہ، جو دنیا کی بہترین بحریہ ہے، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کر دے گی۔ ایک وقت آئے گا جب ہم ’سب کو اندر جانے کی اجازت، سب کو باہر آنے کی اجازت‘ کی بنیاد پر پہنچ جائیں گے، لیکن ایران نے محض یہ کہہ کر کہ ’وہاں کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو سکتی ہے‘ جس کے بارے میں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ایسا ہونے نہیں دیا۔ یہ عالمی بھتہ خوری ہے، اور ممالک کے قائدین، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قائدین، کو کبھی بھی بلیک میل یا مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔
میں نے اپنی بحریہ کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول (ٹیکس) ادا کیا ہے۔ غیر قانونی ٹول ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔ ہم ان بارودی سرنگوں کو تباہ کرنے کا کام بھی شروع کریں گے جو ایرانیوں نے آبنائے میں بچھائی ہیں۔ کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائے گا، اسے جہنم واصل کر دیا جائے گا! ایران کسی بھی دوسرے سے بہتر جانتا ہے کہ اس صورتحال کو کیسے ختم کرنا ہے جس نے پہلے ہی ان کے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، ان کا اینٹی ایئر کرافٹ اور ریڈار نظام بیکار ہے، خامنہ ای اور ان کے زیادہ تر ’رہنما‘ مر چکے ہیں، یہ سب ان کے جوہری عزائم کی وجہ سے ہوا ہے۔ ناکہ بندی جلد شروع ہو جائے گی۔ اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔ ایران کو اس بھتہ خوری کے غیر قانونی فعل سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وہ پیسہ چاہتے ہیں اور، اس سے بھی اہم بات، وہ جوہری طاقت چاہتے ہیں۔ مزید برآں، ایک مناسب وقت پر، ہم مکمل طور پر ’لاکڈ اینڈ لوڈڈ‘ ہیں، اور ہماری فوج ایران کا جو تھوڑا بہت حصہ بچا ہے اسے ختم کر دے گی۔
کامیابی کے لیے ہو کسی کو تکلیف دہ رعایتیں دینے کی ضرورت ہے: اومانی وزیر خارجہ
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد اومان کے وزیر خارجہ نے اتوار کو مزید مذاکرات اور جنگ بندی میں توسیع کا مطالبہ کیا ہے۔
بدر البوسیدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’میں جنگ بندی میں توسیع اور بات چیت جاری رکھنے پر زور دیتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کامیابی کے لیے ہر کسی کو تکلیف دہ رعایتیں دینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن یہ ناکامی اور جنگ کے درد کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔‘
When I met Vice President Vance just hours before the war began, I formed an impression that both he and the President had a genuine and strong preference to avoid the entanglements of war. So I urge that the ceasefire be extended and talks continue. Success may require… https://t.co/aPTweoB8h3
— Badr Albusaidi – بدر البوسعيدي (@badralbusaidi) April 12, 2026
ایران کا وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے بعد واپس روانہ
امریکی کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے والا ایرانی وفد واپس روانہ ہو گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنش فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی وفد کو الوداع کیا۔
ایرانی وفد میں مجلس شوری کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کروانے کے لیے سفارت کاری ضروری ہے: یورپی یونین
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، یورپی یونین کے ترجمان نے اتوار کو کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری ’ضروری‘ ہے۔
پاکستان کی میزبانی میں امریکہ ایران مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے، یورپی یونین کے خارجہ امور کے ترجمان انوار الانونی نے کہا کہ ’ہم پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ برسلز اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تصفیے تک پہنچنے کی مزید کوششوں میں تعاون کرے گا۔
سکیورٹی انتظامات کے باعث دارالحکومت کی بعض سڑکوں پر ٹریفک میں خلل پڑ سکتا ہے: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری میں کہا ہے کہ دارالحکومت میں غیر ملکی وفود کی آمد و رفت جاری ہے، جس کی وجہ سے کلب روڈ، مارگلہ روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کی آمدورفت وقفے وقفے سے معطل رہے گی، جبکہ ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام راستے بند ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں اسلام آباد پولیس نے شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، تحمل سے کام لیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔
پولیس نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ ریئل ٹائم ٹریفک اپ ڈیٹس کے لیے اس کے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز سے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
اہم ٹریفک ایڈوائزری
غیر ملکی وفود کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔
مختلف اوقات میں کلب روڈ، مری روڈ اور ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک روکی جارہی ہے۔
ریڈزون کے تمام راستے تاحال بند ہیں۔
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ صبروتحمل کا مظاہرہ… pic.twitter.com/PJWDSE2AEJ
— Islamabad Police (@ICT_Police) April 12, 2026
روس، ایران اور امریکہ کے درمیان تصفیے کی سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے: پوتن
روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اتوار کو مشرق وسطیٰ میں امن کی واپسی کی غرض سے تصفیے کے لیے سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ پیشکش ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں سامنے آئی۔
دونوں رہنماوؤں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے اور اسلام آباد مذاکرات پر گفتگو کی۔
نیوز ایجنسی کے مطابق پوتن نے کہا کہ روس مشرق وسطیٰ میں تصفیے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
تمام امریکی مذاکرات کار اسلام آباد سے رخصت ہو چکے ہیں: غیر ملکی میڈیا
ایک امریکی اہلکار نے اتوار کو کہا کہ ایران کے ساتھ ناکام مذاکرات کی پوری امریکی مذاکراتی ٹیم نے اسلام آباد میں چھوڑ دیا ہے اور پاکستانی دارالحکومت میں بیک چینل بات چیت کے لیے کسی کو نہیں چھوڑا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکی نائب صدر کا جہاز ایئر فورس 2 ایندھن بھروانے کی غرض سے جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس پر رکا۔
اسے دوران جہاز پر موجود ایک امریکی اہلکار نے ایک امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹیم کا کوئی رکن اسلام آباد میں پیچھے نہیں رہا، بشمول چیف مذاکرات کار سٹیو وٹ کوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے۔
ایران کے ساتھ تنازعے پر طویل مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے بعد قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں کہ ٹرمپ کے ایک یا دونوں ایلچی مزید بات چیت کے لیے پیچھے رہ سکتے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس اور برطانوی نیوز ایجنسی نے بھی رپورٹ کیا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم میں سے اسلام آباد میں کوئی نہیں ٹھہرا۔
اسلام آباد مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا ’مایوس کن‘ ہے: برطانیہ
برطانوی وزیر ویس سٹریٹنگ نے اتوار کو کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، جو کہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا بیانات کو ’اشتعال انگیز‘ بھی قرار دیا۔
سکائی نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’یہ واضح طور پر مایوس کن ہے کہ ہم ابھی تک مذاکرات میں کوئی پیش رفت اور ایران کی جنگ کا پائیدار خاتمہ نہیں دیکھ سکے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’سفارت کاری میں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جب تک کامیابی نہ ملے، کوشش جاری رہتی ہے۔ اس لیے اگر یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوشش ترک کر دی جائے۔‘
ویس سٹریٹنگ نے بحران کے دوران ٹرمپ کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ایک ہفتے میں امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر ’انتہائی سخت، اشتعال انگیز اور غیر معمولی‘ باتیں کیں۔
انہوں نے کہا: ’یہ کہنا متنازع نہیں کہ ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی دینا واقعی ایک غیرمعمولی بات ہے۔‘
سٹریٹنگ نے کہا کہ برطانیہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے بجائے ان کے اقدامات کی بنیاد پر پرکھتا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال کا واحد حل ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہے جو اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔
ادھر کیئر سٹارمر اور عمان کے سلطان ہیثم بن طارق نے بھی امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات جاری رکھیں۔
اتوار کو ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان میں ہونے والے امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا اور فریقین پر زور دیا کہ وہ کسی حل تک پہنچنے کی کوشش جاری رکھیں۔
ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے مطابق رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جنگ بندی برقرار رکھنا ضروری ہے اور تمام فریقین کو مزید کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے۔
پاکستانی شہری ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہ ہونے پر ناخوش
پاکستانی شہری ہفتے اور اتوار کو اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں معاہدہ نہ ہونے پر ناخوش نظر آتے ہیں۔
مثبت تجاویز دیں لیکن امریکہ ہمارا اعتماد حاصل نہیں کر سکا: ایران
امریکہ سے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ ایرانی وفد میں ان کے ساتھیوں نے مستقبل کے حوالے سے مثبت تجاویز پیش کیں ’لیکن اس کے باوجود مخالف فریق اس مرحلے پر ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔‘
پاکستان کی ثالثی سے 21 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بارے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بتایا کہ ’ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔‘
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر نے اتوار کو ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا ’مذاکرات سے پہلے ہی میں نے واضح کر دیا تھا کہ ہمارے پاس نیک نیتی اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کی وجہ سے ہمیں مخالف فریق پر اعتماد نہیں۔‘
۱/پیش از مذاکرات تأکید کردم که ما حسن نیت و ارادهٔ لازم را داریم ولی به دلیل تجربیات دو جنگ قبلی، اعتمادی به طرف مقابل نداریم.
همکاران من در هیئت ایرانی میناب۱۶۸ ابتکارات رو به جلویی مطرح کردند ولی طرف مقابل در نهایت نتوانست در این دور از مذاکرات اعتماد هیئت ایرانی را جلب کند.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 12, 2026
انہوں نے کہا ’امریکہ ہماری منطق اور اصولوں کو سمجھ چکا ہے، اب یہ اس پر منحصر ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔‘
باقر قالیباف نے مزید کہا ہم سفارت کاری کو بھی طاقت کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، ’جو فوجی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ہم ایران کے 40 روزہ دفاع کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے کی کوششیں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں روکیں گے۔‘
انہوں نے مذاکرات کو ممکن بنانے پر پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں۔‘
ایک ہی نشست میں معاہدے کی توقع نہیں تھی: ایرانی وزارت خارجہ
اتوار کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد، ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ کسی کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کے ایک ہی دور میں کسی معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
اے ایف پی نے ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا، ’فطری طور پر، ہمیں شروع سے ہی محض ایک نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ تہران کو ’اس بات کا مکمل یقین ہے کہ ہمارے اور پاکستان کے درمیان، نیز خطے میں ہمارے دیگر دوستوں کے ساتھ بھی رابطے جاری رہیں گے۔‘
ڈیل ہونے تک ہرمز کی صورت حال تبدیل نہیں ہو گی: ایرانی میڈیا
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی نیوز ایجسنی تسنیم کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جس کا کہنا ہے کہ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ جب تک امریکہ معقول ڈیل پر اتفاق نہیں کرتا آبنائے ہرمز کی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے: امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ ’حتمی اور بہترین پیشکش‘ سامنے رکھنے کے بعد واپس جا رہے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت میں 21 گھنٹے کے مذاکرات کے بعد وینس نے صحافیوں کو بتایا ’ہم یہاں سے ایک انتہائی سادہ تجویز، افہام و تفہیم کے ایک طریقہ کار کے ساتھ جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘
وینس نے مزید کہا کہ بنیادی تنازع جوہری ہتھیاروں پر تھا۔
ایران کا اصرار ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کر رہا جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے ساتھ ساتھ گذشتہ سال بھی ایران کی حساس تنصیبات پر بمباری کی تھی۔
وینس نے کہا ’سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ایک واضح عزم دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ ایسے ذرائع تلاش کریں گے جو انہیں تیزی سے جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بنائیں۔
’سادہ سا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایرانیوں کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا کوئی بنیادی عزم دیکھتے ہیں۔ صرف ابھی نہیں اور نہ ہی آج سے دو سال بعد، بلکہ طویل مدتی بنیادوں پر؟
’ہم نے ابھی تک ایسا نہیں دیکھا۔ ہمیں امید ہے کہ ہم یہ دیکھیں گے۔‘
اپنے مختصر ریمارکس میں وینس نے ایک اور اہم مسئلے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، پر اختلاف کو نمایاں نہیں کیا، یہ وہ تنگ آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کے پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے ہفتے کو واشنگٹن میں کہا تھا کہ انہیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ طے پاتا ہے یا نہیں — مذاکرات میں مفاہمت پسند رہے ہیں۔
’میرا خیال ہے کہ ہم کافی لچک دار تھے۔ ہم نے کافی مفاہمت کا مظاہرہ کیا۔ صدر نے ہم سے کہا تھا کہ آپ کو نیک نیتی کے ساتھ یہاں آنا چاہیے اور معاہدہ طے پانے کے لیے اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے۔‘
’ہم نے ایسا ہی کیا اور، بدقسمتی سے، ہم کوئی پیش رفت نہیں کر سکے۔‘
سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر: ایران
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا ہے کہ ’اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وفد کے لیے ایک مصروف اور طویل دن تھا جس کے دوران ’دونوں فریقین کے درمیان متعدد پیغامات اور دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔‘
انہوں نے لکھا ’گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران مذاکرات کے کلیدی موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی گئی، جن میں آبنائے ہرمز، جوہری مسئلہ، جنگی تاوان، پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے خلاف نیز خطے میں جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہیں۔‘
دیپلماسی برای ما ادامه جهاد مقدس مدافعان ایران زمین است. تجربه بدعهدیها و بدسگالیهای آمریکا را فراموش نکرده و نمیکنیم. همانطور که جنایات شنیع ارتکابی آنها و رژیم صهیونیستی در جریان جنگهای تحمیلی دوم و سوم را نخواهیم بخشید.
امروز روز پر کار و طولانی برای هیات نمایندگی جمهوری…
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) April 12, 2026
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس سفارتی عمل کی کامیابی کا انحصار فریق مخالف کی سنجیدگی اور نیک نیتی، حد سے متجاوز مطالبات اور غیر قانونی درخواستوں سے گریز اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کو تسلیم کرنے پر ہے۔‘
اسماعیل بقائی نے مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں مخلصانہ کاوشوں پر پاکستان کی حکومت اور اور عوام کی تعریف کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود کے تکنیکی مذاکرات جاری
اسلام آباد میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب امریکی و ایرانی وفود کے درمیان روبرو مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق یہ مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں کا مرحلہ ہے۔
اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود میں روبرو مذاکرات جاری، پاکستان بطور ثالث شامل
امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہفتے کو اسلام آباد میں روبرو مذاکرات جاری ہیں، جس میں پاکستان بطور ثالث شامل ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں یہ اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات ہیں، جن کا مقصد چھ ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق سرینا ہوٹل میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہو رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات کل (بروز اتوار) بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا: ’پاکستان آنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات کا مضبوط محافظ ہے اور اسی جذبے کے تحت وہ جرات کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا۔‘
بقول مسعود پزشکیان: ’کسی بھی صورت میں عوام کی خدمت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی اور مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔‘
امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے اقدامات شروع کر دیے: سینٹ کام
یو ایس سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا ہے کہ امریکی افواج نے 11 اپریل کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سینٹ کام نے کہا کہ امریکی جہازوں نے خلیج عرب میں ایک وسیع مشن کے حصے کے طور پر کام کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف ہے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ’آج، ہم نے ایک نیا راستہ قائم کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور ہم جلد ہی اس محفوظ راستے کو سمندری صنعت کے ساتھ اشتراک کریں گے تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور وہاں فی الحال کوئی ٹریفک نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک ’امریکی ڈسٹرائر‘ کو بھی اجازت نہیں دی گئی جو آبنائے سے گزرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
پاکستانی وزیراعظم کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو امریکہ اور ایران سے آئے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
دفتر خارجہ سے پہلے جاری بیان کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کر رہے تھے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے کی۔
بیان میں بتایا گیا کہ ’دونوں وفود کے تعمیری مذاکرات کے لیے عزم کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔‘
بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
بعدازاں دفتر خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایرانی وفد سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر جناب محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں بامعنی نتائج کے حصول کے لیے پیش رفت کو تیز کرنے میں بطور ثالث اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے مخلص ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے اجلاس میں شرکت کی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم کی ملاقات پہلے امریکی وفد سے ہوئی یا ایرانی وفد سے۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ان ابتدائی ملاقاتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آگے بڑھائے یا نہیں۔
ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی معاہدے میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
تاہم امریکی وفد کے سربراہ جے ڈی وینس کہہ چکے ہیں کہ لبنان کا معاملہ اسلام آباد مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا۔
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ہفتے کو کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایران کے خلاف جاری ایک ’غیرقانونی جنگ‘ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف ایرانی قوم اور تہذیب کے خلاف ایک کھلا جرم ہے بلکہ اس نے خطے اور دنیا کی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ پاکستان کی ان ’نیک کاوشوں‘ اور ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے یا نہیں۔
امریکہ کی ایران کے منجمد اثاثے کھولنے پر رضامندی کی خبر کی تردید
ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے ہفتے کو اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں رکھے گئے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایران اور امریکہ کے وفود مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔
تہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ لڑائی کے مستقل خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں ایران کے پابندیوں کا شکار اثاثوں کو غیر منجمد کرنا اور لبنان میں اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
ایک ’سینیئر ایرانی ذرائع‘ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اور یہ اقدام آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری پیغام میں امریکی عہدیدار نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’یہ خبر غلط۔ ہے، ملاقاتیں ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہیں۔‘
امریکہ منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند: ایرانی ذرائع
ایک سینیئر ایرانی ذریعے نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔
ذریعے نے اس اقدام کو اسلام آباد میں واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ’سنجیدگی‘ کی علامت قرار دیا۔
امریکہ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
اس ذریعے نے، معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، روئٹرز کو بتایا کہ اثاثوں کو بحال کرنا براہ راست آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی یقین دہانی سے جڑا ہوا ہے، جسے بات چیت کے اہم نکات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات پر اسلام آباد سے اب تک کی تازہ صورت حال
امریکی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفد کا استقبال کیا۔
بیان کے مطابق وفد کا استقبال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کو دیرپا اور مستقل حل تک پہنچانے کے لیے اپنا معاون کردار جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکہ اور ایران میں مذاکرات آج
امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اہم مذاکرات آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔
ان مذاکرات کے لیے ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 70 سے زائد ارکان پر مشتمل ایرانی وفد جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ چکا ہے جب کہ امریکی وفد کی آمد آج متوقع ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے موقعے پر دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مرکزی شاہراہیں بند کر کے فوج، رینجرز اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعنیات کیے گئے ہیں۔
ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
پاکستانی دفتر خارجہ سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ہفتے کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کیا، جن کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی سمیت دیگر نے کیا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کے حصول کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ’ہمارے ارادے نیک ہیں لیکن ہم امریکہ پر اعتبار نہیں کرتے۔
’امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا ہمارا گذشتہ تجربہ ہمیشہ ناکامی اور وعدہ خلافیوں پر ہی منتج ہوا۔‘
امریکی نائب صدر اسلام آباد روانہ
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانگی کے وقت خاصے محتاط دکھائی دیے۔
وفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
پاکستان روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا ’اگر ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو ہم بھی یقینی طور پر کھلے دل کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائیں گے۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم اتنی لچک دکھانے والی نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واضح رہے کہ ایران نے اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت کو لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط کر رکھا ہے، تاہم تاحال ان میں سے کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔
اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے پر محیط اس جنگ بندی کی شرط کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بدولت درحقیقت یہ مذاکرات ممکن ہو سکے ہیں۔
یہ اہم آبی گزرگاہ، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، معمول کی ٹریفک کے لیے تاحال بحال نہیں ہو سکی۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے جمعے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے تعاون کے ’ساتھ یا اس کے بغیر‘ اسے جلد از جلد کھلوا لیں گے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ یہی ہمارا 99 فیصد مقصد ہے۔‘

