غزہ میں امدادی مراکز کے قریب 875 فلسطینیوں کی موت ہوئی: اقوام متحدہ

Share

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ چھ ہفتوں کے دوران غزہ میں امداد حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 875 افراد کی موت ہوئی ہے۔ یہ اموات امریکی اور اسرائیلی حمایت یافتہ غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) کے امدادی مراکز اور اقوام متحدہ سمیت دیگر امدادی گروپوں کے قافلوں کے قریب پیش آئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مرنے والوں کی اکثریت (674 افراد) غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے مراکز کے قریب تھی، جبکہ دیگر 201 افراد کی امدادی قافلوں کے راستوں پر موت ہوئی۔

جی ایچ ایف نے اسرائیل کی جانب سے 11 ہفتوں کی امدادی ناکہ بندی ہٹانے کے بعد مئی کے آخر میں غزہ میں خوراک کے پیکج تقسیم کرنا شروع کیے تھے۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے جی ایچ ایف نے بتایا کہ اس کے مراکز پر ایسے واقعات پیش نہیں آئے اور اس نے اقوام متحدہ پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا، جس کی اقوام متحدہ تردید کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان نے جینیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمارے پاس موجود اعداد و شمار مختلف قابل اعتماد ذرائع، جن میں طبی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیمیں شامل ہیں، سے معلومات جمع کرنے پر مبنی ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے، مئی سے اب تک امریکہ اور اسرائیل کے حمایت یافتہ امدادی تقسیم کے مقامات سے خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں کم از کم 875 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان، ثمین الخیتان نے بتایا ہے کہ ’13 جولائی تک، ہم نے غزہ میں خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں 875 اموات ریکارڈ کی ہیں، ان میں سے 674 جی ایچ ایف  کے مراکز کے قریب ہوئیں۔‘

الخیتان نے مزید بتایا کہ تازہ ترین مہلک واقعہ 15 جولائی 2025 کو پیش آیا جب اطلاعات کے مطابق ’اسرائیلی فوج نے شمال مغربی رفح کے علاقے میں جی ایچ ایف کے مرکز پر خوراک کے حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں پر گولہ باری اور فائرنگ کی۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

دستاویز لیک ہونے کے بعد ہزاروں افغانوں کے لیے برطانیہ میں پناہ

جمعرات جولائی 17 , 2025
Share برطانوی حکومت نے منگل کو انکشاف کیا ہے کہ 2022 میں نازک حکومتی معلومات کے انکشاف کے بعد ماضی میں برطانوی شہریوں کے ساتھ کام کرنے والے ہزاروں افغانوں کو ایک خفیہ پروگرام کے تحت ملک لایا گیا۔ برطانیہ کے وزیر دفاع جان ہیلی نے منگل کو ملک کی […]

You May Like