مہنگا تیل: انڈیا میں ہوابازی کی صنعت بند ہونے کے قریب، فضائی کمپنیاں

Share

انڈیا میں ہوابازی کا شعبہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے اور بڑی فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں انہیں اپنا آپریشن محدود کرنے یا پروازیں معطل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔

ایئر انڈیا، انڈیگو اور سپائس جیٹ نے، جن کی نمائندگی فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز (ایف آئی اے) کر رہی ہے، انڈیا کی حکومت سے  ہنگامی اپیل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جنگ کی وجہ سے فضائی حدود پر لگنے والی پابندیوں نے صنعت کو ایک انتہائی نازک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔

خط میں کہا گیا ’انڈیا میں ہوابازی کی صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے اور بند ہونے یا اپنا آپریشن روکنے کے دہانے پر ہے۔

’مغربی ایشیا کی جنگ اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ہوابازی کے شعبے کی تشویش ناک صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

’فضائی حدود پر پابندی کی وجہ سے پروازوں کے طویل روٹس نے اس صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔‘

انڈسٹری کے نمائندوں نے کہا کہ اس صورت حال نے کئی روٹس کو مالی لحاظ سے ناقابل عمل بنا دیا ہے۔

ایف آئی اے نے کہا کہ ’بین الاقوامی آپریشنز کے لیے اے ٹی ایف کی قیمت میں 73 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس سے عملی طور پر مقامی آپریشنز کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی آپریشنز بھی مکمل طور پر ناقابل عمل ہو گئے اور اپریل 2026 میں ہوابازی کے شعبے کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔‘

ایئرلائنز کی تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ ’اپریل 26 کی قیمتوں کے نتائج مقامی اور بین الاقوامی آپریشنز کے درمیان برابری کو یقینی نہیں بناتے۔‘

خط میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعے کی وجہ سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا بھر کی ایئرلائنز بڑھتے ہوئے اخراجات کو سنبھالنے کے لیے پروازیں منسوخ کرنے اور اضافی چارجز عائد کرنے پر مجبور ہیں۔

ایف آئی اے نے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے، جس میں جیٹ فیول پر ایکسائز ڈیوٹی کی عارضی معطلی، وی اے ٹی جیسے ریاستی سطح کے ٹیکسوں میں کمی، اور ایوی ایشن فیول کی قیمتوں کے ڈھانچے کا جائزہ لینا شامل ہے۔

ایئرلائنز تنظیم نے اہم ریاستوں بالخصوص دہلی اور تمل ناڈو میں جیٹ فیول پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) میں کمی کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ ممبئی، بنگلورو، حیدرآباد اور کولکتہ جیسے بڑے ایوی ایشن ہبز کو پہلے ہی 16 سے 20 فیصد تک وی اے ٹی کی شرح کا سامنا ہے جس سے مجموعی طور پر انڈیا کی آدھی سے زیادہ ہوائی ٹریفک کو متاثر ہوئی ہے اور آپریٹنگ اخراجات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

ایئرلائنز نے کرنسی کی قدر میں کمی کو بھی ایک اضافی بوجھ قرار دیا، جس نے روپے کے حساب سے ایندھن کے اخراجات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

فیڈریشن نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کے فوری اقدام کے بغیر، انڈیا کا ایوی ایشن نیٹ ورک شدید رکاوٹ کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کا رابطہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

ایف آئی اے مقامی آپریشنز کے لیے ایوی ایشن ٹربائن فیول پر اس وقت لاگو 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی عارضی معطلی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈسٹری کے مطابق، یہ ٹیکس پہلے سے بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں پر نمایاں دباؤ ڈال رہا ہے۔

دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے انڈیا کی وزارت شہری ہوا بازی سے رابطہ کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے، جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کرایوں میں اضافے اور پروازیں منسوخ کرنے پر غور کرنے والی ایئرلائنز میں یونائیٹڈ ایئرلائنز اور لفتھانزا بھی شامل تھیں۔

یونائیٹڈ کے سی ای او نے کہا ہے کہ ٹکٹوں کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جب کہ لفتھانزا نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر کم کرنے کی کوشش میں تقریباً 20,000 پروازیں منسوخ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You May Like