کابل ایئرپورٹ دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام، امریکہ میں افغان شہری مجرم قرار

Share

امریکی وفاقی جیوری نے بدھ کو ایک افغان شہری کو کابل ایئرپورٹ پر 2021 میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ملوث ہونے پر مجرم قرار دے دیا۔ 

دھماکے میں کم از کم 170 افغان اور 13 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔

فرانسیسی خبر رسانں ادارے ایف ایف پی کے مطابق افغانستان اور پاکستان میں داعش خراسان (آئی ایس کے) کی شاخ کے رکن محمد شریف اللہ کو ورجینیا میں دہشت گرد تنظیم کو مادی معاونت فراہم کرنے کی سازش کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا۔

استغاثہ کے مطابق، شریف اللہ نے ایئرپورٹ کے اس راستے کی ریکی کی تھی جہاں بعد میں خودکش حملہ آور نے طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے کے چند دن بعد وہاں سے نکلنے کی کوشش کرنے والے ہجوم کے درمیان دھماکہ کیا۔

امریکہ نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنے آخری فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا، جس سے ان دسیوں ہزار افغانوں کے انخلا کا افراتفری پر مبنی عمل ختم ہو گیا جو ملک سے باہر جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی امید میں کابل ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

شریف اللہ، جنہیں جعفر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو 20 سال تک قید کی سزا کا سامنا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق، شریف اللہ 2016 سے لے کر 2025 میں پاکستانی حکام کے ہاتھوں اپنی گرفتاری تک داعش کے متعدد حملوں میں ملوث تھے۔

ان میں جون 2016 کا وہ خودکش دھماکہ بھی شامل تھا جس میں کابل میں کینیڈین سفارت خانے کی حفاظت کرنے والے نیپالی سکیورٹی گارڈز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شریف اللہ پر الزام تھا کہ انہوں نے نگرانی کی اور خودکش حملہ آور کو حملے کی جگہ تک پہنچایا۔

ان پر داعش کے کے ان مسلح افراد کو ہتھیار چلانے کی ہدایات دینے کا الزام بھی تھا جنہوں نے مارچ 2024 میں ماسکو کے قریب کروکس سٹی ہال پر حملہ کیا تھا۔

شریف اللہ کون ہیں؟

26 اگست 2021 میں افغانستان کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بم حملے اور دیگر لوگوں سمیت امریکہ کے 13 فوجیوں کو مارنے کے مبینہ ’میٹیریل سپورٹر‘ شریف اللہ کو پاکستان کی مدد سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا جہاں انہیں ورجینیا کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔

امریکہ کے فیڈرل بورڈ آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے ان کی حوالگی کی تصدیق کی اور ایف بی آئی نے دو مارچ کو ان کا انٹرویو بھی لیا ہے۔

ایف بی آئی کے ایجنٹ سیتھ پارکر، جنہوں نے شریف اللہ کو باضابطہ دور پر گرفتار کیا، کی طرف سے امریکہ کی ریاست ورجینیا کی عدالت کو بتایا کہ شریف اللہ شدت پسند تنظیم داعش سے 2016 سے منسلک ہیں اور داعش کی خراسان شاخ کے لیے مختلف کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوران انٹرویو شریف االلہ نے بتایا ہے کہ 20 جون 2016 کو کابل کے سفارت خانے پر حملے میں خود کش بمبار کو ہدف کے مقام تک انہوں نے پہنچایا تھا۔

دوران تفتیش شریف اللہ نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا نام عرفان تھا اور دھماکے کی جگہ تک پہنچانے میں تمام تر مدد انہوں نے فراہم کی تھی۔

پاکستانی دفتر خارجہ  کے ترجمان نے چھ مارچ 2025 کو ہفتہ وار بریفنگ میں داعش کے رہنما شریف اللہ کی امریکہ کو حوالگی سے متعلق کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس تعاون دیرینہ ہے، ممالک کی مشترکہ سرگرمی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی اور شریف اللہ کی حوالگی اقوام متحدہ کی قرارداروں کی روشنی میں ہوئی ہے۔

’پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس تعاون دیرینہ ہے اور اس سے متعلق تفصیلات کے بارے میں وزارت خارجہ کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔ تاہم اس طرح کی مشترکہ سرگرمی پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے۔ شریف اللہ کی حوالگی سے متعلق وزیر اعظم کی پوسٹ پڑھ سکتا ہوں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لندن: چاقو کے حملے میں دو یہودی زخمی

جمعہ مئی 1 , 2026
Share شمالی لندن میں بدھ کو دو یہودی افراد چاقو کے حملے میں زخمی ہوگئے، جسے پولیس نے ’دہشت گردی‘ کا واقعہ قرار دیا ہے۔ شاہ چارلس سوم، وزیراعظم کیئر سٹارمر اور لندن کے میئر صادق خان نے گولڈرز گرین میں ہونے والے اس ’ہولناک‘ حملے کی مذمت کی قیادت […]

You May Like