بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات نے بدھ کو کہا ہے کہ کوئٹہ میں منگل کی شب ہونے والا دھماکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کا جلسہ ختم ہونے کے بعد جلسہ گاہ سے 500 میٹر دور ہوا۔
کوئٹہ میں ڈی آئی جی آفس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حمزہ شفقات نے بتایا کہ’ خودکش حملہ آور‘ کی عمر 30 سال سے کم کی تھیجبکہ حملے میں ’آٹھ کلو بارودی مواد‘ استعمال کیا گیا تھا۔‘
بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان غلام نبی مری نے انڈپیڈنٹ اردو کو بتایا کہ دھماکہ سریاب روڈ پر واقع شاہوانی سٹیڈیم کی کار پارکنگ میں اس وقت ہوا جب جلسہ ختم ہوا اور پارٹی کارکنان سٹیڈیم سے باہر نکل رہے تھے۔
سول ہسپتال کے مطابق کوئٹہ میں منگل کی شب بلوچستان نیشنل پارٹی کے جلسہ گاہ کے باہر ہونے والے بم دھماکے میں 14 افراد جان سے گئے اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعلقہ ’حکام کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور دھماکے میں ملوث عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلائی جائے۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس واقعے کے حوالے سے بدھ کو کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ ’خودکش حملہ‘ رات 9:40 پر ہوا جس میں دو پولیس اہلکار بھی جان سے گئے ہیں۔
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’دھماکہ جلسہ ختم ہونے کے بعد قبرستان کے قریب ہوا جو جلسہ گاہ سے 500 میٹر کے فاصلے پر تھا۔‘
اس موقع پر انہوں نے جلسے اور اس کے وقت کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ’ بلوچساتن نیشنل پارٹی مینگل جلسہ کرنے پر بضد تھی، جس کی این او سی تین بجے کی تھی۔‘
حمزہ شفقات کے مطابق جلسے کے حوالے سے دی گئی این او سی میں 17 سے 18 شقیں شامل تھیں۔

