خیبرپختونخوا بلدیاتی ضمنی انتخاب میں امیدواروں کی عدم دلچسپی کیوں؟

Share

الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں 21 اکتوبر کو بلدیاتی ضمنی انتخاب کے لیے 913 نشستوں پر مختلف اضلاع سے صرف 155 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار میں انکشاف ہوا کہ بعض اضلاع ایسے بھی ہیں جہاں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کسی نے بھی کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں۔

جنرل نشستوں کے لیے 93، خواتین کے لیے سات، مزدور کسان کے لیے 14 جبکہ یوتھ کی نشستوں کے لیے 41 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

صوبے کے اضلاع باجوڑ، بونیر، کوہستان لوئر، کوہستان اپر، تورغر، بٹگرام، جنوبی وزیرستان لوئر، کرک اور خیبر سے کسی بھی امیدوار نے کاغذات جمع نہیں کیے ہیں۔

اسی طرح خواتین نشستوں کے لیے صرف سات امیدواروں نے کاغذاف جمع کرائے ہیں اور صوبے کے 33 اضلاع میں سے 28 اضلاع سے کسی بھی خاتون نے کاغذات جمع نہیں کرائے ہیں۔

اقلیتوں کی نشتوں کی بات کی جائے تو صوبے بھر سے کسی اقلیتی امیدوار نے درخواست جمع نہیں کرائی ہے۔

لحاظ علی پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی ہیں اور صوبے میں بلدیاتی حکومتوں پر گہری نظر رکھتے ہیں جن  کے مطابق اس عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ نہ ملنا ہے۔

لحاظ علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں 2021 اور 2022 میں بلدیاتی انتخاب میں 20 ہزار سے زائد نمائندے منتخب ہوئے تھے جن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 130 تحصیلوں میں سے 50 میں کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈ فراہم نہیں کیا گیا۔‘

لحاظ علی نے بتایا کہ ’موجودہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہونے میں پانچ چھ مہینے رہتے ہیں، تو ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وقت کم ہے تو اسی وجہ سے لوگ ان انتخابات میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔‘

پی ٹی آئی نے 2013 میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ پاس کر کے بلدیاتی حکومتوں کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد پی ٹی آئی اسی ایکٹ میں مختلف ترامیم بھی کر چکی ہے اور رواں ماہ میں کچھ ترامیم ایسی بھی منظور ہوئی ہیں جس میں بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات مزید محدود کر دیے گئے ہیں۔

اسی طرح 2022 میں بھی پی ٹی آئی نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترامیم کی تھیں جس کے خلاف بعض بلدیاتی نمائندوں نے اختیارات کم کرنے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

مغفرت شاہ 2013 کے بعد بلدیاتی انتخاب میں چترال کے ضلع ناظم منتخب ہوئے تھے۔ ان کے مطابق جب انتظامی اختیارات بلدیاتی نمائندوں کے پاس نہ ہوں تو انتخاب میں عدم دلچپسی ہی نظر آئی گی۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پرویز مشرف ایک ڈکٹیٹر تھے لیکن انہوں نے جو بلدیاتی ڈھانچہ دیا تھا اس میں اختیارات زیادہ تھے جبکہ منتخب سیاسی حکومتوں میں اختیارات کم تھے۔

مغفرت شاہ نے بتایا کہ ’پہلے ضلعی یونٹ کا خاتمہ کیا گیا جو کہ بلدیاتی نظام کا ایک اہم یونٹ ہے اور ابھی ایک 11/12 سکیل کا ملازم بلدیاتی نظام کو چلاتا ہے تو ایسے میں کون اس نظام میں دلچپسی لے گا۔‘

صوبائی حکومت کی جانب سے نیشنل فنانس کمیشن میں صوبے کے حصے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاہم مغفرت شاہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں ہے جس کے تحت اضلاع کو باقاعدہ ترقیاتی فنڈ مہیا کیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جاتا تو صوبائی حکومت پر کام کا بوجھ بھی کم ہوجاتا اور بعض معاملات اضلاع میں بلدیاتی نمائندوں کے حوالے ہو جاتے۔

بلدیاتی انتخابات میں عدم دلچسپی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے پی ٹی ٹی کے رہنماؤں اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ سے رابطے کی کوشش کی لیکن کسی نے بھی اس پر اپنا موقف نہیں دیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سعودی معاہدہ تعاون کے ’جامع سپیکٹرم‘ کا احاطہ کرتا ہے: پاکستان

بدھ ستمبر 24 , 2025
Share پاکستان کے وفاقی وزیر اور اسلام آباد کے سعودی عرب سے تعلقات کے فوکل پرسن مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کی نوعیت نیٹو طرز کے معاہدے جیسی ہے جو ’کمپری ہینسیئو سپیکٹرم‘ پر مبنی ہے۔ پاکستان […]

You May Like