اتوار تک امن معاہدہ قبول کریں، ٹرمپ کی حماس کو ’خمیازہ بھگتنے‘ کی دھمکی

Share

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو فلسطینی تنظیم حماس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اتوار کو 2200 GMT (پاکستان ٹائم رات کے تین بجے) تک ان کا غزہ امن منصوبہ قبول کر لے ورنہ ’شدید نتائج‘ بھگتنے ہوں گے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا ’فلسطینی شدت پسندوں کے پاس ’اتوار کی شام چھ بجے، واشنگٹن ڈی سی کے وقت‘ تک مہلت ہے۔

’معاہدہ طے پانے کا یہ آخری موقع ہے، جس کے بعد حماس کو ایسا خمیازہ بھگتنا ہو گا جو پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔‘

پوسٹ میں ٹرمپ نے حماس کی بقیہ فورسز پر ممکنہ حملے کے پیش نظر ’معصوم فلسطینیوں‘ کو مخصوص علاقے سے نکل کر محفوظ مقامات پر جانے کو کہا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ زیادہ تر حماس کے جنگجو ’گھیرے میں اور فوجی طور پر پھنسے ہوئے ہیں، بس میرے حکم کی دیر ہے جس کے بعد ان کی زندگیاں جلد گُل ہو جائیں گی۔

’باقیوں کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کون ہیں اور ان کو تلاش کر کے مار دیا جائے گا۔‘

انہوں نے لکھا ’میں تمام معصوم فلسطینیوں سے کہوں گا کہ وہ  فوری طور پر اس ممکنہ تباہی والے علاقے سے دور غزہ کے محفوظ حصوں میں چلے جائیں۔ ہر ایک کا خیال رکھنے کے لیے مدد کے منتظر لوگ موجود ہیں۔ خوش قسمتی سے حماس کو ایک آخری موقع دیا جا رہا ہے!‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل کی غزہ پر دو سال سے جاری جارحیت کے بعد صدر ٹرمپ کا 20 نکاتی امن منصوبہ سامنے آیا ہے جسے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حماس نے اس حوالے سے تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔

معاہدے میں فائر بندی، 72 گھنٹوں میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا تدریجی انخلا شامل ہے۔ 

بعد ازاں ایک عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی جس کی قیادت خود ٹرمپ کریں گے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کے بڑے شہری مرکز پر ہوائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن کی وجہ سے لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ نے جمعے کو دہرایا کہ غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں اور جنوبی علاقوں کو ’موت کے مقامات‘ قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے کم از کم 66,225 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں اور اقوام متحدہ غزہ میں محکمہ صحت کے ان اعداد و شمار کو قابل اعتماد سمجھتی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ڈاکٹروں کی خوشخطی کو نصاب میں شامل کیا جائے: انڈین عدالت

جمعہ اکتوبر 3 , 2025
Share انڈین عدالت نے میڈیکل کالجوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے نصاب میں خوشخطی کے اسباق بھی شامل کریں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ ڈاکٹر صاف اور پڑھے جانے والے نسخے تحریر کریں۔ قانونی خبروں کے پورٹل لائیولا کے مطابق پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے قرار […]

You May Like