پسنی (روزنامہ ایگل حب بلوچستان ) انجمن تاجران پسنی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پسنی کے تاجر برادری کے لیے اب نہ گھر محفوظ ہیں نہ دکانیں۔ شہر میں آئے روز چوری اور ڈکیتی کے واقعات پیش آرہے ہیں جبکہ انتظامیہ کی توجہ صرف آلو اور ٹماٹر کے نرخ چیک کرنے تک محدود ہے۔
ترجمان نے کہا کہ مین بازار میں ابلتے گٹر اور گندگی کے ڈھیر انتظامیہ کو نظر نہیں آتے، مگر بعض ادارے صرف ایرانی تھیلیوں کے خلاف کارروائی میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ “شاید یہ ابلتے گٹر کا پانی آبِ شفا ہے، جسے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں،” ترجمان نے طنزیہ انداز میں کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاجر برادری ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے ٹیکسوں سے ہی سرکاری اداروں کی تنخواہیں ادا ہوتی ہیں، مگر افسوس کہ انہی تاجروں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
انجمن تاجران کے ترجمان نے ضلعی انتظامیہ اور پسنی پولیس کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چوری اور ڈکیتی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، بازاروں کی صفائی سمیت دیگر شہری مسائل پر بھی توجہ دی جائے۔ بصورت دیگر انجمن تاجران پسنی احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرے گی۔
(ترجمان انجمن تاجران پسنی)

