سٹار لنک کے مقابلے میں ایمازون کا خلائی انٹرنیٹ شروع

Share

ایمازون نے ایک انٹرنیٹ سروس متعارف کروائی ہے جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کی تیز ترین تجارتی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے اور اس کا مقصد سپیس ایکس کے سٹارلنک کی بالادستی کو چیلنج کرنا ہے۔

ایمازون لیو (LEO)، جس کا سابقہ نام پروجیکٹ کوئپر (Kuiper) تھا، کے پاس فی الحال 150 سیٹلائٹس کا نیٹ ورک ہے۔

یہ سپیس ایکس کے سٹارلنک کے مقابلے میں دو فیصد سے بھی کم ہے، جس کے تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فعال سیٹلائٹس ہیں۔

اپنے چھوٹے حجم کے باوجود ایمازون کا دعویٰ ہے کہ اس کے سیٹلائٹس نئی لیو الٹرا اینٹینا کو ون جی بی پی ایس تک ڈاؤن لوڈ سپیڈ فراہم کرتے ہیں، جو اسے ’پیداوار میں موجود تیز ترین تجارتی فیزڈ اَرے اینٹینا‘ بناتا ہے۔

یہ امریکہ میں سٹارلنک کے 200 ایم بی پی ایس کی اوسط رفتار سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ سٹارلنک 20 لاکھ سے زیادہ صارفین کو سروس دے رہا ہے۔ 

کمپنی کے سٹارلنک پرفارمنس کٹ میں 475 ایم بی پی ایس تک کی زیادہ سے زیادہ رفتار کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ 2026 میں گیگابٹ سروس متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔

ایمازون لیو فی الحال محدود تعداد میں کاروباری صارفین کے لیے دستیاب ہے، تاہم اگلے سال اس کی وسیع تر دستیابی متوقع ہے۔

یہ ایمازون کے بانی اور چیئرمین جیف بیزوس کی طرف سے اپنے حریف ایلون مسک کے لیے ایک نیا چیلنج ہے، جن کی خلائی کمپنیاں — بلیو اوریجن اور سپیس ایکس— ناسا کے منافع بخش لانچ معاہدے حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایمازون بالآخر 3,236 لیو سیٹلائٹس پر مشتمل اپنا نیٹ ورک قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے جبکہ سپیس ایکس 12,000 سٹارلنک سیٹلائٹس تک توسیع کرنا چاہتا ہے۔

ایمازون لیو کے نائب صدر برائے کنزیومر کرس ویبر نے کہا ’ایمازون لیو مشکل ماحول میں کام کرنے والے کاروباروں کے لیے ایک بڑی صلاحیت کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم نے اپنے سیٹلائٹ اور نیٹ ورک ڈیزائن سے لے کر اعلیٰ کارکردگی والے فیزڈ اَرے اینٹینا کے مجموعے تک، ایمازون لیو کو ایسے پیچیدہ ترین کاروباری اور سرکاری صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈیزائن کیا ہے اور ہم انہیں وہ ٹولز فراہم کرنے پر پرجوش ہیں، جن کی انہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں اپنے آپریشنز کو تبدیل کرنے کے لیے ضرورت ہے۔‘

ابتدائی صارفین میں کلین انرجی کمپنی، ہنٹ انرجی نیٹ ورک، وائرلیس کنیکٹیویٹی کمپنی وانو انک اور ایئر لائن جیٹ بلیو شامل ہیں۔

ایمازون نے کہا کہ محدود اجرا کا مقصد نیٹ ورک کا سٹریس ٹیسٹ ہے جبکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ مختلف صنعتیں اس ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کر سکتی ہیں۔

جیٹ بلیو کے صدر مارٹی سینٹ جارج نے کہا ’ہم پہلے بھی ایمازون کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور ہمیں معلوم تھا کہ ایمازون لیو ہماری صارف-اول جدت کے جذبے سے ہم آہنگ ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایمازون لیو کا انتخاب کرنا اس بات کا عزم ہے کہ ہم مسافروں کی ترجیحات کے مطابق خود کو آگے رکھتے ہیں، جیسے تیز، قابل بھروسہ کارکردگی اور ہماری مفت ان فلائٹ وائی فائی میں لچک۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لہسن سے اعلیٰ درجے کا ماؤتھ واش بن سکتا ہے: تحقیق

منگل نومبر 25 , 2025
Share ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ لہسن سے تیار کردہ جوس میں وہی جراثیم کش خصوصیات ہو سکتی ہیں جو ایک عام ماؤتھ واش میں پائی جاتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق لہسن منہ کی قدرتی دیکھ بھال کے متبادل کے طور پر کام کر سکتا ہے۔   لہسن […]

You May Like