خیبر پختونخوا: بھنگ کی کاشت کی لائسنس فیس میں کمی کا مقصد کیا؟

Share

خیبر پختونخوا حکومت نے بھنگ کی کاشت کی لائسنس فیس 15 لاکھ روپے سے کم کر کے 10 لاکھ روپے کر دی ہے جبکہ پراسسنگ فیس چھ لاکھ روپے سے کم کر کے پانچ لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ ’ہیمپ‘ پر ایکسائز ڈیوٹی ختم اور اس کی پراسسنگ فیس سات لاکھ روپے سے کم کر کے پانچ لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔

عام طور پر چرس اور ہیمپ کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے اور دونوں کو نشہ آور مادے کے طور پر تصور کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں چرس اور ہیمپ ایک پودے کینیبس سے حاصل ہونے والے دو مختلف مادے ہیں، جن میں سے چرس نشہ آور اور ہیمپ ایک مفید مادہ ہے۔

خیبر پختونخوا ایکسائز، ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے ڈائریکٹر جنرل عبدالحلیم خان کے مطابق حکومت نے دراصل ہیمپ کی پیداوار بڑھانے اور اس کی حوصلہ افزائی کے لیے فیسوں میں کمی کی ہے۔

عبدالحلیم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’کوئی بھی حکومت چرس کی پیداوار بڑھانے یا اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گی بلکہ ہم نے چرس کی پیداوار کی حوصلہ شکنی کر کے ہیمپ کی پیداوار بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور فیسیں کم کر دی ہیں۔‘

ہیمپ کا استعمال 

ہیمپ کینیبس کے پودے سے حاصل کیا جانے والا مادہ ہے لیکن اس میں نشہ آور مادے ٹیٹرا ہائیڈرو کینابیڈول (ٹی ایچ سی) کی مقدار محض 0.3 سے بھی کم ہوتی ہے اور اسے نشے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے مقابلے میں کینیبس سے ہی حاصل کردہ چرس میں نشہ آور مادہ ٹی ایچ سی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور نشے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور پاکستان میں اس کے استعمال پر پابندی ہے۔

انٹرنیشنل جرنل آف کیمیکل اینڈ بائیوکیمیکل سائنسز میں شائع تحقیقی مقالے کے مطابق ہیمپ کی کاشت ہمالیہ ریجن میں کی جاتی ہے جبکہ چین، جاپان اور یورپ میں اس کو بطور فائبر استعمال کیا جاتا ہے۔

اسی مقالے کے مطابق ہیمپ مختلف بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، ہیمپ بیج سے حاصل کردہ تیل کو سلاد، بیکنگ اور دیگر خوراک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

مقالے کے مطابق ہیمپ کو نیند کی کمی، سر درد اور معدے کے مسائل کے علاج کے لیے بھی ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔

عبدالحلیم خان کے مطابق ہیمپ سے کینیبیڈول تیل بھی بنتا ہے، جو پاکستان درآمد بھی کرتا ہے اور یہ بہت مہنگا ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں آٹھ، دس صنعتوں میں ہیمپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’اورکزئی، خیبر اور کرم کا موسم کینیبس کے لیے موزوں ہے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ان علاقوں میں صنعتی ہیمپ کو متعارف کروائیں، جس سے منشیات کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بحیرہ احمر پر کنٹرول کے لیے اسرائیل، صومالی لینڈ اور ایتھوپیا کا گٹھ جوڑ

بدھ دسمبر 31 , 2025
Share صومالی لینڈ کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کے اچانک اعلان کے ساتھ ہی اسرائیل نے پہلے سے سلگتے ہوئے قرنِ افریقہ میں جلتی پر مزید تیل چھڑک دیا ہے۔ یہ علاقہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے بین الاقوامی شناخت کا خواہاں تھا اور اب تل ابیب وہ پہلا […]

You May Like