ایرانی سرکاری عہدیدار کی احتجاج میں 2000 اموات کی تصدیق: روئٹرز

Share

ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ ملک میں جاری شدید احتجاج اور سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران اب تک تقریباً 2000 افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایرانی حکام نے دو ہفتوں سے جاری ملک گیر بدامنی میں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اعتراف کیا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے روئٹرز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ اموات کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جنہیں حکومت ’دہشت گرد‘ قرار دیتی ہے۔ تاہم انہوں نے یہ تفصیل فراہم نہیں کی کہ مرنے والوں میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کا تناسب کیا ہے۔

یہ احتجاج خراب معاشی صورتحال کے باعث شروع ہوا اور گزشتہ کم از کم تین برسوں میں ایرانی حکومت کے لیے سب سے بڑا داخلی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ بدامنی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کو اسرائیل اور امریکا کے گزشتہ سال کے حملوں کے بعد عالمی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے برسر اقتدار ایرانی قیادت نے مظاہروں پر دوہرا مؤقف اپنایا ہے۔ ایک جانب وہ معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب سخت سکیورٹی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

حکام نے امریکا اور اسرائیل پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے اور کہا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد عناصر نے احتجاج کو یرغمال بنا لیا ہے۔

ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق اس سے قبل سینکڑوں اموات کی تصدیق ہو چکی تھی جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ بندش اور دیگر ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے باعث معلومات کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

روئٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیوز میں گزشتہ ہفتے کے دوران رات کے وقت مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں فائرنگ، گاڑیوں اور عمارتوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے مناظر شامل ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

2026 کا مون سون 2025 کے مقابلے میں شدید ہو سکتا ہے: پی ڈی ایم اے

منگل جنوری 13 , 2026
Share پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں 2026 کا مون سون گذشتہ سال 2025 کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ اتھارٹی کے مطابق رواں برس مون سون کی شدت میں 22 سے 26 فیصد تک اضافے […]

You May Like