اسلام آباد مذاکرات، پاکستان اور مسلم دنیا دونوں کا فائدہ ہے: تجزیہ کار

Share

اسلام آباد کے سینیئر سفارتی امور کے ماہر باقر سجاد سید کہتے ہیں کہ ان مذاکرات سے پاکستان اور مسلم دنیا دونوں کو فائدہ ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بات کی۔ کیا یہ سفارتی کوشش واقعی جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہے یا یہ محض ایک علامتی اقدام ہے؟

 اس سمیت کئی اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے خارجہ امور پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی باقر سجاد سید سے گفتگو کی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ کو ایک ماہ ہو چلا ہے جس دورسان فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے فوجی اور اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے اعلان کیے جا رہے ہیں وہیں دوسری جانب علاقائی ممالک جیسے سعودی عرب، پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔

پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اور پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورت حال میں اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ سفارتی رابطے اور وزرائے خارجہ سطح کے اجلاس کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم امریکہ اور ایران کی براہ راست عدم شمولیت کی وجہ سے اس عمل کی افادیت پر بات کی جا رہی ہے۔

پاکستان اپنی ایران اور سعودی عرب دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات کے باعث ایک متوازن کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات اس کوشش کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ 


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

امریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟

پیر مارچ 30 , 2026
Share فروری کے آخر میں جب سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنی جنگ شروع کی ہے، ایران نے اس کے جواب میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس تنگ آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ […]

You May Like