|
امریکہ اور ایران کا دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان۔ اسرائیل بھی جنگ بندی پر رضامند مگر لبنان پر اس کا اطلاق کرنے سے انکاری۔ سعودی عرب، چین اور قطر سمیت عالمی برداری کا جنگ بندی کا خیر مقدم۔ پاکستان کی امریکی اور ایرانی وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت۔ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کی دھمکی کی مہلت پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 5 بجے ختم ہونی تھی۔ لائیب اپ ڈیٹس |
خلاف ورزیوں کے باعث دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول ہیں: ایران
ایران نے جنگ بندی معاہدے کی کم از کم تین خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی صورت حال میں دو طرفہ جنگ بندی یا مذاکرات غیر معقول ہو جاتے ہیں۔
ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل ہی خلاف ورزیاں کر دی گئی ہیں۔
تین خلاف ورزیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا جاری رہنا شق نمبر 10 کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے واضح طور پر ہر جگہ بشمول لبنان جنگ بندی کی بات کی تھی۔
غالباف نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے بعد ایرانی فحائی حدود میں ڈرون کا بغیر اجازت گھس آنا بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
ایرانی سپیکر کا کہنا تھا کہ یورینیم کی افزوردگی حق کے طور پر معاہدے کی شق نمبر 6 میں درج ہے۔
امریکی نائب صدر امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئیں گے: وائٹ ہاؤس
امریکی پریس سیکرٹری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے بدھ کو بتایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستانی دارالحکومت بھیج رہے ہیں، جو ہفتے کے روز شروع ہوں گے۔
پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ ٹرمپ ’ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے لیے کے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور مسٹر جیرڈ کشنر پر مشتمل اپنی مذاکراتی ٹیم روانہ کر رہے ہیں۔‘
غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں صحافی جان سے گیا: الجزیرہ
الجزیرہ نے بدھ کو بتایا کہ اس کا ایک صحافی محمد واشحہ اس وقت مارا گیا جب ایک اسرائیلی ڈرون حملے نے غزہ میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
چینل نے کہا کہ ’الجزیرہ کے نامہ نگار محمد واشحہ غزہ میں اس وقت مارے گئے جب ایک اسرائیلی ڈرون نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔‘
پاکستان کے ساتھ اسرائیلی ’جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کا معاملہ اٹھایا: ایرانی وزات خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو پاکستانی ثالثوں کے ساتھ اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھایا، جیسا کہ سینئر حکام کے حوالے سے رپورٹس نے خبردار کیا ہے کہ تہران اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کی وجہ سے جنگ بندی سے دستبردار ہو سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ عراقچی نے پاکستانی فوجی رہنما فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ایک کال میں اسرائیل کا حوالہ دیتے ہوئے ’ایران اور لبنان میں صہیونی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا۔‘
ایرانی میڈیا کی رپورٹوں میں ایرانی حکام اور باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تہران جنگ بندی سے دستبردار ہونے اور لبنان پر اسرائیل کی بمباری کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
ایران کی تسنیم خبر رساں ایجنسی نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’اگر اسرائیل لبنان پر اپنے حملے میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہا تو ایران معاہدے سے دستبردار ہو جائے گا۔‘
امریکہ اور ایران کے وفود جمعے کو اسلام آباد پہنچیں گے: وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا کہ ان کی دعوت پر جمعے کو امریکی وفد پاکستان آرہا ہے، جبکہ ایرانی مذاکرات کار بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گے۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے امن کی درخواست پر ایرانی اور امریکی قیادت کا شکریہ ادا کیا ہے۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور چین سمیت علاقائی ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں کئی راتیں جاگ کو گزاریں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عسکری اور سویلین قیادت متحد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کی جنگ نے پورے خطے کو بحران میں ڈال دیا تھا اور بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے۔ ’جنگ کے شعلے دو ہفتوں کے لیے بجھ گئے ہیں۔‘
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’اب پاکستان ایک بدلا ہوا پاکستان ہے جسے دنیا بدلی ہوئی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ یہ عزت پورے ملک اور اس کی عوام کی عزت ہے۔‘
اسرائیلی حملوں میں درجنوں اموات۔ سینکڑوں زخمی: لبنانی وزارت صحت
لبنان کی وزارت صحت نے ابتدائی اعداد و شمار میں کہا ہے کہ بدھ کو لبنان بھر میں اسرائیلی حملوں کے سلسلے میں درجنوں افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ ’انتہائی سنگین صورت حال میں، اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان کے متعدد علاقوں پر بیک وقت فضائی حملے شروع کیے، جس کے نتیجے میں، ابتدائی گنتی میں، درجنوں شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔‘
سیز فائر کے باوجود اسرائیل کے بیروت پر حملے: اے ایف پی
اسرائیل نے بدھ کو بیروت پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، جس سے حزب اللہ کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے دارالحکومت پر سب سے زیادہ پرتشدد حملے میں رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’لبنان بھر میں اپنی سب سے بڑی مربوط حملہ‘ کیا۔
اسرائیل نے اصرار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ اس کی جنگ میں دو ہفتے کی سیز فائر کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔
اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق، دارالحکومت پر بیک وقت حملے بغیر کسی وارننگ کے ہوئے، جس سے سڑکوں پر لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور گاڑی چلانے والوں نے راستہ کھلوانے کے لیے ہارن بجائے۔
وسطی بیروت میں ایک آلات کی دکان میں کام کرنے والے یاسر عبداللہ نے اے ایف پی کو بتایا، ’میں نے دھماکہ دیکھا، یہ بہت زور دار تھا، اور اس میں بچے مارے گئے، کچھ کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے۔‘
ایران کی دفاعی صنعت ’مکمل طور پر‘ تباہ کر دی ہے: امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کو کہا کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ نے ملک کی میزائل یا دیگر جدید ترین ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ’مکمل طور پر‘ تباہ کر دیا ہے۔
ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے ایران کے دفاعی صنعتی بنیاد کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جو ہمارے مشن کا بنیادی ستون ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ مزید میزائل نہیں بنا سکتے۔‘
خطے اور دنیا نے پاکستان کو بااعتماد ثالث کے طور تسلیم کر لیا: خواجہ آصف
پاکستان وزیر وفاع خواجہ محمد آصف نے بدھ کو ایران اور امریکہ کے درمیان سیز فائر ممکن بنانے کی پاکستانی کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان بطور بااعتماد ثالث کے خطے اور پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے۔‘
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی سے ثابت ہوتا ہے کہ طاقت کے مراکز مل کر کام کریں تو پاکستان عالمی سطح پر کتنی کامیابیاں حاصل کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جنگ بندی کے حوالے سے کوششیں رنگ لے آئیں۔‘
’جنگ بندی میں کامیابی کے بعد پاکستان سیاسی طور پر بھی ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔‘
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب پاکستان میں استحکام بھی ہو گا اور حکومت معیشت پر بھی توجہ مرکوز کر سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سول اور عسکری قیادت پر مشتمل ہائبرڈ ماڈل نے دو تین سال میں نے پناہ کامیابیاں سمیٹیں۔‘
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک سال کے اندر اللہ نے بہتر کرم اور فضل کیا۔ ہم نے پانچ گنا بڑے دشمن کو دھول چٹائی۔‘
’بھارت ابھی تک اپنی عزت بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’افغانستان کو بھی اس بات کی حیا کرنا چاہیے جو ہم نے اتنے برس میزبانی کی۔ اگر افغانستان اس میزبانی کی حیا نہین کرتا تو ہمیں پاس کوئی آپشن نہیں۔‘
شہباز شریف کا صدر پزشکیان سے رابطہ، اسلام آباد مذاکرات میں ایران شرکت کرے گا
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بدھ کو ٹیلفون پر گفتگو کی جو 45 منٹ سے زائد جاری رہی۔
وزیراعظم کے دفتر سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اس خوشگوار اور دوستانہ گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی ’دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی۔‘
ایران کے صدر نے وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات میں شرکت قبول کی۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے ’اس بات کی بھی تصدیق کی کہ ایران اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کرے گا۔‘
دونوں رہنماؤں نے باہمی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
انڈیا کو جنگ بندی سے آبنائے ہرمز کھلنے کی توقع
انڈیا نے بھی بدھ کو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
خارجہ امور کی وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ مغربی ایشیا میں دیرپا امن کا باعث بنے گی۔
’جیسا کہ ہم پہلے بھی مسلسل کہتے آئے ہیں، کشیدگی میں کمی، مکالمہ اور سفارت کاری جاری تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔‘
انڈین وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس تنازع نے پہلے ہی عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے اور عالمی توانائی کی فراہمی اور تجارتی نظام کو متاثر کیا ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت کی بلا رکاوٹ اور عالمی تجارت کا بہاؤ بحال رہے گا۔‘
ترکی کی اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کے لیے تعاون کی یقین دہانی
ترکی نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کو بھی مبارک باد پیش کی ہے۔
ترک دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم خطے میں جاری جنگ کے حوالے سے اعلان کردہ عارضی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
’ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس عارضی جنگ بندی پر مکمل طور پر عملی طور پر عملدرآمد ضروری ہے اور ہمیں توقع ہے کہ تمام فریق طے پانے والے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔‘
ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’ہم اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیاب تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
’ہم برادر ملک پاکستان کو اس پورے عمل میں اس کے کردار پر مبارک باد دیتے ہیں اور امن کے قیام میں معاون تمام اقدامات کے تسلسل کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔‘
مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کی قیادت محمد باقر قالیباف کریں گے: ایرانی میڈیا
اسلام آباد میں جمعے کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے ممکنہ مذاکرات میں ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں وفاد آئے گا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی اسنا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وفد کی قیادت محمدباقر قالیباف کریں گے جبکہ امریکی وفد نائب صدر جے ڈی ویناس کریں گے۔
ریاست تیم مذاکرهکننده ایرانی در گفتوگوهای روز جمعه در اسلامآباد بر عهده محمدباقر قالیباف و هیات آمریکایی به سرپرستی جیدی ونس خواهد بودhttps://t.co/Jtr8WIv9At pic.twitter.com/WTyhqnzjhH
— خبرگزاری ایسنا (@isna_farsi) April 8, 2026
ان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
تاہم تاحال ان ناموں کے حوالے سے باقاعدہ کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
قطر بھی پاکستان کے کردار کا معترف
قطر نے بدھ کو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور قطر کے وزیر محمد بن عبدالعزیز ال ثانی کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔
یہ گفتگو امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق تازہ علاقائی صورت حال پر بات کرتے ہوئے، اسحاق ڈار نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے فروغ میں پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق قطری وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالعزیز نے اسحاق ڈار کی کاوشوں کو سراہا اور امن کے قیام میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
سعودی عرب کا امریکہ-ایران جنگ کا خیر مقدم
سعودی عرب نے بدھ کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب نے امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ جنگ بندی دیرپا امن کی جانب قدم ہوگا۔
ساتھ ہی سعودی وزارت خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز کو کھلنا چاہیے۔‘
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی
جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی تو آئی ہے مگر وہ اس تنازع کے آغاز سے قبل کی قیمت کے مقابلے میں اب بھی زیادہ ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 13 فیصد کم ہو کر 94.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئی امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو حملے سے قبل تیل کی فی بیرل قیمت تقریباً 70 ڈالر تھی۔
امریکہ ایران جنگ بندی کے اعلان کے ثمرات
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے اعلان کے ثمرات فوراً دیکھے جا سکتے ہیں جہاں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے تو سٹاک ٹارکیٹ میں بہتری ہوئی ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 12 ہزار سے زائد پوائںٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد ٹریدنگ کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ بدھ کی صبح ایشیا پیسفک کی بڑی سٹاک مارکیٹس میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
جاپان کے نکی 225 میں پانچ فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آسٹریلوی مارکیٹ میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا۔
اسرائیل بھی جنگ بندی پر ’رضامند‘ مگر لبنان پر متضاد بیان
اسرائیل نے بدھ کو کہا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر بمباری معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے، تاہم اس نے واضح کیا کہ آخری وقت میں ہونے والی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیل صدر ٹرمپ کے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے روکنے کے فیصلے کی حمایت کرتا ہے، بشرطیکہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر تمام حملے بند کرے۔‘
The United States has told Israel that it is committed to achieving these goals, shares by the US, Israel and Israel’s regional allies, in the upcoming negotiations.
The two-weeks ceasefire does not include Lebanon.
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) April 8, 2026
اسرائیل نے مزید کہا کہ وہ اس امریکی کوشش کی حمایت کرتا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران اب جوہری، میزائل یا دہشت گردی کا خطرہ نہ رہے۔
تاہم بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ جنگ بندی ’لبنان کو شامل نہیں کرتی‘، کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے اعلان کے برعکس ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر بھی ہے۔
ٹرمپ نے اے ایف پی سے گفتگو میں کیا کہا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد اے ایف پی سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو کی۔
اس گفتگو کا متن درج ذیل ہے:
سوال: کیا آپ آج ایران کے ساتھ امن معاہدے کے بعد فتح کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟
ٹرمپ: ’مکمل اور بھرپور فتح۔ سو فیصد۔ اس میں کوئی شک نہیں، بالکل کوئی شک نہیں۔‘
سوال: ایسا لگتا ہے کہ ابھی بھی بہت سی باتوں پر اتفاق ہونا باقی ہے، مثلاً آبنائے ہرمز ؟
ٹرمپ: ’دیکھیں، مجھے نہیں معلوم۔ ہمارے پاس کئی نکات ہیں۔ ہمارے پاس 15 نکات پر مشتمل ایک معاہدہ ہے، جن میں سے زیادہ تر پر اتفاق ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، دیکھتے ہیں کیا یہ مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔‘
سوال: اگر اتفاق نہ ہوا تو کیا آپ اپنی پہلے والی دھمکی پر واپس جائیں گے؟
ٹرمپ: ’یہ آپ کو دیکھنا پڑے گا۔‘
سوال: کیا چین نے ایران کو اس معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کیا؟
ٹرمپ: ’میں نے سنا ہے ہاں، انہوں نے کردار ادا کیا۔‘
سوال: اور یورینیم کے بارے میں کیا ہوگا؟
ٹرمپ: ’اس کا مکمل خیال رکھا جائے گا، ورنہ میں یہ معاہدہ نہ کرتا۔‘
سوال: کس طرح؟ کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
ٹرمپ: ’ٹھیک ہے؟ میں یہ معاہدہ نہ کرتا۔ ٹھیک ہے، بہت شکریہ۔‘
15 نکات پر مشتمل معاہدے میں سے زیادہ تر پر اتفاق ہو چکا: ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کے بعد ’مکمل اور بھرپور فتح‘ حاصل کر لی ہے۔
ایک ٹیلیفونک گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں چین نے ایران کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کیا، اور یہ بھی کہا کہ تہران کا افزودہ یورینیم ’مکمل طور پر سنبھال لیا جائے گا۔‘
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’مکمل اور بھرپور فتح، سو فیصد، اس میں کوئی شک نہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس 15 نکات پر مشتمل معاہدہ ہے، جن میں سے زیادہ تر پر اتفاق ہو چکا ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو کیا وہ ایران کے خلاف اپنی سابقہ دھمکیوں (جیسے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنا) پر واپس جائیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا ’آپ کو دیکھنا پڑے گا۔‘
ایران بھی شہباز شریف اور عاصم منیر کا شکرگزار: عباس عراقچی
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی جنگ بندی کے اعلان پر پاکستان کے وزیرِاعظمشہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر ایک بیان جاری کیا ہے جسے وائٹ ہاؤس نے بھی شیئر کیا۔
اس بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ’میں ایران کی جانب سے اپنے عزیز برادران، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہہ دل سے شکریہ اور قدردانی کرتا ہوں کہ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے انتھک کوششیں کیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ میں کی گئی برادرانہ درخواست کے جواب میں، اور امریکہ کی جانب سے اس کی 15 نکاتی تجویز کی بنیاد پر مذاکرات کی درخواست کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کے ایران کی 10 نکاتی تجویز کے عمومی فریم ورک کو مذاکرات کی بنیاد کے طور پر قبول کرنے کے اعلان کو دیکھتے ہوئے، میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ اعلان کرتا ہوں:
’اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ہماری طاقتور مسلح افواج اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔
دو ہفتوں کی مدت کے لیےآبنائے ہرمز سے محفوظ گزر ممکن ہوگا، بشرطیکہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کی جائے اور تکنیکی حدود کا خیال رکھا جائے۔‘
پاکستان کی امریکی اور ایرانی وفود کو اسلام آباد آنے کی دعوت
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کی صبح کہا کہ یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ، ہر جگہ فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر لکھا کہ جنگ بندی میں لبنان سمیت دیگر علاقے بھی شامل ہیں، اور یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہے۔
With the greatest humility, I am pleased to announce that the Islamic Republic of Iran and the United States of America, along with their allies, have agreed to an immediate ceasefire everywhere including Lebanon and elsewhere, EFFECTIVE IMMEDIATELY.
I warmly welcome the…— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) April 7, 2026
’میں اس دانشمندانہ اقدام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ میں ان کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دونوں فریقین نے غیر معمولی بصیرت اور سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت انداز میں رابطے میں رہے ہیں۔
’ہمیں امید ہے کہ ’اسلام آباد مذاکرات‘ پائیدار امن کے حصول میں کامیاب ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید خوشخبریاں شیئر کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو رات گئے پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ایران دی گئی ڈیڈلائن میں دو ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر، ’اور چونکہ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں آج رات ایران کے خلاف بھیجی جانے والی تباہ کن طاقت کو روک دوں، اور اس شرط پر کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو، میں ایران پر بمباری اور حملوں کو دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر رضامند ہوں۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے ہی تمام فوجی مقاصد حاصل کر چکے ہیں بلکہ ان سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں، اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرقِ وسطیٰ میں امن سے متعلق ایک حتمی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ’ہمیں ایران کی جانب سے دس نکات پر مشتمل ایک تجویز موصول ہوئی ہے، اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔‘
امریکی صدر نے کہا کہ ماضی کے تقریباً تمام متنازع نکات پر امریکہ اور ایران کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے، لیکن دو ہفتوں کی مدت اس معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مکمل کرنے کے لیے درکار ہوگی۔
’امریکہ کے صدر کی حیثیت سے، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، میرے لیے یہ باعثِ اعزاز ہے کہ یہ دیرینہ مسئلہ حل کے قریب ہے۔‘
ایران ردعمل
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے طے پایا۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے ردعمل میں کہا ہے کہ اس نے ’ایک بڑی فتح حاصل کی ہے، اور امریکہ نے ہماری دس نکات پر مشتمل تجویز کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے آخری تفصیلات طے کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
امریکی صدر کی مقررہ ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل، ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران سفارتی عمل کے لیے مزید وقت حاصل کرنے کی غرض سے پاکستان کی درخواست کا مثبت جائزہ لے رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ ٹرمپ اس تجویز سے آگاہ ہیں اور اس پر ردعمل دیں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے یہ غیر معمولی دھمکی کہ اگر ایران خلیجی تیل کی ناکہ بندی ختم نہیں کی تو اس کے تمام پلوں اور بجلی گھروں کو تباہ کر دیا جائے گا، عالمی رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث بنی، مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی اور اقوام متحدہ کے سربراہ اور پوپ لیو سمیت وسیع پیمانے پر مذمت سامنے آئی۔ کچھ بین الاقوامی قانونی ماہرین کے مطابق شہری بنیادی ڈھانچے پر وسیع حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے تیز ہو گئے، جن میں ریلوے اور پل، ایک ہوائی اڈہ اور ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ نشانہ بنے۔ امریکی افواج نے خارگ جزیرے پر بھی حملے کیے، جہاں ایران کا اہم تیل برآمدی ٹرمینل واقع ہے۔
ایران نے جواباً اعلان کیا کہ وہ خلیجی پڑوسی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے اب مزید گریز نہیں کرے گا اور اس نے خلیج میں ایک جہاز اور سعودی عرب کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر نئے حملوں کا دعویٰ کیا۔ روئٹرز کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ منگل کی رات دوحہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چھٹے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ میں تقریباً ایک درجن ممالک میں 5,000 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، جن میں ایران کے 1,600 سے زیادہ شہری شامل ہیں، یہ اعداد و شمار سرکاری ذرائع اور انسانی حقوق کے گروہوں سے حاصل کیے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے، جس سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے عالمی معاشی سست روی یا حتیٰ کہ کساد بازاری کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کی مہم کے دوران ٹرمپ کی مقبولیت کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے ان کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکیوں کی بڑی اکثریت اس جنگ کی مخالفت کرتی ہے اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے نالاں ہے۔
مذاکرات کی صورت حال غیر واضح
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے، جو ثالثی کر رہے ہیں، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا کہ ٹرمپ کو اپنی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کرنی چاہیے اور ایران کو خیر سگالی کے طور پر دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھول دینی چاہیے۔
مذاکرات کی صورت حال غیر واضح ہے، جبکہ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔ ایک ایرانی عہدیدار نے ڈیڈ لائن سے تقریباً پانچ گھنٹے قبل بتایا کہ امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی، جو دوبارہ کبھی بحال نہیں ہو سکے گی۔ میں ایسا نہیں چاہتا، لیکن شاید ایسا ہو جائے۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’تاہم، اب جبکہ مکمل اور جامع نظام کی تبدیلی ہو چکی ہے، جہاں زیادہ سمجھ دار اور کم شدت پسند ذہن غالب ہوں گے، شاید کوئی غیر معمولی مثبت تبدیلی ممکن ہو — کون جانتا ہے؟‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بیان پر ’شدید تشویش‘ میں مبتلا ہیں۔ پوپ لیو نے ایران کی آبادی کے خلاف دھمکیوں کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے ٹرمپ کی دھمکی کو ’انتہائی غیر ذمہ دارانہ‘ اور ’شدید تشویشناک‘ قرار دیا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں، جہاں چین اور روس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا، ایروانی نے کہا کہ ٹرمپ کی زبان کسی بھی سیاسی رہنما کے شایان شان نہیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ ٹرمپ کی ڈیڈ لائن قریب آنے کے ساتھ اسرائیل پر حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے اور وہ دفاعی و جارحانہ دونوں کارروائیوں کے لیے تیار ہے۔
ایرانی عوام بھی کسی ممکنہ ریلیف کی امید میں وقت دیکھ رہے تھے۔ اصفہان سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ شیما نے روئٹرز کو فون پر بتایا: ’مجھے امید ہے کہ یہ بھی ٹرمپ کی ایک اور دھمکی ہی ثابت ہوگی۔‘
گذشتہ ہفتوں کے دوران ٹرمپ اس طرح کی دھمکیوں سے اچانک پیچھے ہٹتے رہے ہیں، جن کی وجہ انہوں نے ایران کے بعض نامعلوم افراد کے ساتھ ’تعمیری مذاکرات‘ کو قرار دیا، تاہم تہران نے ایسے کسی بھی سنجیدہ مذاکرات کی تردید کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق قانونی مشیر برائن فینوکیَن کے، جو اب انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ ہیں، مطابق ٹرمپ کے بیانات کو امریکی اور بین الاقوامی قانون کے تحت ’نسل کشی کی دھمکی‘ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
منڈیاں مفلوج
عالمی منڈیاں بڑی حد تک غیر یقینی کا شکار رہیں اور اس بات پر فیصلہ کرنے سے گریزاں دکھائی دیں کہ آیا ٹرمپ اپنی دھمکی پر عمل کریں گے یا نہیں۔ ڈیڈ لائن سے قبل کویت کی وزارت داخلہ نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آدھی رات سے صبح 6 بجے تک گھروں میں رہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین میں امریکی شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے، مصر میں احتیاط برتنے اور سعودی عرب کا سفر مؤخر کرنے کی ہدایت کی۔
ایران کی برنا نیوز ایجنسی کے مطابق تہران کے اوپر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے اور لڑاکا طیارے شہر کے اوپر نچلی پروازیں کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے منگل کو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملے کیے اور فارسی زبان میں جاری ایک سوشل میڈیا پیغام میں خبردار کیا کہ ریلوے کے قریب موجود افراد خطرے میں ہوں گے۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل نے ان ریلوے لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا جو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکاروں، اسلحہ اور خام مال کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
ایران کے امیرکبیر پیٹروکیمیکل پلانٹ پر منگل کی شام امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا، نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا۔ اس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب کے صنعتی شہر جبیل میں ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز کو نشانہ بنایا، جہاں مغربی تیل کمپنیاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔ رائٹرز کی تصدیق شدہ ویڈیو میں دھواں اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔

