|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 35 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔ |
رات 11 بج کر25 منٹ
اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ کا خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ امن اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے قائم رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
رات 10 بج کر50 منٹ
منگل، 8 پی ایم، ایسٹرن ٹائم: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران یا کسی اور تفصیل کے بغیر ٹروتھ سوشل پر کہا ہے: ’منگل، 8 پی ایم، ایسٹرن ٹائم۔‘
اس سے پہلے انہوں نے اتوار کو وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنے یا اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کا سامنا کرنے کے لیے آخری تاریخ منگل کی شام ہے۔ (روئٹرز)
رات 10 بج کر25 منٹ
ایران سے ذاکرات جاری، پیر تک معاہدہ ممکن: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ پیر تک معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
روئٹرز کے مطابق فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور اس حوالے سے پیر (کل) تک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے فوکس نیوز کو مزید بتایا کہ جنگ بندی مذاکرات کے دوران ایرانی مذاکرات کاروں کو ’موت سے استثنیٰ‘ دیا گیا ہے تاکہ بات چیت کا عمل جاری رہ سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ ان کے بقول: ’ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور اس نکتے پر زیادہ بحث بھی نہیں ہو رہی۔‘
رات 9 بج کر45 منٹ
امریکہ ایران سے ’الٹی میٹم کی زبان‘ ترک کرے: روس
روس نے اتوار کو امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے تنازعے کو کم کرنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔
روس کا کہنا ہے کہ امریکہ ’الٹی میٹم کی زبان چھوڑ کر‘ اور صورتحال کو دوبارہ مذاکرات کی راہ پر لا کر اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کا یہ بیان روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف اور ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان گفتگو کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ روئٹرز
شام سات بج کر15 منٹ
امریکی ایئر مین کی ایران سے ڈرامائی بازیابی: مشن کیسے انجام دیا گیا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ ایران میں گرنے والے امریکی لڑاکا طیارے کے عملے کے ایک رکن کو ڈرامائی انداز میں بچا لیا گیا ہے لیکن ایران نے اس مشن کو ’ناکام‘ قرار دیا ہے۔
جنگ کی دھند میں حقائق مبہم ہیں اور سوشل میڈیا پر فوری طور پر گمراہ کن یا جعلی تصاویر پھیل گئیں۔
جمعے کو ایران میں گرنے والے طیارے کے عملے کی شناخت تاحال جاری نہیں کی گئیں تاہم صدر ٹرمپ نے انہیں ’کرو ممبر افسر‘ بتایا یعنی وہ F-15E لڑاکا طیارے میں ہتھیاروں کے نظام کے آپریٹر تھے۔
آپریشن کیسے انجام پایا؟
ایرانی حکام نے مقامی لوگوں اور قبائل کو امریکی ایئر مین کی تلاش میں شامل ہونے کا کہا اور ان کی گرفتاری پر ’بڑا انعام‘ دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
اس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اس مشکل پہاڑی علاقے میں تلاش کی ایک دوڑ شروع ہوئی اور سوشل میڈیا پر امریکی طیارے اور ہیلی کاپٹر کی تصاویر وائرل ہوئیں۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی ایئر مین نے خود کو چھپایا اور ایک موقع پر 2,100 میٹر بلند پہاڑی پر پہنچ گئے۔
سی آئی اے نے ان کی لوکیشن معلوم کرنے میں مدد کی اور ایرانی حکام کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ وہ پہلے ہی پکڑے جا چکے ہیں، ایک دھوکے پر مبنی مہم چلائی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ ایئر مین ’پہاڑ کی ایک دراڑ میں چھپے تھے، اور صرف سی آئی اے کی صلاحیتوں کی بدولت ہی نظر نہ آ رہے تھے۔‘
صدر ٹرمپ کے مطابق اتوار کو شروع ہونے والے ریسکیو آپریشن میں ’درجنوں طیارے‘ اور امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سپیشل فورسز کے سینکڑوں اہلکار شامل تھے، جن میں نیوی سیل ٹیم سکس Navy SEAL Team 6 کے کمانڈوز بھی شامل تھے۔
نیو یارک ٹائمز نے امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا کہ یہ نیوی سیل کمانڈوز، جو 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو مارنے والے مشہور آپریشن میں حصہ لے چکے تھے، ایئر مین کو نکالنے کے لیے ذمہ دار تھے جبکہ امریکی حملہ آور طیارے کور فراہم کر رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ایئر مین اس وقت بچا لیے گئے جب ایرانی افواج موقع پر پہنچ رہی تھیں اور امریکی افواج نے انہیں دور رکھنے کے لیے ان پر فائرنگ کی۔
امریکی ایوی ایشن اہلکار خطرناک علاقوں میں ایجیکشن کی صورت میں زندہ رہنے، چھپنے اور فرار کے لیے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ان کے پاس ریڈیو/جی پی ایس بیکن، پانی، خوراک، فرسٹ ایڈ اور پستول ہوتی ہے۔
Axios کے مطابق ایئر مین زخمی تھا مگر چل سکتا تھا صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر کہا کہ وہ ’خیریت سے ہوگا‘ اور بعد میں انہیں ’سنگین زخمی‘ قرار دیا۔
ایران کا موقف
ایران کی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی آپریشن ’بالکل ناکام‘ رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی طیارے جنوب مشرقی اصفہان کے متروک ہوائی اڈے پر موجود تھے اور Deception and Escape کا حصہ تھے۔
ایرانی میڈیا نے طیارے کے جلے ہوئے ملبے کی تصاویر نشر کیں اور دعویٰ کیا کہ اس مشن کے دوران امریکہ کے دو C-130 طیارے اور دو ہی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر تباہ ہوئے۔
ایرانی حکام نے امریکی فورسز کے صوبے میں لینڈنگ کے دعوے کو ’سفید جھوٹا‘ قرار دیا اور اسے امریکی تاریخی ناکام مشن، ’آپریشن ایگل کلا‘ Operation Eagle Claw سے تشبیہ دی۔ (اے ایف پی)
شام 5 بج کر 30 منٹ
ہرمز کھول دو، ورنہ تم لوگ جہنم میں رہ رہے ہو گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دی گئی ڈیڈ لائن قریب آنے کے بعد ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ’منگل پاور پلانٹ اور پُل ڈے ہوں گے (غالبا پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کے دن)، سبھی کچھ اکٹھا، ایران میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا۔
آبنائے ہرمز کھول دو، ورنہ تم لوگ جہنم میں رہ رہے ہو گے۔ اب دیکھو، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔‘
سہ پہر تین بج کر 53 منٹ
آپریشن میں ناکارہ ہونے والے دو ٹرانسپورٹ جہاز ایران کے قبضے میں جانے سے روکنے کے لیے تباہ کیے گئے: نیویارک ٹائمز
امریکی میڈیا نے امریکی کارروائیوں کے دوران دو امریکی ٹرانسپورٹ طیاروں کے نقصان کی خبر دی تھی۔
نیویارک ٹائمز نے ایک فوجی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کے دوران ناکارہ ہونے والے دو ٹرانسپورٹ طیاروں کو ایران کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لیے تباہ کر دیا گیا۔
تاہم، ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے اصفہان کے جنوب میں دو امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور ایک سی ون تھرٹی ٹرانسپورٹ طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد میں تین مزید طیارے امریکی افواج کو نکالنے کے لیے بھیجے گئے اور گرائے گئے طیاروں کو ایرانیوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لیے اڑا دیا۔
پاسداران انقلاب نے اصفہان میں ایک امریکی طیارے کو مار گرانے کا اعلان بھی کیا تاہم طیارے کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
دن 12 بج کر 20 منٹ
اسرائیلی جنگی بحری جہاز پر کروز میزائل سے حملہ: حزب اللہ
حزب اللہ نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس نے لبنانی ساحل کے قریب ایک اسرائیلی جنگی بحری جہاز کو کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا دعویٰ ہے۔
حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے لبنانی ساحل سے 68 سمندری میل دور موجود ایک اسرائیلی جنگی جہاز کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق یہ جہاز ’لبنانی علاقے پر حملے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔‘
حالیہ دنوں میں اسرائیلی جنگی بحری جہازوں کا لبنان پر حملوں کے لیے متعدد بار استعمال کیا گیا ہے۔اے ایف پی
صبح 11 بج کر 55 منٹ
ایران میں امریکی حملوں کے دوران نو اموات: مقامی میڈیا
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے صوبہ کوہگیلویہ و بویر احمد میں مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں میں کم از کم نو افراد جان سے گئے جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے۔
فارس کے مطابق ایک طبی عہدے دار نے بتایا کہ کوہ سیاہ کے علاقے، جو کوہگیلویہ کی حدود میں واقع ہے، میں ایک حملے کے نتیجے میں پانچ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ آٹھ زخمی ہوئے۔
اسی دوران بویر احمد کے علاقوں وزگ اور کاکان میں ہونے والے دیگر حملوں میں چار افراد مار گئے۔
واضح رہے صوبہ کوہگیلویہ و بویر احمد وہی علاقہ ہے جہاں امریکی ایف-15 ای جنگی طیارے کے گرنے کے بعد لاپتہ امریکی اہلکار کی تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری تھا۔
صبح 11 بج کر 40 منٹ
امریکی ریسکیو مشن کے دوران دشمن کی متعدد اڑنے والی چیزیں تباہ: ایران
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدران انقلاب نے بتایا کہ ایران میں لاپتہ امریکی ایئرمین کو تلاش کرنے کے لیے ہونے والے امریکی مشن کے دوران کئی ’اڑنے والی چیزوں‘ کو تباہ کر دیا گیا۔
پاسداران نے کہا ’ایک مشترکہ آپریشن (ایرو سپیس، گراؤنڈ فورس، عوامی یونٹس، بسیج اور پولیس کمانڈ) کے دوران دشمن کی فضائی چیزوں کو تباہ کر دیا گیا۔‘
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کی پولیس کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی C-130 طیارہ اصفہان کے جنوبی علاقے میں مار گرایا گیا۔
ایرانی مسلح افواج کا متحدہ کمانڈ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے کہا کہ مار گرائے گئے طیاروں میں C-130 ملٹری ٹرانسپورٹ طیارہ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
اتوار کو اس سے قبل ایران کی فوج نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی صوبے میں انہوں نے ایک اسرائیلی ڈرون کو بھی مار گرایا۔ روئٹرز
صبح نو بج کر 20 منٹ
ایران میں گرنے والے جنگی طیارے کے لاپتہ افسر کو ریسکیو کر لیا: ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی صبح ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ایران کی جانب سے لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کے نتیجے میں لاپتہ ہونے والے ایک امریکی افسر کو تلاش کر لیا گیا۔
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی فوجی کی تلاش و بچاؤ کی ایک کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب جمعے کو F-15E سٹرائیک ایگل طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔
ایران نے بھی ’دشمن پائلٹ‘ کو پکڑنے والے کے لیے انعام کا اعلان کیا تھا۔ گرنے والے طیارے کے دوسرے رکن کو پہلے ہی بچایا جا چکا تھا۔
FROM PRESIDENT DONALD J. TRUMP
WE GOT HIM! My fellow Americans, over the past several hours, the United States Military pulled off one of the most daring Search and Rescue Operations in U.S. History, for one of our incredible Crew Member Officers, who also happens to be a highly…
— Commentary: Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) April 5, 2026
ٹرمپ نے لکھا یہ ہوا باز زخمی ہے لیکن ’بالکل ٹھیک ہو جائے گا‘ اور اس نے ’ایران کے خطرناک پہاڑوں میں پناہ لی‘ تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس ریسکیو آپریشن میں ’درجنوں طیارے‘ شامل تھے اور امریکہ اس کے مقام پر ’24 گھنٹے نگاہ رکھے ہوئے تھا‘ اور اس کی بازیابی کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
یہ لڑاکا طیارہ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایرانی سرزمین میں گرنے والا پہلا امریکی طیارہ تھا اور تلاش کا دائرہ ایران کے جنوب مغربی صوبے کہگیلویہ و بویر احمد کے پہاڑی علاقوں تک پھیلا ہوا تھا۔
صبح سات بجے
ایران کے اسرائیل اور کویت پر حملے
اتوار کو علی الصبح ایران نے اسرائیل اور کویت پر میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔
کویت اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کا فضائی دفاعی نظام ایران کے ان تازہ ترین حملوں کا جواب دے رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ حملہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ایک روز بعد کیا گیا جس میں انہوں نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر معاہدہ کر لے ورنہ ’جہنم‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔
ٹرمپ نے ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر 26 مارچ کو دیے گئے الٹی میٹم کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ’یاد کریں جب میں نے ایران کو معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 10 دن کی مہلت دی تھی۔‘
انہوں نے مزید لکھا ’وقت ختم ہو رہا ہے۔ 48 گھنٹے باقی ہیں، جس کے بعد ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔‘
ایران کی مرکزی ملٹری کمانڈ نے اس الٹی میٹم کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی جنرل علی عبداللہی علی آبادی نے دھمکی کو ’ایک بے بسی، گھبراہٹ پر مبنی، غیر متوازن اور احمقانہ فعل‘ قرار دیا۔
ٹرمپ ہی کے انداز میں جوابی وار کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ’آپ کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔‘
صبح چھ بج کر 45 منٹ
امریکی صدر کا ’متعدد‘ ایرانی فوجی رہنماؤں کو مارنے کا دعویٰ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ ایران کے دارالحکومت میں کیے گئے بڑے حملے میں ایران کے ’متعدد‘ فوجی رہنما مارے گئے ہیں۔
ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ’ایران کے متعدد فوجی رہنما، جنہوں نے ناقص اور غیر دانش مندانہ قیادت کی، تہران میں اس زبردست حملے کے نتیجے میں دیگر بہت سی چیزوں سمیت ختم ہو چکے۔‘
اس پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شامل ہے جس میں رات کے وقت شہر کے افق پر دھماکوں کی روشنی دیکھی جا سکتی تھی۔
تاہم اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ فوجی کارروائی کب کی گئی۔
صبح چھ بج کر 30 منٹ
امریکہ میں گرفتار خواتین کا قاسم سلیمانی خاندان کا تعلق نہیں: ایرانی میڈیا
اے ایف پی نے ایرانی میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مقتول ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی دو بیٹیوں نے اس امر کی تردید کی ہے کہ امریکہ میں جن خواتین کو گرفتار کیا ہے وہ ان کی رشتہ دار ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور ان کی بیٹی کو گرفتار کر کے ان کی امریکی رہائشی حیثیت منسوخ کر دی گئی ہے۔
بیان میں بھتیجی کی شناخت حمیدہ سلیمانی افشار کے نام سے کی گئی تھی، تاہم ان کی بیٹی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔
