امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی زبردست اور واحد ثالث ہیں: وائٹ ہاؤس

Share

امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر جاری۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں ہی ہونے کا امکان۔

امریکی فوج کا ایران کی سمندر میں تجارت کو مکمل بند کرنے کا دعویٰ۔

لائیو اپ ڈیٹس


ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کا اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے: وائٹ ہاؤس

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد پر بات کر رہا ہے اور وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے پر امید ہے۔

پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ ’وہ بات چیت ہو رہی ہے‘ اور ’ہم معاہدے کے امکانات کے بارے میں اچھا محسوس کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ مزید بات چیت ’بہت امکان ہے‘ اسلام آباد میں ہو گی۔

کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ’امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستانی ایک زبردست ثالث رہے ہیں اور وہ واحد ثالث ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کے کئی ممالک نے مدد کی حمایت کی مگر صدر سمجھتے ہیں کہ اس عمل کو پاکستان کے ذریعے جاری رکھنا اہم ہے۔‘


فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی وفد تہران پہنچ گیا: آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کو بتایا ہے کہ فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی وفد کے ہمراہ جاری ثالثی کوششوں کے تحت تہران پہنچ گئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔

فیلڈ مارشل کا یہ دورہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔


آج پاکستانی وفد تہران پہنچ سکتا ہے: ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ (آج) بدھ کو پاکستانی وفد ایران پہنچے گا اور تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تسلسل میں امریکہ کی جانب سے پیغامات کا دے گا۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کے ذریعے کی جانے والی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی وفد کی امریکہ ایران مذاکرات سے وطن واپسی کے بعد پیغامات کا تبادلہ جاری رہا۔


ایران جنگ نہیں چاہتا، بات چیت کو ترجیح دیتا ہے: ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا اور وہ بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔

پزشکیان نے بدھ کو اپنے بیان میں کہا کہ ایران نہ جنگ اور نہ ہی عدم استحکام کا خواہاں ہے، بلکہ ہمیشہ دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ مکالمے اور تعمیری روابط کی زبان پر زور دیتا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کسی صورت ہتھیار ڈالنے کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق کسی بھی طرح کی زبردستی مسلط کرنے یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بین الاقوامی نظام میں دوہرے معیار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس دوہرے معیار کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف فوجی کارروائی بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔

تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایران پر حملہ کسی قانونی اختیار کے تحت کیا گیا؟ اور اصل جرم کیا ہے؟ آخر شہریوں، ماہرین، بچوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور سکولوں و ہسپتالوں سمیت اہم مراکز کی تباہی کا کیا جواز ہے؟


امریکہ، ایران جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے کے قریب: ثالث

امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ ہفتے ختم ہونے والی جنگ بندی کی توسیع کے لیے ثالث بدھ کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی اور ایرانی دھمکیوں کی تجدید نے ہفتہ پرانے معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن علاقائی حکام نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ وہ پیش رفت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران نے مزید سفارت کاری کی اجازت دینے کے لیے اس میں توسیع کے لیے ’اصولی معاہدہ‘ کیا ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ثالثی کی کوششوں میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے بتایا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے سے پہلے، ثالث تین اہم نکات پر سمجھوتہ کرنے پر زور دے رہے ہیں جن میں ایران کا جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور جنگ کے وقت ہونے والے نقصانات کا معاوضہ شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریش سمیت عالمی رہنماؤں نے منگل کو کہا کہ آنے والے دنوں میں مذاکرات کی بحالی کا امکان ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ تازہ مذاکرات ابھی زیرِ بحث ہیں اور کچھ طے نہیں ہوا ہے۔

اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ وہ حساس مذاکرات پر بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہماری قیادت امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے میں مدد کرنے کی کوششوں سے دستبردار نہیں ہو رہی ہے۔‘

ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود پاکستان کے ذریعے رابطے موجود ہیں۔

ایرانی حکام نے اے ایف پی کو مزید بتایا کہ بدھ کو ایک پاکستانی وفد کی تہران میں آمد متوقع ہے۔ 


ٹرمپ اور شی کے درمیان خط و کتابت: ایران کو اسلحہ نہ دیں، ہم نہیں دے رہے 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو فاکس بزنس پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے چین کے رہنما شی جن پنگ سے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے کا کہا اور شی نے جواب دیا کہ وہ ایسا نہیں کر رہے ہیں۔

فاکس بزنس پر ماریا بارٹیرومو کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’میں نے سنا ہے کہ چین ہتھیار دے رہا ہے، میرا مطلب ہے، آپ اسے ہر جگہ دیکھ رہے ہیں۔

’اور میں نے انہیں (شی کو) ایک خط لکھا جس میں اس سے ایسا نہ کرنے کو کہا، اور انہوں (شی) نے مجھے ایک خط لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ بنیادی طور پر وہ (چین) ایسا نہیں کر رہا ہے۔‘


ایران کی خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر کو بھی بند کرنے کی دھمکی

ایران کی فوج نے بدھ کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو وہ بحیرہ احمر کے ساتھ ساتھ خلیج اور بحیرہ عمان کے راستوں کو بھی تجارت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں، ایران کے ملٹری سینٹرل کمانڈ سینٹر کے سربراہ نے کہا کہ اگر امریکہ اپنی ناکہ بندی جاری رکھتا ہے اور ’ایران کے تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے عدم تحفظ پیدا کرتا ہے‘ تو یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا ’ایک پیش خیمہ‘  ہوگا۔

علی عبداللہی نے کہا کہ ایسی صورت میں اسلامی جمہوریہ کی طاقتور مسلح افواج خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں کسی قسم کی برآمدات یا درآمدات کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گی۔


وزیر اعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو سعودی عرب کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے جدہ روانہ ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے تناظر میں اس دورے کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔


صدر چھوٹی ڈیل نہیں، بڑا معاہدہ چاہتے ہیں: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے مذاکرات میں ڈیل نہ ہونے کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کوئی ’چھوٹی ڈیل‘ نہیں چاہتے۔

ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کی تقریب کے دوران جب ان سے امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صدر نے ایک پالیسی طے کر دی ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ اور اس وقت ہم اسی بات کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

وینس نے کہا کہ ’صدر (ٹرمپ) کوئی چھوٹی ڈّیل نہیں چاہتے، وہ ایک بڑا، جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ایران کو ایک سادہ پیشکش کی گئی ہے۔ ’صاف بات یہ ہے کہ شاید کسی بھی صدر کے پاس اس طرح کی پیشکش کرنے کی صلاحیت پہلے نہیں تھی۔

’اگر آپ ایک نارمل ملک کی طرح برتاؤ کرنے پر آمادہ ہوں، تو ہم بھی آپ کے ساتھ معاشی طور پر ایک نارمل ملک کی طرح سلوک کریں گے۔‘

انہوں نے مزید ہا کہ ’وہ (ٹرمپ) چھوٹا معاہدہ نہیں چاہتے، اور یہی ایک وجہ ہے کہ اگرچہ پاکستان میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن معاہدہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔

’کیونکہ صدر واقعی ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، ایران دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی نہ کرے، اور ساتھ ہی ایران کے عوام ترقی کریں، خوشحال ہوں اور عالمی معیشت کا حصہ بنیں۔

’یہی وہ پیشکش ہے جو وہ کر رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کا عہد کریں، تو ہم ایران کو ترقی دیں گے، اسے معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے۔‘


ایران کی سمندر میں تجارت مکمل روک دی ہے: امریکی فوج

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ناکہ بندی کے ذریعے ایران کی سمندر سے تجارت کو مکمل بند کر دیا ہے۔

امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایک بیان میں کہا کہ ’امریکی فورسز نے سمندر میں ناکہ بندی کے ذریعے ایران میں داخل ہونے اور باہر نکلنے والی اکنامک تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘

سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کے مطابق کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ ’ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ کر دی گئی ہے اور امریکی افواج مشرقِ وسطیٰ میں سمندری برتری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

’اندازاً ایران کی 90 فیصد معیشت سمندری بین الاقوامی تجارت پر منحصر ہے۔ ناکہ بندی کے نفاذ کے 36 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امریکی افواج نے ایران کے اندر اور باہر سمندری راستے سے ہونے والی معاشی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘


ایرانی بندر گاہوں کی ناکہ بندی میں گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی شامل: سینٹ کام

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کو بتایا کہ امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز ان وسائل میں شامل ہیں جو ایرانی بندرگاہوں کو متاثر کرنے والی ناکہ بندی کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔

بیان کے مطابق یہ ناکہ بندی ان تمام ممالک کے جہازوں پر بلا امتیاز نافذ کی جا رہی ہے جو ایران کے ساحلی علاقوں یا بندرگاہوں میں داخل ہو رہے ہیں یا وہاں سے روانہ ہو رہے ہیں۔

’ایک عام ڈسٹرائر پر 300 سے زائد ملاح (سیلرز) پر مشتمل عملہ ہوتا ہے، جو سمندری جارحانہ اور دفاعی کارروائیاں انجام دینے میں اعلیٰ تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

انڈیا: آئی ٹی کمپنی میں جنسی استحصال کا سکینڈل بے نقاب

جمعرات اپریل 16 , 2026
Share انڈیا میں خفیہ خاتون پولیس اہلکاروں کے ایک گروپ نے مبینہ جنسی استحصال اور مذہب کی تبدیلی کے سکینڈل کو بے نقاب کرنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی آئی ٹی سروسز کمپنیوں میں سے ایک میں ملازمین کا روپ دھار لیا۔ مغربی انڈیا کے شہر ناسک میں […]

You May Like