امداد کے حصول کے دوران فلسطینیوں کا قتل ناقابل قبول: اقوام متحدہ

Share

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے پیر کو غزہ میں ایک امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز کے قریب کم از کم 31 فلسطینیوں کی اموات پر آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امدادی کارکنوں نے ان اموات کا الزام اسرائیلی فوج پر عائد کیا ہے۔

گوتریش نے ایک بیان میں کہا: ’میں ان خبروں پر شدید صدمے میں ہوں کہ فلسطینیوں کو گذشتہ روز غزہ میں امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران قتل اور زخمی کیا گیا۔ یہ ناقابل قبول ہے کہ فلسطینیوں کو خوراک کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں ان واقعات کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔‘

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اتوار کو غزہ کی پٹی میں خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہونے والے ہجوم پر فائرنگ سے کم از کم 31 افراد قتل اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے طلوع فجر سے قبل تقریباً ایک کلومیٹر دور ایک امدادی مرکز کے قریب ہجوم پر فائرنگ کی۔ یہ مرکز ایک امریکی حمایت یافتہ تنظیم ’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘ چلا رہی ہے۔

ادھر ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ رات کے وقت کچھ مشتبہ افراد جب فوجیوں کے قریب آئے تو انہیں خبردار کرنے کے لیے صرف ہوائی فائرنگ کی تھی۔

اس دوران پیر ہی کو غزہ کی پٹی میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی حملے کے نتیجے میں 14 افراد قتل کیے گئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔

شفا اور الاھلی ہسپتالوں نے اے پی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حملہ شمالی غزہ کے گنجان آباد جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ہوا اور مرنے والوں میں پانچ خواتین اور سات بچے شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج نے فوری طور پر اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیلی جارحیت میں اب تک 54 ہزار سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے بدھ کو غزہ میں امریکی حمایت یافتہ امدادی نظام کی مذمت کی جہاں خوراک کی تقسیم کے دوران شدید افراتفری میں 47 افراد زخمی گئے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

غزہ میں امدادی بحران اور بڑھتی ہوئی خوراک کی کمی کے پس منظر میں ’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘ پر تنقید میں شدت آ گئی ہے۔

یہ ایک اسرائیل نواز گروپ ہے جو طویل عرصے سے اقوام متحدہ کی زیرِ قیادت امدادی نظام کو نظر انداز کر کے کام کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق منگل کو ہزاروں فلسطینی خوراک کے حصول کے لیے جی ایچ ایف کے امدادی مرکز کی طرف لپکے جس کے نتیجے میں افراتفری مچ گئی اور 47 افراد زخمی ہوئے جن میں سے زیادہ تر گولیاں لگنے سے متاثر ہوئے۔

ایک فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اس افراتفری میں کم از کم ایک شخص جان سے گیا۔

فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے سربراہ اجیت سنگھ نے کہا کہ زیادہ تر زخمی گولیوں سے متاثر ہوئے۔

ان کے مطابق دستیاب معلومات کی بنیاد پر ’فائرنگ اسرائیلی فوج کی جانب سے کی گئی تھی۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

زلزلے لانڈھی فالٹ لائن ایڈجسٹمنٹ کے باعث ہیں، کچھ دن میں رکیں گے: چیف میٹرولوجسٹ کراچی

منگل جون 3 , 2025
Share کراچی میں اتوار یکم جون کی شام ساڑھے پانچ بجے سے ریکٹر سکیل پر درمیانی اور کم شدت والے زلزلوں کا سلسلہ منگل کو بھی جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی شام سے منگل کی دوپہر تک کراچی کے مختلف علاقوں میں 19 زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ […]

You May Like