آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟

Share

صدر ٹرمپ کی جانب سے اتوار کی صبح ایران پر حملے کے بعد ایران کی پارلیمان نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دے دی ہے، البتہ اس کا حتمی فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کرے گی۔

اس کے علاوہ امریکی حملے کے بعد ایرانی رہبرِ اعلٰی خامنہ ای کے ایک مشیر حسین شریعت مادری نے آبنائے ہرمز کی بندش کے بارے میں کہا کہ ’فردو کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اب ہماری باری ہے۔‘

اس بحری گزرگاہ  کے ذریعے روزانہ دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکہ کے توانائی کے ادارے ای آئی اے کے مطابق اس بحری راہداری سے ہر سال 600 ارب ڈالر کا سامان گزرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ لمبے عرصے کے لیے بند ہو گئی تو عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

آبنائے ہرمز کیا ہے؟

آبنائے ہرمز عمان اور ایران کے درمیان ایک بحری پٹی ہے۔ اپنے سب سے تنگ مقام پر یہ 33 کلومیٹر چوڑی ہے، لیکن اس مقام پر جہازرانی کا راستہ صرف تین کلومیٹر چوڑا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے روزانہ 30 سے 40 بحری جہاز گزرتے ہیں۔ یہ جہاز دو کروڑ سے زیادہ بیرل تیل لے کر جاتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ تمام خطے کو فراہم کیے جانے والا ساز و سامان بھی اسی راستے سے آتا ہے۔

کیا ایران اسے بند کر سکتا ہے؟

آبنائے میں جہازوں کی گزرگاہ والا علاقہ ایرانی سمندر میں سے نہیں بلکہ عمان کے پانیوں میں واقع ہے۔ البتہ ایرانی بحریہ یہاں کوئی کارروائی کرے تو اس سے کمرشل جہازوں کی آمد و رفت بند ہو جائے گی۔

اس اہم گزرگاہ کو بند کرنا امریکہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر براہ راست معاشی دباؤ ڈالنے کا موثر ذریعہ ہو گا، کیونکہ اس سے تیل کی قیمتیں یک دم بڑھ جائیں گی اور امریکہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد اببھی سے برینٹ تیل کی قیمت 80 ڈالر کو چھو گئی، حالانکہ ابھی ایران نے آبنائے کو بند کرنے کا اعلان نہیں کیا۔ اگست 2024 کے بعد سے برینٹ آئل کی قیمت 60 سے 75 ڈالر کے درمیان رہی ہے۔  

چین کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟

گزرگاہ کی بندش چین کو شدید نقصان پہنچے گا، کیونکہ وہ ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد خریدتا ہے۔  

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو آبنائے ہرمز بند کرنے سے باز رہنے پر آمادہ کرے۔

اتوار کے روز فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’میں بیجنگ میں چینی حکومت پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر ایران سے بات کرے، کیونکہ ان کی تیل کی فراہمی کا بڑا انحصار آبنائے ہرمز پر ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’اگر انہوں نے ایسا کیا تو یہ ان کی ایک اور خوفناک غلطی ہو گی۔ یہ ان کے لیے معاشی خودکشی ہو گی۔ ہمارے پاس اس سے نمٹنے کے آپشن موجود ہیں، لیکن دیگر ممالک کو بھی اس معاملے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے نتائج دیگر ممالک کی معیشتوں کے لیے امریکہ کی نسبت کہیں زیادہ تباہ کن ہوں گے۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور دوسرے ملکوں کا ردعمل کیا ہو گا؟

آبنائے ہرمز کے قریب بحرین میں قائم 34 ملکوں کا بین الاقوامی اتحاد جہاز رانی کی حفاظت کے لیے موجود ہے۔ امریکہ کا پانچواں بحری بیڑہ بھی قریب ہی تعینات ہے۔

عسکری تجزیے بتاتے ہیں کہ ایرانی بحریہ نے اگر یہاں کوئی کارروائی کی تو ممکنہ طور پر یہ بین الاقوامی بحری طاقتیں ایرانی بحریہ کو سخت نقصان پہنچا کر چند گھنٹوں کے اندر اندر راستہ کھول دیں گی۔

دوسری جانب آبنائے کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا کہ کیوں کہ یہاں سے گزرنے والے 83 فیصد تیل کا خریدار ایشیا ہے، صرف 7.5 فیصد یورپ کو جاتا ہے۔ خود ایرانی تیل اسی راستے سے گزرتا ہے، جس سے آنے والی آمدن کی موجودہ حالات میں اسے سخت ضرورت ہے۔

اس لیے اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرے۔ لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو ماہرین کے مطابق اس کا زیادہ نقصان خود ایران کو ہو گا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

قطر میں امریکی فوجی اڈے پر 6 میزائلوں سے جوابی حملہ: ایران

بدھ جون 25 , 2025
Share اسرائیل کے 13 جون کو ایران کی متعدد فوجی اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے نتیجے میں ایران کی عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں کی موت کے بعد آپریشن ’وعدہ صادق سوم‘ کے نام سے تہران کے جوابی حملے جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل بھی مختلف ایرانی شہروں اور تنصیبات پر میزائل حملے […]

You May Like