پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کریں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے دفتر سے بدھ کی شب جاری ایک بیان میں ہدایت کی کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو مزید بڑھایا جائے اور تیز تر کیا جائے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں 26 جون سے وقفے وقفے سے بارشیں جاری ہیں۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے اعداد شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اب تک 116 بچوں سیمت 242 افراد کی جان جا چکی ہے جبکہ 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
انٹرنیشل فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 845 گھر جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو گے جس سے پانچ ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے۔
انہوں نے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند شاہراہوں خصوصاً شاہراہ قراقرم اور ناران، بابوسر، چلاس شاہراہ پر بحالی کا کام تیز تر کرنے کی ہدایت کی اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے کہا ’جو مسافر شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں انہیں رہائش، خوراک سمیت ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔‘
انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ ’مون سون کے آنے والے سپیلز کے لیے این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم ایز، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے ادارے مل کے لائحہ عمل بنائیں۔‘
بابوسر سیلاب: ’آخری لاش کی بحالی تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا‘
بابوسر سیلاب کے بعد دفتر ڈپٹی کمشنر، دیامر، گلگت بلتستان نے بدھ کی رات سرکاری اپ ڈیٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب تک تصدیق شدہ اموات کی تعداد سات ہے، جب کہ تین افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اپ ڈیٹ کے مطابق 22 جولائی کو شدید بارشوں کے باعث تھک، نیاٹ، تھور، شراٹ اور پریکہ سمیت مختلف علاقوں میں شدید سیلاب آیا جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اب تک 200 سے زائد سیاحوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور انہیں چلاس کے مختلف ہوٹلوں میں قیام، خوراک اور دیگر سہولیات ضلعی انتظامیہ اور ہوٹل ایسوسی ایشن کی مدد سے فراہم کی جا رہی ہیں۔ 111 سیاحوں کو جلد ناٹکو بسوں کے ذریعے راولپنڈی روانہ کیا جائے گا۔
بارشوں میں ایک سو مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جب کہ پانچ پل بہہ گئے۔ 21 سے زائد گاڑیاں ابھی تک سڑک پر پھنسی ہوئی ہیں، اور سڑک کو بحال کرنے کے لیے کام جاری ہے۔
گذشتہ روز وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے تھک بابوسر اور تھور کا دورہ کیا اور کہا کہ تھک کے مقام پر تمام لاپتہ افراد کو نکالنے تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقے تھک، نیاٹ، کھنراور تھور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دیتے ہوئے تھک کے مقام پر سیلاب کی زدمیں آ کر جان سے جانے والوں کے ورثا کو حکومتی پالیسی کے تحت معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔
سیلاب کی وجہ سے علاقے میں بجلی کی فراہمی درہم برہم ہو گئی ہے، وزیرِ اعلیٰ نے اس کی جلد بحالی کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ ہم آخری لاش کی بازیابی تک ریسکیو آپریشن جاری رکھیں گے۔
مزید بارشوں کی پیشں گوئی
محکمہ موسمیات کے ایک بیان کے مطابق جمعرات کو راولپنڈی، لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں اربن فلڈنگ یعنی شہری سیلاب کو خطرہ ہے جبکہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی نالوں میں بھی سیلاب آ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ تین بڑے دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب میں کئی مقامات پر نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی صورت حال برقرار رہے گی۔
حالیہ بارشوں اور سیلاب سے تاحال کسی علاقے میں وبائی امراض پھوٹنے کی اطلاعات تو سامنے نہیں آئیں البتہ ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے گذشتہ مہینے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے حکومت پاکستان اور صحت کے شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک منصوبے کو حتمی شکل دی تھی جس کے تحت ممکنہ طور پر متاثرہ 13 لاکھ افراد کو ہنگامی طبی امداد فراہم کی تیاری شامل ہے۔
اس منصوبے کے اہم مقاصد میں مربوط اور بروقت ایمرجنسی ردعمل کو یقینی بنانا، زیادہ خطرے والے علاقوں میں بنیادی صحت کی خدمات کی بلا تعطل فراہمی کو برقرار رکھنا، اور بیماریوں کی نگرانی، ابتدائی انتباہی نظام، اور تیز تر وبائی ردعمل کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
منصوبے میں 33 ترجیحی اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کا تعلق پنجاب (10)، سندھ (10)، بلوچستان (9)، اور خیبرپختونخوا (4) سے ہے۔

