پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی سے شام چار بجے کے بعد کارکنان اور رہنما اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے جبکہ شاندانہ گلزار نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کو منگل کو جاری کیے جانے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’پارٹی کا دھیان پہلے پرامن لیکن پرجوش احتجاج پر ہے، جس کا مقصد عمران خان کی رہائی اور ان کے خلاف مقدمات میں شفافیت کا مطالبہ ہے۔‘
پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات منوانے کے لیے ایک مرتبہ پھر ’تحریک‘ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنان کو متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے ملک بھر کے مختلف حصوں میں احتجاج کے لیے اپنے کارکنان کے ہمراہ نکلیں گے تاہم اب اڈیالہ جیل کو مرکزی مقام قرار دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے لندن میں مقیم رہنما زلفی بخاری کے مطابق پارٹی کے تقریبا 200 کارکنان کو لاہور سے گرفتار کیا گیا ہے اور پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی سمیت سات اراکین اسمبلی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سیاسی جماعت کے اندرونی حلقے اس وقت کئی اہم فیصلوں پر غور کر رہے ہیں، جن میں اس نئی تحریک کی نوعیت اور اس کی قیادت سے متعلق امور شامل ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کو بھجوائے گئے بیان میں اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی نے احتجاج کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی تھیں جس کے لیے کارکنان کو ملک بھر میں متحرک کیا گیا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے پارٹی میں اختلافات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پارٹی کے تمام اندرونی اختلافات کو وقتی طور پر ختم کر کے ایک مشترکہ ہدف پر کام کیا جا رہا ہے۔ یہ وقت ذاتی اختلافات کا نہیں ہے، تحریک کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کا ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ احتجاج کے لیے تمام ایم این ایز اور سینیٹرز کو راولپنڈی کے ایڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کی ہدایت دی گئی تھی جو کچھ دیر میں اس جانب روانہ ہوں گے۔ جبکہ صوبائی سطح پر اراکین اسمبلی اپنے علاقوں میں ریلیاں نکالیں گے اور عوامی اجتماعات کریں گے۔
گدشتہ روز اڈیالہ جیل راولپنڈی کے سپرنٹینڈنٹ نے راولپنڈی پولیس کو جیل کی سکیورٹی بڑھانے کے لیے خط لکھا تھا۔
پیر کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا تھا کہ ’راولپنڈی کی اڈیالہ جیل نہ صرف صوبے کی حساس جیل ہے بلکہ اس میں 7700 قیدی موجود ہیں جن میں چند ’ہائی پروفائل دہشت گرد اور بین الاقوامی سطح کے سیاسی قیدی شامل ہیں۔‘
راولپنڈی پولیس کے سٹی پولیس افسر کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’یہ آپ کے نوٹس میں لانا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کے سیاسی کارکن اور پی ٹی آئی رہنما کے اہل خانہ خصوصا ان کی بہن جیل کے باہر انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتی ہیں۔‘
خط میں کہا گیا ہے کہ ’الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے یہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ پانچ اگست کو وہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں لہذا صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے جیل کی سکیورٹی کو بڑھانا چاہیے تاکہ کسی بھی ناخوشگواتر صورت حال سے نمٹا جا سکے۔‘
حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے پر کیا لائحۂ عمل اختیار کیا جائے گا؟
اس سوال کے جواب میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ تین سال سے احتجاج ہی کرتے آ رہے ہیں، ’مزاحمت بھی احتجاج ہی کی صورت ہے۔‘
پی ٹی آئی کی خاتون رہنما اور رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کہتی ہیں کہ پی ٹی آئی کے پاس مزاحمت کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا پی ٹی آئی کا احتجاج 25 مئی 2022 کو شروع ہوا تھا۔
’تب سے اب تک ہمارے کتنے ہی کارکن شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں جیلوں میں قید ہیں اور ہمارے رہنما عمران خان اب بھی جیل میں ہے۔ ایسے میں کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہ صرف ایک دن کی تحریک ہے؟ ہم نے یہ تحریک نہ اس دن روکی تھی اور نہ آج روکیں گے، اور نہ ہی آئندہ روکیں گے۔‘
شاندانہ گلزار کا کہنا ہے کہ ’رکن قومی یا صوبائی اسمبلی اگر جیل جاتا ہے تو وہ سمجھ آتا ہے، کیونکہ اس نے ٹکٹ لیا ہے، وہ عمران خان کے نام پر ووٹ لے کر آیا ہے۔ لیکن جب غریب کارکن کو اُٹھایا جاتا ہے تو وہ ناانصافی ہے۔‘
پارٹی میں اتحاد کے سوال پر شاندانہ نے کہا کہ ’پارٹی میں بہت سے معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن ایک بات طے ہے کہ سب کا رہنما صرف اور صرف عمران خان ہے، ان ہی کی بات آخری فیصلہ ہوتی ہے۔
’سلمان اکرم راجہ جب سے سیکریٹری جنرل بنے ہیں، انہوں نے کئی اہم فیصلے کیے ہیں جو خوش آئند ہیں۔ گوہر خان بھی بہت سے معاملات میں فیصلہ سازی میں متحرک ہیں۔ جبکہ چیئرمین، سیکریٹری جنرل اور دیگر سینئر رہنما مل کر فیصلے کر رہے ہیں۔ یہی قیادت ہے جو پارٹی کی سمت طے کر رہی ہے۔‘
مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں اگلے لائحہ عمل سے متعلق شاندانہ گلزار نے کہا ’اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے، تو ہمارا اگلا قدم صرف ایک ہی ہوگا: مزاحمت اور مزاحمت۔ ہمارے پاس اب اس کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔‘
تاہم انہوں نے ’مزاحمت کے طریقہ کار‘ سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔

