فرحان غنی سمیت 3 ملزمان کی رہائی پر عدالت برہم، دو ستمبر کو پیشی کا حکم

Share

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیروزآباد پولیس کی جانب سے صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی اور ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی اور دیگر دو ملزمان کی رہائی کی رپورٹ پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں دو ستمبر کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

فرحان غنی اور دیگر کے خلاف ہفتے 23 اگست کو حافظ سہیل کی مدعیت میں فیروز آباد تھانے میں دہشت گردی، اقدام قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا جس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کا 30 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا اور پولیس کو آج 30 ستمبر کو ملزمان کو عدالت میں پیش کرنا تھا۔

مقدمے کے مدعی جی جانب سے مقدمہ واپس لینے کے بیان کے بعد آج صبح فیروز آباد پولیس نے فرحان غنی اور دیگر کو رہا کر دیا تھا۔

فیروز آباد تھانے کے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کی رہائی کے متعلق رپورٹ کے مطابق وقوعے کے روز مدعی اور گواہان کے درمیاں گالم گلوچ اور معمولی ہاتھا پائی ہوئی تھی اور کیس کے دوران مدعی کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے۔ میڈیکل لیٹر میں بھی جرم قابل دست اندازی نہیں آیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق: ’مدعی نے تھانے آکر بیان دیا کہ وہ مقدمے میں مزید کارروائی نہیں چاہتے۔ معززین کی مداخلت کے بعد افہام و تفہیم سے معاملہ ختم ہوگیا، اس لیے فرحان غنی اور دیگر کو رہا کیا جاتا ہے۔‘

عدالت میں رپورٹ پیش کرنے پر استفسار کیا گیا کہ کیس کا مدعی اور ملزمان کہاں ہیں؟ پولیس نے ملزمان کو ریلیف دے دیا، اب دیکھنا ہے کہ دفعہ 497 اس کیس میں بنتا ہے یا نہیں؟

عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ ملزمان سے مچلکے لیے یا ایسے ہی چھوڑ دیا؟ جس پر تفتیشی افسر نے کہا 10 لاکھ روپے کے مچلکے لیے ہیں۔ تفتیشی افسر نے مچلکے سے متعلق رپورٹ عدالت کو پیش کی۔

عدالت نے پولیس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ پولیس ملزمان کو 30 تاریخ کوپیش کرے گی، ملزمان کہاں ہیں؟ کیوں  پیش نہیں کیا گیا؟ تفتیشی افسر کو قانونی کی سمجھ بوجھ ہوتی تو ضامن کی آج زرضمانت ضبط ہوجاتی۔

عدالت یہ دیکھے گی کہ تفتیشی افسر نے جو اختیارات کا استعمال کیا ہے وہ قانون کے مطابق ہیں بھی یا نہیں۔ عدالت نے ملزمان کی رہائی سے متعلق زیر دفعہ 497 رپورٹ پر ملزمان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دو ستمبر تک ملتوی کر دی۔

پراسیکیوٹر نے تفتیشی افسر کو کسٹڈی پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا، ملزمان کو عدالت میں پیش کریں، عدالت میں کسٹڈی پیش کر کے جو بھی استدعا ہے کریں۔

تفتیشی افسر نے کہا ’ملزمان کو شنوائی پر عدالت میں پیش کریں گے۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

لاہور، 8 سالہ بچی سے زیادتی، ملزم ڈرائیور گرفتار

ہفتہ اگست 30 , 2025
Shareغالب مارکیٹ میں ڈرائیور نے گاڑی کے اندر 8 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی تاہم پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ لاہور پولیس نے بتایا کہ ایس ایچ او غالب مارکیٹ فیصل ندیم نے ٹیم کے ہمراہ ملزم کو گرومانی روڈ گلبرگ سے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے بتایا […]

You May Like