چارلی کرک کا مشتبہ قاتل گرفتار، ٹرمپ کا اعلان

Share

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا کہ دائیں بازو کے سرگرم کارکن چارلی کرک کا مشتبہ قاتل ٹائلر رابنسن کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ مشتبہ قاتل کو اس کے قریبی شخص نے حکام کے حوالے کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ کرک کے قاتل کو موت کی سزا دی جائے گی۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز کے لائیو انٹرویو کے دوران اعلان کرتے ہوئے کہا ’مجھے یقین کے ساتھ لگتا ہے کہ وہ ہمیں مل گیا ہے۔ وہ حراست میں ہے۔‘

صدر نے بتایا کہ مشتبہ شخص کی شناخت امریکی حکام کی جاری کردہ تصاویر کی مدد سے ہوئی، جو کرک کے قتل کے بعد جاری کی گئیں۔ 

کرک کو یوٹا کی ایک یونیورسٹی میں تقریر کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

ٹرمپ نے مزید کہا ’اس کے بہت قریبی شخص نے اسے حکام کے حوالے کیا۔‘ صدر نے بتایا کہ انہیں اس بارے میں ٹی وی پر لائیو جانے سے صرف پانچ منٹ قبل بتایا گیا۔

سی این این نے الگ رپورٹ میں کہا کہ حراست میں لیے گئے شخص نے اپنے والد کے سامنے اعتراف کیا، جنہوں نے اسے حراست تک اپنے پاس رکھا۔

کرک کے قاتل کی تلاش میں 20 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں ایجنٹس شامل تھے۔ 

31 سالہ کرک نوجوانوں میں ٹرمپ کی حمایت کو بڑھانے میں سرگرم تھے۔

جمعرات کو جاری تصاویر میں ایک شخص دیکھا گیا جو کنورس جوتے، سیاہ بیس بال کیپ، دھوپ کے چشمے اور جینز کے ساتھ لمبی بازو والی شرٹ پہنے ہوئے تھا، جس پر امریکی پرچم کا ڈیزائن تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائر کرنے والے نے چھت سے تقریباً 200 یارڈ (180 میٹر) دور سے گولی چلائی، جو کرک کو گردن میں لگی۔

ویڈیو میں دیکھا گیا کہ مشتبہ شخص چھت پر دوڑتا ہے، پھر زمین پر کودتا ہے اور کیمپس سے باہر کچھ درختوں کی جانب چلا جاتا ہے — وہیں ہائی پاور بولٹ ایکشن رائفل برآمد ہوئی۔

یوٹا کے گورنر سپنسر کاکس نے کہا کہ ریاست اس کیس میں موت کی سزا دلوانے کی پوری کوشش کرے گی۔

صدر ٹرمپ نے اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ’میں امید کرتا ہوں کہ اسے موت کی سزا دی جائے گی۔‘

کرک کے تابوت کو ان کے آبائی شہر فینکس لے جایا گیا، جس کے لیے نائب صدر جے ڈی وینس کا سرکاری طیارہ استعمال کیا گیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

’حماس کے بغیر فلسطینی ریاست:‘ جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے اعلامیے کی توثیق

جمعہ ستمبر 12 , 2025
Share اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے جمعے کو بھاری اکثریت سے ایک اعلامیے کی توثیق کی ہے جس میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کے لیے ’عملی، وقت کے پابند اور ناقابل واپسی اقدامات‘ پر زور دیا گیا ہے۔ سات صفحات پر مشتمل اعلامیہ جولائی میں […]

You May Like