’آسمان گرا اور ہم سیلاب میں پھنس گئے:‘ بارش کے دو دن بعد بھی کراچی متاثر

Share

کراچی میں آٹھ سے 10 ستمبر تک ہونے والی شدید بارشوں سے شہر کے کئی نشیبی علاقے متاثر ہوئے، جن میں سکیم 33 اور سعدی ٹاؤن نمایاں ہیں۔

بارش کا سلسلہ رکنے کے دو دن بعد بھی متاثرہ علاقوں میں پانی جمع ہے۔

سعدی ٹاؤن کے متعدد بلاکس میں پانی کھڑا ہے اور بیشتر رہائشیوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کے لیے پانی سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

سعدی ٹاؤن کے بلاک تین، بلاک دو اور بلاک سات میں گندے پانی کی صورتحال برقرار ہے، اگرچہ پانی کی سطح میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔

ندی نالوں اور سیوریج کے پانی نے سڑکوں اور گلیوں کی شناخت مٹا دی ہے اور کئی جگہ کیچڑ پھیلا ہوا ہے۔

سعدی ٹاؤن بلاک تین کے رہائشی محمد شارق حسین بتاتے ہیں کہ نو ستمبر کی بارش نے ان کے گھر میں تین فٹ تک پانی بھر دیا۔

انہوں نے کہا ’ہم نے 2010، 2015 اور 2022 کے سیلاب دیکھے، لیکن 2025 کا سیلاب ناقابل فراموش ہے۔

’میں اپنے معزور والد کو سنبھالتا، بیوی اور بچوں کے ساتھ گھر کا سامان بچاتا، صوفہ سیٹ، فریج، الماری اور بیڈ روم تک پانی میں ڈوب گئے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پانی کے ٹینک میں نالے اور سیوریج کا پانی شامل ہو گیا اور بیت الخلاء ابل پڑا، اور ہم بے بسی کی تصویر بن گئے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’بجلی، گیس اور پینے کے پانی کی عدم دستیابی نے رہائش مشکل بنا دی۔ گلی میں چھ فٹ پانی کے سبب قدم بڑھانا ممکن نہیں ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ‘آسمان گرا اور ہم سیلاب میں پھنس گئے۔‘‘

بلاک تین کے ایک اور رہائشی محمد اذان بتاتے ہیں کہ اگرچہ ان کے گھر سے پانی نکل گیا ہے لیکن صفائی کا عمل اب بھی جاری ہے۔

’تعفن پھیل چکا ہے اور گلیاں اب بھی گزرنے کے قابل نہیں۔‘

سماجی کارکن اور سعدی ٹاؤن میں 13 برس سے مقیم معاذ بن ضیا بتاتے ہیں ’یہ چوتھی مرتبہ ہے جب ہم ایسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ موسلادھار بارش اور ندی نالوں کے ابلنے کے بعد پورا علاقہ بند ہے۔

’ لوگ گھروں میں قید ہیں اور گلیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں، کہاں گٹر ہے اور کہاں گڑھا، معلوم نہیں۔‘

معاذ کے مطابق سعدی ٹاؤن میں تقریباً چار سے پانچ ہزار گھر ہیں اور آبادی کا تخمینہ آٹھ ہزار کے قریب ہے۔

’اس صورتحال میں اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کتنے لوگ براہِ راست متاثر ہیں اور کتنی زندگیاں چند گھنٹوں کی بارش نے الٹ پلٹ دی ہیں۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ’درد شینا‘ کے ورثے کو بچانے کی منفرد کوشش

اتوار ستمبر 14 , 2025
Share انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شمال میں واقع وادی گریز اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ منفرد ’درد شینا‘ ثقافت کے لیے بھی مشہور ہے۔ مقامی رہائشی بشیر احمد ٹیرو نے اس ثقافت کے تحفظ کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر کو […]

You May Like