امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے ایک معاہدے کے بہت قریب ہے جو ’پورے خطے میں امن‘ لائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو اوول آفس میں کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک ایسا معاہدہ کرنے کے بہت قریب ہیں جو خطے میں امن لائے گا۔‘
انہوں نے بتایا کہ امریکی مذاکراتی ٹیم بھی مصر میں جاری مذاکرات میں شریک ہیں۔
وہائٹ ہاؤس کے مطابق، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کُشنر بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’ایک حقیقی موقع ہے کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن ممکن ہے، یہ صرف غزہ کی صورت حال سے بھی آگے کی بات ہے۔ ہم فوری طور پر تمام یرغمالیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا ’ہماری ایک ٹیم اس وقت وہاں موجود ہے، ایک اور ٹیم ابھی روانہ ہوئی ہے اور تقریباً دنیا کے ہر ملک نے اس منصوبے کی حمایت کی ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا تو امریکہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ تمام فریق معاہدے پر عمل کریں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں 20 نکات پر مبنی ایک غزہ امن منصوبہ پیش کیا ہے جس کی پاکستان سمیت متعدد ممالک نے حمایت کی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ میں گذشتہ دو سالوں سے جاری جنگ میں ہزاروں فلسطینی جاں سے گئے ہیں اور پورا علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔
اس جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کو اب تک کے سب سے امید افزا مذاکرات قرار دیا جا رہا ہے۔
اوول آفس میں موجود صحافیوں کی جانب سے جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکہ اس معاہدے کے لیے کون سی سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرے گا، تو ٹرمپ نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ’ہم ہر ممکن کوشش کریں گے، ہمارے پاس طاقت ہے اور ہم پوری کوشش کریں گے کہ تمام فریقین معاہدے پر عمل کریں۔‘

