پاکستان، سعودی عرب کا غزہ امن منصوبے پر اتفاق کا خیر مقدم

Share

پاکستان اور سعودی عرب نے جمعرات کو غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق پر خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے دو سالہ تباہ کن جنگ کے بعد جامع امن کی راہ ہموار ہو گی۔

اسرائیل اور حماس نے مصر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں جمعرات کو غزہ کی جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا، جس میں قیدیوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ غزہ میں امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں امید کا اظہار کیا کہ ’یہ اہم قدم انسانی مصائب کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات، مکمل اسرائیلی انخلا، امن و استحکام کی بحالی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور جامع امن کے لیے عملی اقدامات کے آغاز‘ کا باعث بنے گا۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اسرائیل اور حماس کے درمیان اتفاق کو پائیدار امن قائم کرنے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا تھا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے  ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ’غزہ میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کے اعلان نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کا ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔‘

انہوں نے صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن منصوبے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کی قیادت، مکالمے اور مذاکرات کے پورے عمل میں ان کی کوششیں عالمی امن کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شہباز شریف نے اس معاہدے تک پہنچے میں قطر، مصر اور ترکی کے رہنماؤں کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی سراہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرائیل اور حماس کے درمیان امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق پر کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ غزہ میں تمام قیدی، جن میں وفات پا جانے والے قیدیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں، ’پیر کو واپس آ جائیں گے۔‘

 دوسری جانب قطر نے کہا کہ یہ معاہدہ ’غزہ کی جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے، جو جنگ کے خاتمے، اسرائیلی اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور امداد کی آمد کی طرف لے جائے گا۔‘

پاکستان کے وزیراعظم نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ ’ہمیں فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے، جنہوں نے بے مثال تکالیف برداشت کی ہیں، ایسی تکالیف جو کبھی دوبارہ نہیں دہرائی جانی چاہییں۔‘

انہوں نے مسجد اقصیٰ میں حالیہ اشتعال انگیزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’دنیا کو چاہیے کہ قابض قوتوں اور غیر قانونی آبادکاروں کو جوابدہ ٹھہرائے اور ان اقدامات کو روکے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کی عظیم کاوشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا کہ ’ہم اپنے شراکت داروں، دوستوں اور برادر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے تاکہ فلسطینی عوام کے لیے امن، سلامتی اور وقار ان کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔‘

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی حماس اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے پہلے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ’فوری جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی اور غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔ ہم صدر ٹرمپ، قطر، مصر اور ترکیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔‘

ایکس پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا: ’ہمیں امید ہے کہ یہ معاہدہ مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کا باعث بنے گا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف کا اعادہ کرتا ہے کہ فلسطین کی ایک آزاد ریاست قائم کی جائے، جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ڈرائیونگ لائسنس نہ ہونے پر فوری مقدمہ درج نہ کیا جائے: ہائی کورٹ

ہفتہ اکتوبر 11 , 2025
Share اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کو ہدایت کی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والے کسی شہری کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج نہ کیا جائے بلکہ لائسنس نہ دکھانے کی صورت میں پہلے جرمانہ کیا جائے۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد حمزہ […]

You May Like