ضلع کرم: سرحد پر افغانستان کی بلااشتعال فائرنگ، پاکستان کی جوابی کارروائی، سکیورٹی ذرائع

Share

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے منگل کی رات بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں افغان طالبان اور ’فتنہ الخوارج‘ نے پاکستان افغانستان سرحد پر ’بلااشتعال فائرنگ‘ کی، جس کا ’بھرپور‘ جواب دیا گیا۔  

افغانستان نے نو اکتوبر کو کابل میں ہونے والے دھماکوں کے جواب میں دونوں ملکوں کے درمیان سرحد ڈیورنڈ لائن پر 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب دیر گئے کئی مقامات پر حملے کیے تھے، جن میں دونوں طرف جانی اور انفراسٹرکچر کا نقصان ہوا۔  

پاکستان فوج کے مطابق افغانستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں اس کے 23 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 29 زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ افغان طالبان اور انڈیا کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نے پاکستان-افغانستان سرحد پر بلااشتعال حملہ کیا، جس کا مقصد پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ’عدم استحکام اور دہشت گردی کو فروغ‘ دینا تھا۔

بیان کے مطابق پاکستان فوج نے طالبان کی سرحد پار متعدد پوسٹس، کیمپس اور تربیتی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے 21 ٹھکانے عارضی طور پر قبضے مییں لیے اور ’دہشت گرد کیمپ‘ تباہ کر دیے۔

افغانستان کی جانب سے منگل کے حملوں سے متعلق سکیورٹی ذرائع ے بتایا کہ پاکستان فوج کی جوابی فائرنگ سے سرحد کے اس جانب طالبان کی پوسٹوں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ وہاں کئی جگہوں پر آگ بھی بھڑک اٹھی۔

ضلع کرم میں سرحد پر ہونے والی جھڑپوں کی پاکستان ٹیلی ویژن پر چلنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغان طالبان کی پوزیشنوں پر گولہ باری جاری ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستانی پھینکے گئے گولے سرحد پار پہاڑی چوٹی پر قائم ایک مورچے کو اڑا دیتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستانی فوج کی فائرنگ سے افغان طالبان کا ایک ٹینک بھی تباہ ہوا۔ 

دوسری طرف ضلع کرم کے بڑے شہر پاڑا چنار کے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر میر حسن جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرم بارڈر پر تازہ ترین جھڑپوں کے بعد ہسپتال میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ 

تاہم ڈاکٹر میر حسن کے مطابق ابھی تک کسی زخمی کو نہیں لایا گیا ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بابائے طب بو علی سینا

منگل اکتوبر 14 , 2025
Share بخارا، ازبکستان (ترکستان) کا مشہور تاریخی شہر ہے۔ اس کے ایک نواحی قصبے افشنہ میں صفر 370ھ/ اگست 980ء میں عبداللہ ابن سینا کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام حسین رکھا گیا۔ یہی حسین بن عبد اللہ بڑا ہو کر اپنے دادا سینا کی نسبت سے […]

You May Like