دہلی دھماکے کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے: مودی

Share

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ دہلی میں ہونے والے کار دھماکے کے پیچھے ملوث تمام افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دھماکہ پیر کی شام دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب ہوا جس میں کم از کم آٹھ افراد کی اموات اور 20 زخمی ہوئے، یہ تین کروڑ سے زیادہ آبادی والے انڈین دارالحکومت میں 2011 کے بعد پہلا بڑا دھماکہ ہے۔

بھوٹان کے دارالحکومت تھیمفو میں ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا نریندر مودی نے کہا: ’ہماری ایجنسیاں اس سازش کی تہہ تک پہنچیں گی اور سازش کرنے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ یہ واقعہ سب کے لیے بہت افسوسناک ہے اور حکومت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے تاکہ ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی منگل کو کہا کہ واقعے کی تحقیقات تیز اور مکمل ہو رہی ہیں اور نتائج جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

واقعے میں زخمیوں کے رشتہ دار لوک نائیک ہسپتال کے باہر جمع ہوئے تاکہ اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔

ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجہ بانتیا نے بتایا کہ پولیس نے دھماکے کی تحقیقات اینٹی ٹیررازم قانون، دھماکہ خیز مواد کے قانون اور دیگر فوجداری قوانین کے تحت شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ابھی اس پر تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔‘

منگل کو دھماکے کے مقام کے قریب واقع مارکیٹ اور سیاحتی علاقوں میں اکثر دکانیں بند رہیں اور فارنزک ماہرین نے جائے وقوع کی تفتیش جاری رکھی۔

دہلی میٹرو نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ریڈ فورٹ سٹیشن بند کر دیا۔ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب ایک سست رفتار گاڑی ٹریفک سگنل پر رکی تھی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ دھماکہ پرانے شہر کے مصروف بازار میں ہوا، جس سے کئی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور دکانوں کو نقصان پہنچا۔ دہلی میں سخت سکیورٹی کے باوجود یہ پہلا ایسا بڑا دھماکہ ہے جس نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

بھارتی کرائم سین کے تفتیش کار منگل کی صبح کار کے ملبے میں شواہد تلاش کرتے ہوئے دیکھے گئے۔

اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے دھماکے کی مقام سے بتایا کہ پولیس نے گاڑیوں کی جلی ہوئی باقیات کے گرد سفید چادریں لگا دی ہیں۔

فرانزک اور انسداد دہشت گردی دونوں ایجنسیاں شواہد تلاش کر رہی ہیں جبکہ دہلی میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

انڈین حکام کے مطابق واقعے کے بعد انڈیا بھر کے بڑے ریلوے سٹیشنوں، مالیاتی مرکز ممبئی اور دہلی سے متصل ریاست اترپردیش میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ’تمام پہلوؤں‘ سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور سکیورٹی ادارے جلد نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق کار کے ایک سابق مالک کو، جس کا نام صرف سلمان بتایا گیا ہے، دھماکے کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

وائٹ ہاؤس میں ’تاریخی ملاقات‘ کے بعد شام داعش مخالف اتحاد میں شامل

منگل نومبر 11 , 2025
Share صدر احمد الشرع کی وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تاریخی ملاقات کے چند گھنٹے بعد شام  نےعالمی شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ 43  سالہ احمد الشرع کا اوول آفس کا یہ دورہ اس وقت ہوا جب […]

You May Like