بی بی سی پر پانچ ارب ڈالرز تک کا مقدمہ اگلے ہفتے: ٹرمپ

Share

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ آئندہ ہفتے بی بی سی کے خلاف پانچ ارب ڈالر تک ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے امریکی صدر کی تقریر کی ویڈیو کو غلط ایڈٹ کیا۔ تاہم ادارے کا اصرار ہے کہ امریکی صدر کے ہرجانے کے دعوے کے لیے کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

بی بی سی کو گذشتہ کئی دہائیوں کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے اور اس کے دو بڑے عہدے دار جانبداری کے الزامات کے بعد مستعفی ہو چکے ہیں۔ اس بحران میں چھ جنوری 2021  کو ٹرمپ کی اس تقریر کی ایڈیٹنگ کے حوالے سے الزام بھی شامل ہے جب ان کے حامیوں نے امریکی کانگریش کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔

ٹرمپ کے وکلا نے ابتدا میں بی بی سی کو جمعے تک کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنی دستاویزی فلم واپس لے، ورنہ اس کے خلاف ’کم از کم‘ ایک ارب ڈالر کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ ایک خط کے مطابق جسے روئٹرز نے دیکھا، انہوں نے اس بات پر معافی اور معاوضے کا مطالبہ بھی کیا جسے انہوں نے ’شدید ساکھ اور مالی نقصان‘ قرار دیا۔

بی بی سی، جس نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ٹرمپ کے بیان کی ایڈیٹنگ اس کا ’غلط فیصلہ‘ تھی، نے جمعرات کو ٹرمپ سے ذاتی طور پر معذرت کی، لیکن کہا کہ وہ اس دستاویزی فلم کو دوبارہ نشر نہیں کرے گا اور ہتک عزت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ویک اینڈ کے لیے فلوریڈا جاتے ہوئے ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ان پر ایک سے پانچ ارب ڈالر تک کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کریں گے، غالباً اگلے ہفتے کے کسی وقت۔‘

انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے مجھے یہ کرنا ہی ہوگا۔ میرا مطلب ہے انہوں نے خود تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے گڑ بڑ کی۔ انہوں نے میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ ہی بدل دیے۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر سے، جن کے ساتھ وہ مضبوط تعلق بنا چکے ہیں، اس معاملے پر بات نہیں کی لیکن ان کا ارادہ ہے کہ اس ویک اینڈ انہیں فون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سٹارمر نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اس واقعے پر وہ ’بہت شرمندہ‘ تھے۔

بی بی سی کے ممتاز ترین نیوز پروگرام ’پینوراما‘ میں نشر ہونے والی اس دستاویزی فلم میں ٹرمپ کی تقریر کے تین ویڈیو حصوں کو جوڑ کر یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ وہ چھ جنوری 2021 کو حامیوں کو فساد پر اکسا رہے تھے۔ ان کے وکلا نے اس دستاویزی فلم کو ’جھوٹی اور ہتک آمیز‘ قرار دیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

غزہ منصوبہ: پاکستان، دیگر ممالک کا یو این سے قرارداد کی جلد منظوری پر زور

ہفتہ نومبر 15 , 2025
Share پاکستان، امریکہ اور متعدد عرب اور مسلم اکثریتی ممالک نے، جن میں مصر، سعودی عرب اور ترکی شامل ہیں، جمعے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی توثیق کرنے والی امریکی قرارداد کو جلد از جلد […]

You May Like