انڈیا کی جانب سے فضائی راستہ بند، پاکستان کا سری لنکا امدادی آپریشن متاثر

Share

پاکستان نے سری لنکا میں حالیہ تباہ کن سمندری طوفان ’ڈٹوہ‘ کے بعد جاری انسانی ہمدردی کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے انڈیا کے رویے پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھیجی جانے والی ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کو انڈین فضائی حدود نہ دینے پر اسلام آباد نے اس اقدام کو ’اخلاقی تقاضوں کے منافی‘ اور ’انسانی جانوں سے کھیلنے‘ کے مترادف قرار دیا ہے۔

رواں سال مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے کے طیاروں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان فضائی حدود کی ان پابندیوں میں مسلسل توسیع سے قبل دونوں جوہری طاقتیں سات مئی کو کشمیر میں ایک شدت پسند حملے کے بعد انڈیا کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں مکمل جنگ کے دہانے پر آ گئی تھیں۔

پی ٹی وی کے مطابق انڈین حکومت نے فضائی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سری لنکا بھیجے جانے والے ریسکیو اور ریلیف مشن میں تاخیر پیدا کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں 28 نومبر کو آنے والے سمندری طوفان ڈٹوہ نے زبردست تباہی پھیلائی، درجنوں افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئی۔

اس دوران پاکستان بحریہ کا بحری جہاز پی این ایس سیف، جو کولمبو میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2025 کے سلسلے میں پہلے سے موجود ہے، امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور عوام نے اس مشکل وقت میں سری لنکا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایات دی ہیں۔

پاکستان کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور فضائیہ کے تعاون سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کے لیے تیار تھی تاہم انڈین فضائی حدود کی بندش کے بعد یہ مشن سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے 100 ٹن امدادی سامان تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے بھیجنے کی کوشش بھی کی، مگر یہ پروازیں بھی انڈین فضا کے راستے کی پابندی کے باعث تاخیر کا شکار ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی کھیپ کو اب متبادل طویل بحری راستہ اختیار کرنا پڑے گا جس کے ذریعے سامان تقریباً آٹھ دن میں سری لنکا پہنچے گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ’تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان سری لنکا کے سیلاب متاثرین کی مدد جاری رکھے گا اور انڈیا کا یہ قدم انسانی ہمدردی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

دوسری جانب، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی اس وقت قدرتی آفات سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انڈونیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ تینوں ممالک میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ انڈونیشیا کے صدر پروباؤو سبیانتو نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا میں اب تک 218,000 سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں حکومت متاثرین کو ہنگامی امداد اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق خطے میں جاری اس ’بڑے انسانی بحران‘ کے پیش نظر انڈیا کی جانب سے فضائی حدود کی بندش غیر ذمہ دارانہ اور افسوسناک ہے، جو براہ راست انسانی جانوں اور بروقت امداد کی فراہمی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مریخ پر بھی چمن، خان پور اور مستونگ سمیت 11 پاکستانی مقامات موجود ہیں

پیر دسمبر 1 , 2025
Share آپ نے تو بلوچستان میں چمن اور مستونگ جیسے شہروں کے نام سنے ہوں گے لیکن چمن اور مستونگ سمیت گیارہ پاکستانی شہر اور مقامات 22 کروڑ کلومیٹر دور کسی دوسرے سیارے پر موجود ہیں۔ جی یہ سیارہ ہے مریخ۔ ایک چمن مریخ پر بھی موجود ہے جہاں سے […]

You May Like