اسرائیل کے مددگار اور حماس مخالف ياسر ابو شباب ہلاک

Share

اسرائیل کی آرمی ریڈیو نے جمعرات کو سیکورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ میں حماس مخالف ملیشیا کے لیڈر ياسر ابو شباب جنوبی اسرائیل کے ایک ہسپتال میں زخموں کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

 

خبر رساں ایجنسی روئٹزر کے مطابق رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کب مرے یا ان کے زخمی ہونے کی مزید تفصیلات کیا ہیں۔

 

حماس کے غزہ میں ترجمان نے کہا کہ تنظیم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔ دیگر اسرائیلی حکام نے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

 

ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق مقامی میڈیا نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے اور ملیشیا کے رہنما یاسر ابو شباب کو حماس نے سب سے زیادہ مطلوب شخص قرار دیا ہوا تھا۔

 

کچھ اطلاعات کے مطابق وہ ایک گھات میں مارے گئے جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی ہی ملیشیا کے ایک رکن نے یا اندرونی جھڑپوں کے دوران گولی لگی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بتایا جاتا ہے کہ وہ جنوبی غزہ پٹی کے علاقے رفح میں مارے گئے جو اس وقت مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

ابو شباب پر الزام تھا کہ انہوں نے دو سالہ غزہ پر جاری نسل کش جارحیت کے دوران اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا، امدادی سامان لوٹا اور فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ حماس کے جنگجوؤں کو بھی قتل یا اغوا کیا۔

 

بدنام زمانہ مجرم کو اسرائیلی افواج کی جانب سے اسلحہ اور فضائی تحفظ فراہم کیا جاتا تھا۔

 

ملیشیا لیڈر بننے کے بعد وہ مشرقی رفح سے کارروائیاں کرتے تھے، جو مکمل طور پر اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔

 

ان کی ہلاکت کی خبروں کے بعد غزہ میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، مٹھائیاں بانٹیں اور ہوائی فائرنگ کرکے جشن منایا۔

 

حماس کی سکیورٹی فورسز نے اس سے قبل انہیں ڈھونڈ نکالنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

اسرائیلی فوج کے غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد موجود ہیں، انتونیو گوتریس

جمعہ دسمبر 5 , 2025
Shareاقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غلط قرار دیا۔ برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حماس کے خاتمے کے نام پر جو آپریشن شروع کیا اس کے […]

You May Like