داعش کا رکن پاکستان، افغانستان سرحدی علاقے سے گرفتار: ترک میڈیا

Share

ترکی کی نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) نے ایک کارروائی میں عسکریت پسند تنظیم داعش کے نام نہاد سینیئر رکن مہمت گورین کو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا ہے۔

ایم آئی ٹی نے ترک نیوز ایجنسی انادولو کو بتایا ہے مہمت گورین کا کوڈ نام یحییٰ تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ کارروائی کب کی گئی تھی اور کیا پاکستان یا افغانستان کی فورسز نے اس میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق مہمت نے داعش کے کیمپوں میں فعال کردار ادا کیا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ ایک نام نہاد منتظم کے عہدے تک بھی پہنچے تھے۔

مہمت کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہیں خودکش حملے کرنے  کی ذمہ داریی سونپی گئی۔

ترک انٹیلی جنس حکام نے بتایا ہے کہ مہمت گورین نے افغانستان، پاکستان، ترکی اور یورپ میں مقیم شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے خودکش حملے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

ایم آئی ٹی کا کہنا ہے کہ مہمت ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں منتقل ہو گئے تھے جہاں وہ داعش کے خلاف کیے گئے فضائی حملوں میں بچ گئے تھے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہمت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک مشتبہ شخص اوزگور التون کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے، جن کا کوڈ نام ابو یاسر الترکی ہے۔ اوزگور نے داعش کے کئی عسکریت پسندوں کو ترکی سے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے منتقل کرنے میں فعال کردار ادا کیا تھا۔

اوزگور بھی پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیے گئے تھے جنہیں ترکی منتقل کر دیا گیا۔

مہمت کی گرفتاری سے متعلق پاکستان کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

 

ISIS-K نے حالیہ برسوں میں افغانستان، پاکستان اور اس سے باہر کئی خطرناک حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جن میں زیادہ تر عام شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مارچ 2024 میں، اس گروپ سے وابستہ عسکریت پسندوں نے ماسکو میں ایک کنسرٹ ہال پر حملہ کیا، جس میں 140 سے زائد افراد مارے گئے۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اس گروپ نے افغانستان اور پاکستان میں بھی مہلک حملے کیے ہیں۔

ایک سینیئر پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار نے گذشتہ جمعہ کو کہا کہ انہوں نے سلطان عزیز اعظم، میڈیا منیجر اور داعش کی ایک شاخ کے ترجمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

ایک پاکستانی انٹیلی جنس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا، ’وہ صرف ایک ترجمان ہی نہیں تھا، بلکہ خطے میں گروپ کا ایک سینیئر رہنما بھی تھا۔‘

حالیہ برسوں میں، ترکی نے داعش کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی انٹیلی جنس اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے، خاص طور پر جو گروپ کی خراسان شاخ سے منسلک ہیں۔

انادولو کے مطابق انٹیلی جنس مانیٹرنگ کے بعد ترک انٹیلی جنس ایجنسی نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں مہمت گورن کے ٹھکانے کا پتہ لگایا اور اسے گرفتار کرنے کے بعد ترکی منتقل کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، گورین کی مدد اوزگر نے بھی کی، جسے ’ابو یاسر التون‘ بھی کہا جاتا ہے۔ التون کو اس سے قبل ترکی سے مسلح افراد کو خطے میں لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت نے ابھی تک ترک خفیہ ایجنسی کے آپریشن پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اس آپریشن میں اس کے کردار کے بارے میں معلومات ظاہر کی ہیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سرحدی کشیدگی: پاک، افغان تجارت معطل، ہزاروں تاجر بھی پھنس گئے

منگل دسمبر 23 , 2025
Share رواں سال اکتوبر سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے بعد مشترکہ سرحد جہاں تجارت کے لیے مکمل طور پر بند ہے وہیں دونوں ممالک کے سینکڑوں تاجر اور مزدور بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ان پھنسے تاجروں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں جس سلسلے میں چمبر […]

You May Like