بجلی کی ترسیل کی نیلامی: کابینہ کمیٹی کی رہنما اصولوں کی منظوری

Share

وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کی ترسیل میں شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی غرض سے وہیلنگ چارجز کی نیلامی کے لیے فریم ورک کے رہنما اصولوں کی منظوری دے دی ہے۔ 

وہیلنگ سے مراد ایک جنریٹر سے خریدار تک بجلی پہنچانے کے لیے قومی بجلی کے گرڈ کا استعمال ہے۔ بڑی فیکٹریاں یا کمپنیاں براہ راست پروڈیوسر سے بجلی خرید سکتی ہیں، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے انہیں گرڈ کی تاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ان تاروں کو استعمال کرنے کے لیے جو فیس ادا کرتے ہیں اسے وہیلنگ اور گرڈ چارجز کہا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں ایوان وزیر اعظم سے بدھ کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی نے مسابقتی تجارتی دو طرفہ معاہدہ ماڈل کے تحت 800 میگاواٹ بجلی کی ’وہیلنگ‘ کی نیلامی کے لیے فریم ورک گائیڈ لائنز کی منظوری دی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں پبلک سیکٹر میں بجلی کی پیداواری صلاحیت کی مستقبل کی خریداری کو ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور انٹیگریٹڈ انرجی پلاننگ (ّئی ای پی) کے لیے وفاقی اور صوبائی بیوروکریٹس کی 18 رکنی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ بجلی، تیل، گیس اور دیگر توانائی کی منصوبہ بندی کو ایک مربوط قومی نقطہ نظر کے تحت لانے کے لیے زور دے گی۔

اجلاس نے تمام متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ اس شعبے کے لیے ایک قابل عمل اور مربوط حکمت عملی تیار کرنے کے لیے قریبی رابطہ کاری سے کام کریں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی توانائی پلان کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد میں معاونت کے لیے ایک سیکرٹریٹ کے قیام کی بھی منظوری دی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ قومی توانائی پلان میں صنعتوں کو کم سے کم لاگت پر بجلی کی فراہمی کو ترجیح دینا چاہیے، جبکہ گھریلو صارفین کے لیے بہتر سہولت کو یقینی بنانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی، وزارت خزانہ، وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت پٹرولیم کی سفارشات کو مجوزہ پالیسی میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جائے۔ 

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے پاور ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی نجکاری کے عمل کو تیز اور مؤثر طریقے سے مکمل کرنے کے لیے خصوصی ہدایات بھی جاری کیں۔

وزیر اعظم نے نوٹ کیا کہ بجلی کی ترسیل کے نظام میں اصلاحات نے واضح پیش رفت کی ہے۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ اداروں اور وزارتوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی نے ملک بھر میں گھریلو اور صنعتی بجلی صارفین دونوں کے لیے خدمات کو بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ ملک کی صنعتی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے صنعتوں کو مسابقتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جانی چاہیے۔

لاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیشنل انرجی پلان کی تشکیل کے لیے تمام وزارتوں سے ابتدائی مشاورت جاری ہے۔ 

 


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

تحریک انصاف 2026 میں کوئی سیاسی راستہ نکال پائے گی؟

جمعرات دسمبر 25 , 2025
Share سینیئر سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت تحمل کا مظاہرہ کرے اور مذاکرات کی میز کو ترجیح دے تو اعلی عدالتوں سے نہ صرف نو مئی مقدمات میں ملنے والی سزائیں ختم ہوسکتی ہیں بلکہ ایوانوں […]

You May Like