سرینا ہوٹل سوات کے 40 سال بعد بند ہونے کی وجہ کیا؟

Share

پاکستان میں سرینا ہوٹلز نے 31 دسمبر کو اعلان کیا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں قائم سرینا ہوٹل کو 40 سال سے زائد خدمات کے بعد نئے سال کے پہلے دن سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سرینا ہوٹلز کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق انتظامیہ ان تمام افراد کی شکر گزار ہے جنہوں نے سرینا کے پاکستان میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص سیاحت کے فروغ کے مشن میں ساتھ دیا۔

نوٹس کے مطابق ’سوات کا چیپٹر بند ہوگیا لیکن سرینا ایشیا اور افریقہ میں قائم 33 ہوٹلز میں آپ کو ہمیشہ خوش آمدید کہتے ہیں۔‘

سرینا ہوٹل سوات کے پر فضا مقام سیدو شریف میں واقع ہے جو سوات کی سیاحت میں ایک اہم جز سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس ہوٹل کا تاریخی پس منظر بھی ہے۔

ہوٹل کا قدرتی حسن، گھنے اور بڑے بڑے درخت اور طرزِ تعمیر ہمیشہ سیاحوں کی توجہ مبذول کرواتا رہا ہے۔

ہوٹل کی تاریخ کیا ہے؟

وادی سوات کے مرکزی شہر مینگورہ میں قائم سرینا ہوٹل کی عمارت میں قائم تاریخی بلاک ’وزیر ہاؤس‘ 1936 میں تعمیر کیا گیا تھا جو اس وقت ریاست سوات کے وزیر کا دفتر ہوا کرتا تھا۔

اس کے بعد اس کو ریاست سوات کے سرکاری مہمان خانے کا درجہ دیا گیا اور بعد میں سوات ہوٹل میں تبدیل ہوگیا جس میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ ٹو اور ڈیوک آف ایڈنبرا نے بھی قیام کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوٹل کی 44 کنال سے زائد زمین پر 1961 میں نئے بلاک کی تعمیر کی گئی اور وزیر ہاؤس کو 2014 میں ہوٹل کا حصہ بنایا گیا جو آج بھی قائم ہے۔

یہ عمارت 1985 تک سوات ہوٹل تھی اور 1985 میں سرینا انتظامیہ نے ہوٹل کو 30 سال کی لیز پر لے لیا جو 2015 تک ان کے پاس تھا لیکن بعد میں لیز میں توسیع دی گئی تھی لیکن اب لیز کا دورانیہ ختم ہو گیا ہے۔

خیبر پختونخوا محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل حبیب عارف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سرینا کے ساتھ لیز کا دورانیہ ختم ہوگیا اور سرینا مزید لیز کی توسیع نہیں چاہتی۔

حبیب عارف کے مطابق 1985 میں وفاقی حکومت کی جانب سے سرینا انتظامیہ کو 30 سال کے لیے ماہانہ چھ لاکھ روپے لیز پر دیا گیا جو 2015 میں ختم ہوگیا ہے۔

’ہوٹل کا کرایہ اس وقت ماہانہ چار سے پانچ کروڑ روپے بنتے ہیں جبکہ سرینا انتظامیہ پرانے کرائے پر بلڈنگ کو لینا چاہتی ہے۔ مختلف عدالتی مقدمات بھی حکومت نے جیت لیے ہیں۔ لیز کے بغیر اور کوئی وجہ نہیں ہے جبکہ اب دوبارہ ٹینڈر کا اشتہار دیا جائے گا اور ہوٹل کو لیز پر دیا جائے گا۔‘

حبیب عارف نے آمدنی کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے اس 46 کنال پر محیط ہوٹل سے سالانہ 84 سے 85 کروڑ روپے تک آمدنی کا تخمینہ لگایا ہے اور امید ہے اس سے حکومت کو آمدنی حاصل ہوگی۔‘


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

یمن پر سعودی عرب سے مکمل یکجہتی اور مملکت کی سکیورٹی کے عزم کا اعادہ: پاکستان

جمعرات جنوری 1 , 2026
Share پاکستان نے جمعرات کو ایک بار پھر سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی کے لیے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز میں کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت […]

You May Like