وینزویلا پر امریکی حملہ مسلح جارحیت: روس، یورپی ممالک کا اظہار تشویش

Share

روس نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے کر کے اس کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کو ’مسلح جارحیت‘ قرار دے دیا جبکہ یورپی ممالک نے اس کارروائی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکہ نے ہفتے کی صبح وینزویلا پر ایک ’بڑے پیمانے کا حملہ‘ کرتے ہوئے صدر مادورو کو گرفتار کر لیا۔

امریکی کارروائی کے دوران وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور نچلی پرواز کرنے والے طیارے شہر کے اوپر سے گزرے۔ 

صدر مادورو کی حکومت نے امریکی کارروائی کو ’سامراجی حملہ‘ کہتے ہوئے شہری اور فوجی تنصیبات پر حملہ قرار دیا۔ حکومت نے شہریوں سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی ہے۔

امریکی کارروائی ’مسلح جارحیت‘ 

روس کی وزارت خارجہ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان میں امریکی کارروائی کو ’مسلح جارحیت کا عمل‘ کا قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’وینزویلا کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی تقدیر خود طے کرے، کسی بھی بیرونی مداخلت، خصوصاً فوجی مداخلت کے بغیر۔‘

وزارت نے مزید کہا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے مکالمہ ضروری ہے۔

روس نے وینزویلا کی حکومت اور عوام کے ساتھ ’یکجہتی‘ کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

دنیا بھر سے ممالک کا اظہار تشویش

یورپی یونین، ایران، برطانیہ، اسپین اور دیگر ممالک نے وینزویلا کی صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ نکولس مادورو کو قانونی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے ضبط اور بین الاقوامی قانون کی پابندی کی اپیل کی۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ جب دشمن زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف ڈٹ جانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دشمن کے سامنے نہیں جھکے گا اور عوام کی حمایت اور خدا پر بھروسے سے دشمن کو شکست دی جائے گی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسپین کی وزارتِ خارجہ نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپین پرامن اور بات چیت پر مبنی حل کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

برطانیہ کی ریفارم یو کے پارٹی کے رہنما نائجل فراج نے کہا کہ وینزویلا میں امریکی کارروائی غیر معمولی اور بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے، تاہم اگر اس سے چین اور روس محتاط ہو جائیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

برطانوی تھنک ٹینک چیتھم ہاؤس کے ماہر مارک ویلر نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت طاقت کا استعمال صرف مخصوص حالات میں جائز ہے اور وینزویلا کے خلاف کارروائی ان شرائط پر پوری نہیں اترتی۔

انڈونیشیا اور بیلجیئم نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شہریوں کے تحفظ، کشیدگی میں کمی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا ہے۔

جرمنی کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ وینزویلا کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس حوالے سے ایک کرائسس ٹیم ہفتے کو اجلاس کرے گی۔ 

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے بھی وینزویلا میں صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی اور اس کی سفارتی نمائندگی خاص طور پر وہاں موجود اطالوی برادری کی سلامتی پر نظر رکھے روس نے امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے کر کے اس کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کو ’مسلح جارحیت‘ قرار دے دیا جبکہ یورپی ممالک نے اس کارروائی پر تشویش ظاہر کی ہے۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

2026: معیشت بہتر ہو گی یا جمع خرچ ہی چلے گا؟

ہفتہ جنوری 3 , 2026
Share سال 2026 شروع ہو چکا۔ تاریخ بدل گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا معاشی حالات بھی بدلیں گے؟  تاریخ بدلنا آسان ہے مگر حالات بدلنا نہیں۔ تاریخ تو کلینڈر کی ایک سادہ سی تبدیلی ہے مگر عام آدمی کی جیب، کاروباری ماحول اور ملکی معیشت کے لیے یہ تبدیلی […]

You May Like