امریکہ کا ’پاکستان‘ سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کرنے کا اعلان

Share

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کو امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کے تحت ’پاکستان‘ سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی ہے۔

اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ایکس پر ایک سلسلہ وار پوسٹ کی گئی ہے۔

محکمہ خارجہ کے مطابق یہ معطلی 21 جنوری سے نافذ ہوگی اور اس کا اطلاق صومالیہ، ایران، روس، افغانستان، نائجیریا، یمن، تھائی لینڈ اور برازیل سمیت 75 ممالک کے درخواست گزاروں پر ہوگا۔

تاہم اس فیصلے کا اطلاق وزیٹر ویزوں پر نہیں ہوگا۔

پاکستان کا نام ان 75 ممالک میں شامل ہے یا نہیں اس حوالے سے تاحال امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے تو کچھ نہیں بتایا گیا۔

تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور فاکس نیوز کی رپورٹ میں شائع کی جانے والی فہرست میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امیگرنٹ ویزوں کی معطلی سے متعلق میمو، جس کی خبر سب سے پہلے فاکس نیوز نے دی، امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دیتا ہے کہ محکمہ اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینے تک موجودہ قوانین کے تحت ویزے جاری کرنے سے انکار کریں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہ ہے کہ ’محکمہ خارجہ ان 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی کارروائی روک رہا ہے جن کے تارکینِ وطن امریکی عوام کی فلاحی سہولیات سے ناقابلِ قبول حد تک استفادہ کرتے ہیں۔

’یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکہ یہ یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے مہاجرین امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ نہیں بنیں گے۔‘

روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد امیگریشن کے خلاف سخت گیر پالیسیوں پر عمل درآمد تیز کر دیا ہے۔

ان کی انتظامیہ نے بڑے امریکی شہروں میں وفاقی اہلکار تعینات کیے، جس کے نتیجے میں تارکینِ وطن اور بعض امریکی شہریوں کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اب تک 100,000 سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ویزوں کے اجرا کے لیے مزید سخت پالیسیاں اپنائی گئی ہیں، جن میں سوشل میڈیا کی کڑی جانچ پڑتال اور سکریننگ کے دائرۂ کار میں توسیع شامل ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے قریب ایک افغان شہری کی فائرنگ کے واقعے کے بعد، جس میں نیشنل گارڈ کا ایک اہلکار جان سے گیا تھا، تمام ’تیسری دنیا کے ممالک‘ سے مستقل طور پر ہجرت روکنے کا اعلان کرنے کا عندیہ دیا تھا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ٹرمپ کے خاندان سے منسلک کرپٹو کمپنی سے پاکستان کا معاہدہ: رپورٹ

بدھ جنوری 14 , 2026
Share پاکستان نے صدر ٹرمپ کے خاندان سے منسلک کرپٹو کاروبار کی کمپنی ورلڈ لبرٹی فنانشل کی ایک ذیلی فرم سے معاہدے کیا ہے، جس کے تحت سرحد پار ادائیگیوں کے لیے اس کے سٹیبل کوائن کے استعمال کے امکانات کو تلاش کیا جائے گا۔ معاہدہ طے پانے کے عمل […]

You May Like