افغانستان کا اسلام آباد میں جاری ای سی او اجلاس میں شرکت سے انکار

Share

افغانستان میں طالبان حکومت نے کہا ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں جاری اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے قدرتی آفات سے نمٹنے سے متعلق اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پر ای سی او کا 10واں وزارتی اجلاس 21 جنوری کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ہیڈ کوارٹر میں شروع ہوا جبکہ آج (جمعرات کو) اس کا دوسرا اور آخری دن ہے۔  

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیا احمد نے ایک بیان میں کہا کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان کو ای سی او کی جانب سے اسلام آباد میں ہونے والی قدرتی آفات سے متعلق اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، اسلامی امارات نے جائزہ لینے کے بعد، اجلاس میں وفد کی شرکت کو فائدہ مند نہیں سمجھا۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستانی اور ای سی او حکام سے اس متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ 

ای سی او کے اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک بشمول پاکستان، ترکی، آذربائیجان، ایران، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے وفود نے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں کے ہمراہ شرکت کی۔ 

افغانستان بھی ای سی او کا رکن ہے اور 1992 میں اس گروپ میں شامل ہوا تھا۔

اجلاس کا مقصد ای سی او کے پورے خطے میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اجتماعی کوششوں کو تقویت دینا ہے۔

پاکستان کے پریس انفارمیشن دپارٹمنٹ کے مطابق ’اجلاس کے ایجنڈے کے اہم نکات میں قبل از وقت وارننگ سسٹمز، ڈیزاسٹر رسک انفارمیشن مینجمنٹ، لینڈ سلائیڈ ہیزرڈ زوننگ، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پر علاقائی انوویشن ہب کے قیام کے لیے پاکستان کی تجویز، قبل از وقت وارننگ ٹیکنالوجیز، سیٹلائٹ ڈیٹا سٹرکچر، اور پلاننگ شامل ہیں۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پی آئی ڈی نے کہا کہ بات چیت علاقائی ہم آہنگی کو بڑھانے، آفات کے خطرے کو کم کرنے کے فریم ورک کو ہم آہنگ کرنے اور ای سی او کے خطہ کو متاثر کرنے والے سرحدی اور آب و ہوا سے پیدا ہونے والے خطرات کے خلاف اجتماعی تیاری کو مضبوط بنانے پر مرکوز تھی۔

ای سی او کے رکن ممالک جیسے کہ پاکستان، ترکی، افغانستان اور دیگر نے حالیہ برسوں میں سیلاب اور زلزلے جیسی قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے جس میں دسیوں ہزار افراد جان سے گئے ہیں۔

موسلا دھار بارشوں نے 2022 اور 2025 میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب کی وجہ بنیں جس میں ہزاروں اموات ہوئیں اور انفراسٹرکچر کو نقصان بھی پہنچا۔

افغانستان میں بھی گذشتہ سال کے دوران بارشوں، سیلاب،  لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں سے قیمتوں جانوں کے ضیا کے علاوہ انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

اس کے بعد سے اسلام آباد نے علاقائی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ مستقبل میں موسمیاتی آفات سے بچنے کے لیے تعاون کے لیے ہاتھ ملائیں اور مستقبل میں آفات سے بچنے کے لیے قبل از وقت وارننگ سسٹم کو فروغ دیں۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

افغانستان کے ’جہاد‘ میوزیم میں مجسموں کے چہروں پر پلستر

جمعرات جنوری 22 , 2026
Share سابق سوویت یونین کی فوج کے خلاف لڑنے والے ایک افغان آج بھی مزاحمت کا جشن منانے والے میوزیم جاتے ہیں لیکن طالبان حکام کے قوانین کے مطابق میوزیم کے ڈسپلے میں حال ہی میں قابل ذکر تبدیلیاں آئی ہیں۔ 67 سالہ سعدالدین ہر ماہ ’جہاد‘ میوزیم جاتے ہیں، جو مغربی افغانستان میں ہرات کی […]

You May Like