ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا: شیریں مزاری

Share

اسلام آباد پولیس نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو جمعے کو گرفتار کر لیا ہے۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی (این سی آئی اے) 22 اگست کو ایمان مزاری، ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ اور چند دیگر افراد کے خلاف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متنازع پوسٹ اور سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کا مقدمہ درج کیا تھا۔

وفاقی دارالحکومت کی ایک ذیلی عدالت نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر رکھے تھے جس کے خلاف انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا تھا۔

ایمان اور ان کے شوہر گذشتہ تین روز سے اسلام آباد ہائی کورٹ ہی میں مقیم تھے کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ باہر نکلتے ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔

جمعے کو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمان مزاری اسلام آباد ہائی کورٹ سے نکل کر عدالت ہی گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے دکھائی دیں جس کے بعد انہیں پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یمان مزاری اور ان کے شوہر کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

’انہیں گرفتار کر کے الگ الگ گاڑیوں میں بٹھا کر نامعلوم مقامات پر لے جایا گیا ہے، کوئی ایف آئی آر دکھائی گئی۔‘

فوری طور پر پولیس کی طرف سے تاحال اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

اس قبل بھی انہیں اکتوبر میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر ان کو ضمانت پر رہائی ملی۔

Imaan @ImaanZHazir and Hadi @AdvHadiali have been arrested and put in separate cars and taken away to unknown locations – no fir shown and bar sadly could do nothing. Fascism at its peak. Emasculated men in power must be so pleased with this achievement!

این سی آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر ڈالی۔

یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا۔


Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کیا پاکستان فائیو جی سروس کے لیے تیار ہے؟

جمعہ جنوری 23 , 2026
Share ہارون راجہ گذشتہ 26 برس سے فری لانسنگ کر رہے ہیں اور ان کا بیشتر کام انٹرنیٹ پر منحصر ہے۔ انٹرنیٹ فور جی سے ہو یا براڈ بینڈ، انہیں مستحکم اور بلاتعطل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔  ہارون کا کہنا ہے ’اصل مسئلہ صرف انٹرنیٹ کی موجودگی کا نہیں […]

You May Like